ثانیا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ہونے والی اس صلح کے اہم اسباب
علی محمد الصلابی1۔ اللہ کے ہاں موجود اشیاء میں رغبت اور امت کی بہتری و اصلاح کا ارادہ:
جب نفیر حضرمی نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے سامنے کہا کہ لوگوں کا خیال ہے آپ تو خلافت کے خواہش مند ہو۔ تو انہوں نے اس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: عرب کے سرکردہ اور موثر لوگ میری مٹھی میں ہیں، وہ اس سے صلح کریں گے جس سے میں صلح کروں گا اور اس سے جنگ کریں گے جس سے میں جنگ کروں گا، میں نے خلافت کو اللہ کی خوشنودی کے لیے ترک کر دیا ہے۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 206)
2۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے لیے دعا کرنا:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے لیے دعا کی تھی کہ وہ مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں کے درمیان صلح کروائے۔
(بخاری: رقم: 7109)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے دل کی گہرائی میں اتر گئی، ان کے احساسات و مشاعر پر غالب آ گئی اور ان کے رگ و ریشہ میں رچ بس گئی، اس توجیہ کو اپنے قلب و ذہن میں اتارنے کے بعد آپ نے اس پر اپنے اصلاحی پروگرام کی بنیاد رکھی اور اسے مختلف مراحل میں تقسیم کیا جس کے مثبت نتائج کا آپ کو پورا پورا یقین تھا۔ الغرض نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو صلح کے لیے آمادہ کرنے کا اساسی اور مرکزی سبب تھا
3۔ مسلمانوں کے خونوں کو بچانا:
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: مجھے یہ ڈر ہے کہ قیامت کے دن ستر ہزار یا اس سے کم و بیش لوگ اس حال میں آئیں کہ ان کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو اور وہ سب کے سب اللہ سے مدد کے خواست گار ہوں۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 206)
انہوں نے مزید فرمایا: خبردار! اللہ کا امر واقع ہو کر رہے گا اور اسے کوئی روک نہ سکے گا اگرچہ لوگ اسے ناپسند کریں۔ مجھے یہ پسند نہیں کہ میری وجہ سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا معمولی سا خون بھی بہایا جائے۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ میرے لیے نفع بخش کیا ہے اور ضرر رساں کیا۔
(تاریخ دمشق: جلد 14 صفحہ 89)
4۔ وحدت امت کی خواہش:
صلح کے ایک مرحلہ پر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگو! میرے دل میں کسی مسلمان کے خلاف کینہ نہیں ہے۔ میں تمہارے لیے وہی کچھ چاہتا ہوں جو اپنے لیے چاہتا ہوں، میری ایک رائے ہے، اسے ردّ نہ کرنا جس جمعیت کو تم ناپسند کرتے ہو وہ اس تقسیم سے بہتر ہے جسے تم پسند کرتے ہو۔
(الاخبار الطوال صفحہ 200)
پھر انہوں نے لوگوں کو وحدت امت جیسے عظیم مقصد پر تحریص دلائی، سیدنا حسنؓ نے مسلمانوں کے خون بچانے اور ان مفاسد سے بچنے کے لیے خلافت سے دست بردار ہونے کا فیصلہ کر لیا تھا جو مستقبل میں امت کو لاحق ہو سکتے تھے۔ اور یہ کہ اگر وہ اپنے گزشتہ موقف پر ڈٹے رہے تو اس سے فتنہ جاری رہے گا، خون ریزی اور قطع رحمی ہو گی، راستے پرخطر رہیں گے اور سرحدیں غیر محفوظ ہو کر رہ جائیں گی، بحمد اللہ ان کی خلافت سے دست برداری کی وجہ سے وحدت امت متحقق ہو گئی یہاں تک کہ اس سال کو ’’عام الجماعۃ‘‘ کے نام سے موسوم کر دیا گیا۔
(اعتبارات المألات و مراعاۃ نتائج التصرفات: صفحہ 167 )
5۔ امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت:
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح پر آمادہ کرنے والا اہم ترین سبب ان کے والد گرامی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت تھی۔ ان کے اچانک قتل نے ان کی نفسیات پر گہرے اثرات چھوڑے اور انہیں بہت زیادہ غم ناک کر دیا۔ امیر المؤمنین کو بلا کسی جواز کے ناحق قتل کر دیا گیا، خوارج نے نہ تو ان کے سابق الاسلام ہونے کا کوئی احترام کیا اور نہ ان کی ان خدمات جلیلہ کا ہی کوئی لحاظ کیا جو انہوں نے اسلام کے لیے پیش کی تھیں، ان کی حیات مبارکہ عمل و کردار سے عبارت تھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ مینارہ رشد و ہدایت اور حق و باطل میں امتیاز کرنے والے تھے، یہ ایک طبعی سی بات تھی کہ مسلمان ان کی شہادت سے شدید طور سے متاثر ہوئے، ان کی شہادت مسلمانوں پر ایک بہت بڑی آفت بن کر ٹوٹی اور اس کے غم نے انہیں ہر طرف سے گھیر لیا، ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے اور ان کی زبانیں ان کی تعریف و ستائش۔۔۔ ان کی شہادت کی وجہ سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اہل عراق سے بددل ہو گئے، جن عراقیوں کو امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ کے مکارم اخلاق اور شرف صحبت نے جی بھر کر نوازا تھا۔ انہیں فتنوں اور طمع و لالچ نے گمراہ کر دیا اور وہ صراط مستقیم سے منحرف ہو گئے، ان سے وہ چند سچے لوگ مستثنیٰ ہیں جو اپنے دین اور عظیم خلیفہ کے ساتھ مخلص تھے۔ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی شہادت عہد خلافت راشدہ کے لیے ایک بھاری ضرب ثابت ہوئی جو بعد ازاں اس کے زوال کا ایک اہم سبب ثابت ہوئی۔
6۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی شخصیت:
اس امر کے باوجود کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ چالیس ہزار سے زائد ایسے لوگ تھے جنہوں نے ان سے موت پر بیعت کر رکھی تھی ان کا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں خلافت سے دست بردار ہو جانا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس کی اہلیت رکھتے تھے اگر ایسا نہ ہوتا تو نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم منصب خلافت ان کے سپرد نہ کرتے۔
(الناہیۃ عن امیر المؤمنین معاویۃ: صفحہ 57)
مؤرخین اور سوانح نگاروں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل کثیرہ اور اعمال جلیلہ کا بڑی تفصیل سے ذکر کیا ہے جن کا ذکر ان شاء اللہ اس کتاب میں اپنی جگہ پر آئے گا۔
7۔ عراقی لشکر اور اہل کوفہ کا اضطراب:
خوارج کے ظہور نے امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کو کمزور کرنے میں خاصا کردار ادا کیا، جنگ جمل، جنگ صفین اور نہروان کی جنگ نے اہل عراق کو جنگوں سے اکتا دیا اور وہ ان سے متنفر ہو گئے۔ خصوصاً اہل شام کے ساتھ لڑی گئی جنگ صفین نے انہیں شدید طور پر متاثر کیا تھا، اہل شام کی یہ جنگ دوسری جنگوں جیسی نہیں تھی اور یہ ان کے ذہنوں کے ساتھ چپک کر رہ گئی تھی، اس جنگ نے کتنے ہی بچوں کو یتیم بنایا اور کتنی ہی عورتوں کے سہاگ لوٹے مگر اس سے ان کا کوئی بھی مقصد حاصل نہ ہو سکا۔ اگر وہ صلح یا تحکیم نہ ہوتی جسے امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے خوش دلی سے قبول کیا تھا تو پھر عالم اسلام پر ایسی آفت ٹوٹتی جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ اہل عراق علی رضی اللہ عنہ کو حق پر سمجھتے تھے
(خلافۃ علی بن ابی طالب، عبدالحمید: صفحہ 345)
مگر ان کی طرف سے دوبارہ ان کے ساتھ شام روانہ ہونے سے کم دلی کا مظاہرہ کرنے کی وجہ سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ خلافت سے دست بردار ہو گئے اور وہ ایسا کیوں نہ کرتے جبکہ عراقی لشکر اضطرابی کیفیت سے دوچار تھا اور اہل کوفہ غیر یقینی صورت حال سے۔
(الشیعۃ و اہل البیت: صفحہ 379، نقلاً عن الاحتجاج للطبرسی: صفحہ 148)
مگر اس بات کا اطلاق سب لوگوں پر درست نہ ہو گا، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے لشکر کو کچھ ایسے لوگوں سے تقویت دینا ممکن تھا جو جنگ کرنے کی پوری استعداد رکھتے تھے جن میں سے خاص طور پر قیس بن سعدؓ خزرجی اور دیگر قائدین سرفہرست ہیں۔
(خامس الخلفاء الراشدین الحسن بن علی: صلابی: صفحہ 358)
8۔ لشکر معاویہ رضی اللہ عنہ کی قوت:
دوسری جانب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ سے ہی اہل عراق کو کمزور کرنے کے لیے سری اور اعلانیہ طور پر مختلف وسائل کا استعمال کر رہے تھے۔ اس کے لیے انہوں نے خاص طور سے علوی لشکر کی پھوٹ اور تقسیم سے فائدہ اٹھایا جبکہ کئی ایک عوامل نے ان کی حربی قوت میں مزید اضافہ کر دیا، مثلاً: ان کا لشکر ان کا اطاعت گزار تھا، تمام اہل شام ان کی قیادت پر متفق تھے، ولایت شام میں انہیں انتظامی تجربہ حاصل تھا، ان کے مالی ذرائع مستحکم تھے اور وہ ان اہداف کے حصول کے لیے مال خرچ کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے جنہیں امت کے لیے مفید خیال کرتے۔