Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ثالثا صلح کی شرائط

  علی محمد الصلابی

تاریخی کتب اور جدید مصادر اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان یہ صلح طرفین کی طرف سے وضع کردہ شرائط کے مطابق ہوئی تھی۔ یہ شرائط مختلف کتب تاریخ میں ادھر ادھر بکھری پڑی ہیں۔ بعض علماء نے انہیں جمع اور مرتب کرنے کی کوشش کی ہے، ان میں سے اہم ترین شرائط مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ کتاب اللہ، سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیرت خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم پر عمل کرنا:

جن علماء نے اس شرط کا ذکر کیا ہے ان میں ابن حجر ہیثمیؒ بھی شامل ہیں۔ وہ فرماتے ہیں: سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے اس شرط پر صلح کی کہ وہ مسلمانوں کی ولایت ان کے سپرد کر دیں گے اور وہ کتاب اللہ، سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی سیرت کے مطابق کام کریں گے۔

(الصواعق المرسلۃ: جلد 2 صفحہ 399)

حتیٰ کہ بعض شیعہ کتب میں بھی اس شرط کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما حضرات سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس حکومت کی تعظیم و توقیر کیا کرتے تھے، اسی لیے کہ انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح کی ایک شرط یہ رکھی کہ وہ کتاب و سنت کے ساتھ ساتھ خلفاء راشدینؓ کی سنت کے مطابق نظام حکومت چلائیں گے۔

(الشیعۃ و اہل البیت: صفحہ 54)

ایک دوسرے نسخہ میں ’’خلفاء صالحین‘‘ کے الفاظ وارد ہوئے ہیں۔

(منتہی الآمال: جلد 2 صفحہ 212 نقلًا عن الشیعۃ و اہل البیت: صفحہ 54 )

2۔ اموال:

امام بخاریؒ اپنی صحیح میں ذکر کرتے ہیں کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن بن سمرۃ اور عبداللہ بن عامر بن کریز رضی اللہ عنھما پر مشتمل سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے وفد سے کہا: ہم عبدالمطلب کی اولاد کو خلافت کی وجہ سے بہت سا مال و زر حاصل ہوا ہے، میرے لیے اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟ انہوں نے کہا: اس کے ذمہ دار ہم ہیں۔

(بخاری: رقم: 2704) 

اس اثر میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ انہوں نے اور بنو عبدالمطلب سے دوسرے لوگوں نے گزشتہ ایام میں کافی سارا مال حاصل کیا، انہوں نے یہ بات اس لیے کی تاکہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ان سے اس مال کی واپسی کا مطالبہ نہ کریں، انہوں نے مستقبل میں ان سے مال و زر کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔

(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الامویین: صفحہ 64)

رہیں وہ روایات جن میں اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ہر سال سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو دس لاکھ اور ان کے بھائی حسین رضی اللہ عنہ کو بیس لاکھ درہم ادا کیا کریں گے اور بنو ہاشم کو بنو عبدشمس سے زیادہ عطیات سے نوازا کریں گے تو یہ روایات اور ان کی تحصیل و تشریح میں جو کچھ کہا گیا ہے ناقابل قبول اور غیر معتمد علیہ ہے۔ اس سے تو یہ لگتا ہے کہ گویا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے خلافت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو فروخت کی ہو۔ نیز ان روایات سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے ذاتی مفادات کا خیال زیادہ جبکہ امت کے مفادات کا خیال کم تھا۔

(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الامویین: صفحہ 64)

جہاں تک عطیات کا تعلق ہے تو ان پر صرف ان کا حق نہیں تھا بلکہ دوسرے مسلمان بھی ان میں برابر کے حق دار تھے البتہ اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے کہ ان میں ان کا حصہ دوسروں سے زیادہ ہو مگر وہ اس مقدار کے عشر عشیر کو بھی نہیں پہنچتا جس کا ذکر روایات میں کیا گیا ہے۔

(ایضاً صفحہ 63)

3۔ خون:

جانبین میں صلح کے اتفاق کے ضمن میں یہ بات بھی آتی ہے کہ دونوں طرف کے تمام لوگوں کو امن و امان حاصل ہو گا اور ان میں سے کسی کا بھی کسی لغزش یا کینہ کی وجہ سے مؤاخذہ نہیں کیا جائے گا۔ بخاری کی روایت میں آتا ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے وفد سے کہا کہ ہمارے ساتھ کے لوگ خون خرابہ کرنے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ تو وفد نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو یہ ضمانت دی کہ سب لوگوں کو خون خرابہ معاف کر دیا جائے گا۔

(بخاری: کتاب الصلح: جلد 2 صفحہ 963)

اس بات پر طرفین کا مکمل اتفاق تھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں جو کچھ بھی ہوا اس کا کسی سے کوئی مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ قاعدہ بڑی اہمیت کا حامل تھا جس کا مقصد ماضی سے ہٹ کر حال اور مستقبل پر ارتکاز کرنا 

(الدور السیاسی للصفوۃ فی صدر الاسلام: صفحہ 341)

اور گزشتہ دور کی رنجشوں کو بھلا کر نئے دور کا آغاز کرنا تھا۔ الغرض اس صلح کی بنیاد عام معافی پر رکھی گئی تھی اور عملاً بھی ایسا ہی ہوا کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کسی بھی شخص کو اس کے گزشتہ گناہ پر سزا نہیں دی تھی، یوں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے یہ صلح عفو و احسان اور تالیف قلوب پر مبنی تھی۔

4۔ ولایت عہد یا شوریٰ:

یہ بھی کہا گیا ہے کہ شرائط صلح میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ سیدنا معاویہؓ کے بعد خلافت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دی جائے گی

(فتح الباری: جلد 13 صفحہ 70)

اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر حسن رضی اللہ عنہ کی زندگی میں وہ کسی حادثہ کا شکار ہو گئے تو جملہ معاملات ان کے حوالے کر دئیے جائیں گے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 264)

مگر ابن اکثم سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے یہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: مجھے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد خلافت کے معاملہ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اگر مجھے اس کی خواہش ہوتی تو خلافت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے ہی نہ کرتا۔

(الفتوح: جلد 47 صفحہ 493)

اگر ہم سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد طلب خلافت کی روایات کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ وہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے کرم و سخا اور خودداری کے منافی ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ مسلمانوں کے خون بچانے اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے خلافت سے دست بردار ہو جائیں اور پھر دوبارہ اس کے حصول کے مطالبات کرنے لگیں، اس قول کے غیر صحیح ہونے کی دلیل جبیر بن نفیر سے مذکور ان کا یہ قول ہے کہ میں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے کہا: لوگ کہتے ہیں کہ آپ خلافت کے خواست گار ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عرب کے با اثر لوگ میری مٹھی میں تھے وہ ان سے صلح کرتے جن سے میں صلح کرتا اور اس سے جنگ کرتے جن سے میں جنگ کرتا، مگر میں نے اسے اللہ کی رضا کے لیے چھوڑ دیا۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 206)

یہ امر ملحوظ خاطر رہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یا ان کے ابناء میں سے کسی نے بھی یزید کی بیعت کے درمیان اس بات کا حوالہ نہیں دیا تھا، اگر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو ولی عہد مقرر کرنے کی کوئی بات ہوتی تو اسے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ یزید کے خلاف دلیل کے طور سے استعمال کرتے مگر ایسی کوئی بھی بات ہمارے علم میں نہیں آئی، اور یہ اس بات کی تاکیدی دلیل ہے کہ اس بات کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے۔

اگر شروط صلح میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے لیے ولی عہد کے منصب کی شرط رکھی گئی ہوتی تو وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد امارت میں حکومتی حلقوں کے قریب رہتے یا کسی بڑے صوبہ کے والی کے منصب پر فائز ہوتے نہ کہ حکومتی معاملات سے الگ ہو کر مدینہ منورہ میں گوشہ نشین ہو جاتے۔ پھر اس سے بڑھ کر یہ بات بھی ہے کہ اس دور کی روح اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ امت اسلامیہ حاکم کا انتخاب شوریٰ کے ذریعہ کرتی تھی اور یہی اصل طریق کار ہے۔