Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

بیعت معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی اہم صفات اور علماء کی طرف سے ان کی تعریف

  علی محمد الصلابی

بیعت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت سے دستبرداری کے ساتھ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے منصب خلافت سنبھالنے کے تمام عوامل مکمل اور کل اسباب فراہم ہو گئے، 41ھ میں امیر المؤمنین کے طور پر ان سے بیعت کی گئی اور اس سال کو عام الجماعۃ کے نام سے موسوم کیا گیا۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 137 )

اور پھر وہ امت کے ذہن میں اسی نام کے ساتھ محفوظ ہو گیا، یہ واقعہ امت کے قابل فخر کارناموں میں شمار ہوتا ہے جس پر وہ آج تک نازاں و فرحاں ہے۔ اس سال سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی قیادت پر امت کا اتفاق ہوا اور اس نے انہیں اپنے امیر کے طور سے پسند کر لیا، اس ہمہ گیر وحدت و یگانگت پر درد دل رکھنے والے مسلمانوں کو دلی خوشی ہوئی۔ امت اسلامیہ پر اولاً تو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تھا اور پھر اس عظیم اصلاحی پروگرام کے منصوبہ ساز سید کبیر حضرت حسن بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہما کا یہ احسان عظیم تھا۔ عام الجماعۃ دلیل نبوت بھی ہے اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے فضائل میں سے ایک کھلی اور روشن فضیلت بھی۔ عقاد نے اپنے جس قول میں ان تمام مؤرخین کو گمراہ اور جاہل بتایا ہے جنہوں نے اس سال کو عام الجماعۃ کے نام سے موسوم کیا تو ان کا یہ قول غیر صحیح فہم کا نتیجہ ہے، لہٰذا ناقابل التفات ہے۔

(معاویۃ بن ابی سفیان از عقاد: صفحہ 25)

عقاد یہ غلط فیصلہ کرنے والا پہلا شخص نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے اکثر شیعہ مؤرخین بھی یہ بات کہہ چکے ہیں۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے یہی فخر کافی ہے کہ ان کے زمانے میں تمام بقید حیات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان سے بیعت کی، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر امت کا اجماع ہوا اور علماء صحابہ و تابعین نے ان سے بیعت کی، ان کی خلافت کو شرعی قرار دیا، ان کی امامت کو پسند کیا۔ ان کے نزدیک سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ہی وہ بہترین فرد تھے جو مسلمانوں کے معاملات کو سرانجام دینے اور اس مرحلہ میں ان کا حق ادا کرنے کی صلاحیت سے بہرہ مند تھے۔ اوزاعی سے ان کا یہ قول مروی ہے کہ خلافت معاویہ کا دور متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پایا، مثلاً سعد، اسامہ، جابر، ابن عمر، زید بن ثابت، مسلمہ بن مخلد، ابو سعید خدری، رافع بن خدیج، ابو امامہ، انس بن مالک اور متعدد دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم۔ یہ سب لوگ ہدایت کے چراغ اور علم کے ظروف تھے۔ جنہوں نے نزول قرآن کا مشاہدہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی تفسیر اخذ کی۔ اس دور کو پانے والے تابعین میں سے مسور بن مخرمہ، عبدالرحمٰن بن الاسود بن عبدیغوث، سعید بن مسیب، عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور عبداللہ بن محیریز سرفہرست ہیں۔رحمہم اللہ

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 434، 435)

ابن حزمؒ فرماتے ہیں: پہلے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے بیعت کی گئی اور پھر یہ معاملہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا گیا۔ جبکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں کچھ ایسے لوگ بھی موجود تھے جو بدون اختلاف ان دونوں سے افضل تھے اور یہ وہ لوگ تھے

جنہوں نے فتح سے قبل خرچ بھی کیا اور قتال بھی۔ ان سب لوگوں نے اوّل سے آخر تک سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کی اور ان کی خلافت کو درست تسلیم کیا۔

(الفصل فی الملل و النحل:جلد 5 صفحہ 6)

یقیناً ان اصحاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے اس وقت ہی بیعت کی جب انہوں نے دیکھا کہ ان میں عدالت سمیت امامت کی تمام شرائط پائی جاتی ہیں۔ اب اگر کوئی شخص سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی عدالت و امامت پر طعن کرتا ہے، جس شخص کو ان عظیم لوگوں نے اپنے دین اور دنیا کے لیے پسند اور قبول کیا تو کیا اسے ہم قبول نہ کریں اور اسے ہم پسند نہ کریں؟ ان میں سے جس نے یہ کہا کہ شاید انہوں نے کسی خوف کے پیش نظر ان سے بیعت کی ہو گی، تو یہ ان نفوس قدسیہ پر بزدلی اور کتمان حق کی تہمت ہے جو کہ یقیناً ناروا ہے، وہ تو ایسے لوگ ہیں جن کی شجاعت و بسالت سے ہر کوئی آگاہ ہے اور یہ کہ وہ اللہ کے بارے میں کسی ملامت گر کی ملامت کی کوئی پروا نہیں کیا کرتے تھے۔

(من سب الصحابۃ و معاویۃ فامہ ہاویۃ: صفحہ 120) 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی طرف سے معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنا اپنے اندر تشتت و افتراق سے نہی پر مشتمل قرآنی آیات کا گہرا فہم اور درس بلیغ رکھتا ہے، مثلاً قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

وَاَنَّ هٰذَا صِرَاطِىۡ مُسۡتَقِيۡمًا فَاتَّبِعُوۡهُ‌ وَلَا تَتَّبِعُوۡا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمۡ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ‌ ذٰلِكُمۡ وَصّٰٮكُمۡ بِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ۞ (سورۃ الأنعام آیت 153)

ترجمہ: اور (اے پیغمبر ! ان سے) یہ بھی کہو کہ: یہ میرا سیدھا سیدھا راستہ ہے، لہٰذا اس کے پیچھے چلو، اور دوسرے راستوں کے پیچھے نہ پڑو، ورنہ وہ تمہیں اللہ کے راستے سے الگ کردیں گے۔ لوگو! یہ باتیں ہیں جن کی اللہ نے تاکید کی ہے تاکہ تم متقی بنو۔

صراط مستقیم سے مراد قرآن، اسلام اور فطرت ہے جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا فرمایا، اور سبل سے مراد نفسانی خواہشات، فرقے اور بدعات و خرافات ہیں۔ مجاہد فرماتے ہیں: سبل سے مراد بدعات، شبہات اور گمراہیاں ہیں۔

(تفسیر مجاہد: صفحہ 227، دراسات فی الاہواء و الفرق و البدع: صفحہ 49)

اللہ تعالیٰ نے اس امت کو اختلاف اور تفرق جیسی ان چیزوں سے منع فرمایا جن میں گزشتہ امتیں مبتلا ہو گئیں اور یہ اس امر کے بعد ہوا جب ان کے پاس واضح دلائل آئے اور اللہ نے ان پر کتابیں اتاریں۔ ارشاد ہوتا ہے:

وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ تَفَرَّقُوۡا وَاخۡتَلَفُوۡا مِنۡ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ الۡبَيِّنٰتُ‌ وَاُولٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ۞ (سورۃ آل عمران آیت 105)

ترجمہ: اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جن کے پاس کھلے کھلے دلائل آچکے تھے، اس کے بعد بھی انہوں نے آپس میں پھوٹ ڈال لی اور اختلاف میں پڑگئے، ایسے لوگوں کو سخت سزا ہوگی۔

اللہ تعالیٰ نے اس امت کو اختلاف سے بچنے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھامنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:

وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰهِ جَمِيۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا‌۞ (سورۃ آل عمران آیت 103)

ترجمہ: اور اللہ کی رسی کو سب ملکر مضبوطی سے تھامے رکھو، اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو،

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی کامیاب صلح سے شریعت کا وہ عظیم مقصد پورا ہو گیا جو مسلمانوں کی وحدت اور اجتماع سے عبارت ہے جو کہ زمین میں اللہ کے دین کو موثر اور طاقت ور بنانے کا اہم ترین ذریعہ ہے جبکہ ہم ایک دوسرے کو حق کی تلقین کرنے اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کرنے کے پابند ہیں۔ مسلمانوں کے مابین حقیقی اصلاح کے لیے اسلامی تحریکوں کے قائدین، داعی حضرات اور مسلم علماء و طلباء کی کاوشوں کو مربوط کرنا اور ان کا ایک دوسرے کی مدد کرنا ازحد ضروری ہے۔ اس لیے کہ کسی مسئلہ کا آدھا حل اصلاح سے زیادہ بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ شیخ سعدی رحمہ اللہ مسلمانوں کے باہمی تعاون اور ان کی وحدت کے وجوب پر دلالت کرنے والی قرآنی آیات اور احادیث ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: سب سے بڑا جہاد مسلمانوں کے دلوں کو جوڑنا، انہیں ان کے دین پر اکٹھا کرنا اور ان کی دینی اور دنیوی مصالح کے لیے کوششیں کرنا ہے۔

(وجوب التعاون بین المسلمین: صفحہ 50)

ابوسعید اور مجالد 

(الکامل فی الضعفاء: جلد 6 صفحہ 2416)

سے مروی یہ مزعومہ حدیث ہرگز قابل التفات نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو میرے منبر پر دیکھو تو اسے قتل کر دو۔‘‘

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 434۔ الکامل فی الضعفاء: جلد 2 صفحہ 626)

اس لیے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ اس کا ایک راوی علی بن زید ضعیف ہے۔ جبکہ مجالد بھی ضعیف ہے۔ اس حدیث کو حکم بن ظہیرہ (الکامل: جلد 2 صفحہ 626، 627)

کے طریق سے بھی بیان کیا گیا ہے اور وہ متروک ہے۔ اگر یہ روایت صحیح ہوتی تو سب سے پہلے اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عمل کرتے اس لیے کہ وہ اللہ کے بارے میں کسی ملامت گر کی ملامت کی کوئی پروا نہیں کیا کرتے تھے۔

( البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 434)