عہد خلافت راشدہ کا اختتام
علی محمد الصلابیخلافت راشدہ علی منہاج النبوۃ کے دور کا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دستبردار ہونے کے ساتھ اختتام ہوا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تک اللہ چاہے گا تم میں نبوت باقی رہے گی، پھر جب اللہ چاہے گا اسے اٹھا لے گا، پھر خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہو گی اور وہ جب تک اللہ چاہے گا باقی رہے گی پھر جب اللہ چاہے گا اسے اٹھا لے گا، پھر بادشاہت قائم ہو گی اور جب تک اللہ چاہے گا وہ باقی رہے گی، پھر جب اللہ اسے اٹھانا چاہے گا اٹھا لے گا۔ اس کے بعد جبری بادشاہت قائم ہو گی اور جب تک اللہ چاہے گا وہ باقی رہے گی اور پھر جب چاہے گا اسے اٹھا لے گا۔ اس کے بعد پھر خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہو گی۔‘‘ پھر آپ خاموش ہو گئے۔
(مسند احمد: جلد 4 صفحہ 371، 372۔ السلسلۃ الصحیحۃ)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی صراحتاً فرمایا: ’’خلافتِ نبوت تیس سال تک رہے گی پھر اللہ جسے چاہے گا اسے بادشاہت یا اپنی بادشاہت عطا فرمائے گا۔‘‘
(سنن ابی داود شرح عون المعبود: جلد 12 صفحہ 259)
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
’’میری امت میں خلافت تیس سال تک رہے گی پھر اس کے بعد بادشاہت قائم ہو جائے گا۔‘‘
( سنن ترمذی شرح تحفۃ الاحوزی: جلد 6 صفحہ 395، 396 حسن حدیث)
اور خلافت کی یہ تیس سالہ مدت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت پر پوری ہوتی ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ ربیع الاول 11 ھ کو وفات پائی اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ربیع الاول 41۔ھ میں خلافت سے دستبردار ہوئے، اس طرح یہ مدت تیس سال بنتی ہے اور یہ خبر دلائل نبوت میں سے ایک اہم دلیل ہے۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 8 صفحہ 16)
یہ حدیث نبوی مندرجہ ذیل تاریخی مراحل کی طرف اشارہ کرتی ہے:
الف:… عہد نبوت ب:… خلافت راشدہ کا دور
ج:… متشددانہ بادشاہت کا دور د:… جابرانہ بادشاہت کا دور
ہ:… بعد ازاں خلافت علی منہاج النبوۃ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امر کی وضاحت فرما دی کہ پہلے خلافت نبوت و رحمت ہو گی اور پھر بادشاہت و رحمت۔ خلفائے راشدینؓ کے بعد کے حکمران اگرچہ بادشاہ تھے مگر انہیں خلفاء کے نام سے موسوم کرنا بھی جائز ہے۔ مگر وہ انبیاء کے خلفاء نہیں تھے۔ اس کی دلیل سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل کی سیاست انبیاء کے ہاتھ میں ہوا کرتی تھی، جب ایک نبی موت سے دوچار ہو جاتا تو اس کی جگہ دوسرا نبی آ جاتا، اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور عنقریب خلفاء ہوں گے اور بکثرت ہوں گے۔ لوگوں نے کہا: آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’پہلے سے وفاداری کرو، پھر اس کے بعد والے کی، اور انہیں ان کا حق دو، اللہ ان سے ان کی ذمہ داریوں کے بارے میں ضرور سوال کرے گا۔
(سنن دارمی: جلد 2 صفحہ 114)۔ الاشربۃ، الفتاوی: جلد 35 صفحہ 14)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ ’’وہ بکثرت ہوں گے‘‘ اس بات کی دلیل ہے کہ اس سے مراد خلفاء راشدینؓ کے علاوہ دیگر خلفاء ہیں، اس لیے کہ وہ زیادہ نہیں تھے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول: ’’پہلے کی بیعت کا ایفاء کرو پھر اس کے بعد والے کی بیعت کا اور انہیں ان کا حق دو۔‘‘ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اختلاف کریں گے جبکہ خلفاء راشدیؓن کا آپس میں کوئی اختلاف نہیں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد: ’’انہیں ان کا حق دو اور اللہ ان سے ان کی ذمہ داریوں کے بارے میں دریافت کرنے والا ہے۔‘‘ اہل سنت کے اس مذہب کی دلیل ہے کہ امراء کو مال اور غنیمت سے ان کا حق ادا کرنا چاہیے۔
(بخاری رقم: 3455)
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اس امت کے افضل ترین بادشاہ ہیں اور ان سے پہلے کے لوگ خلفائے نبوت ہیں، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بادشاہت، بادشاہت بھی تھی اور رحمت بھی چونکہ ان کی بادشاہت میں رحمت بھی تھی، حلم و حوصلہ بھی اور مسلمانوں کی منفعت بھی، لہٰذا وہ دوسروں کی بادشاہت سے بہت بہتر تھی۔
(الفتاوی: جلد 35 صفحہ 15۔)
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پرہیز گار عالم اور عابد تھے البتہ ان میں یہ صفات خلفائے راشدینؓ سے کم تھیں۔ یہ تفاوت اولیاء میں بھی ہے بلکہ فرشتوں اور انبیاء میں بھی ہے، ان کی امارت اگرچہ اس بنا پر صحیح تھی کہ اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع تھا اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ان کے حق میں دستبردار ہو گئے تھے مگر وہ گزشتہ خلافت کے منہاج پر نہیں تھی، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مباحات میں بڑی وسعت اختیار کی جبکہ خلفاء اربعہؓ ان سے احتراز کیا کرتے تھے، اسی طرح عبادات و معاملات میں بھی ان کا رجحان کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔
(الفتاوی: جلد 4 صفحہ 292)
ابن خلدون کا کہنا ہے کہ اگرچہ خلافت بادشاہت میں تبدیل ہو گئی تھی مگر اس میں خلافت کی بعض خصوصیات باقی تھیں، جو نظام حکومت پہلے دینی تھا اب وہ عصبیت اور شمشیر زنی میں تبدیل ہو گیا مگر خلافت کے اہداف و مقاصد باقی رہے۔ اس دوران شریعت اسلامیہ کے مطابق عدل کا دور دورہ تھا اور اسلامی احکامات کے مطابق واجبات شرعیہ کا التزام کیا جاتا تھا، یعنی حکومت یا بادشاہت اسلامی اور شرعی تھی۔
(الناہیۃ عن طعن امیر المؤمنین: صفحہ 78)
ابن خلدون خلافت کے مختلف ادوار کا تذکرہ کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: آغاز کار میں خلافت بادشاہت کی آمیزش کے بغیر معرض وجود میں آئی، پھر اس کے معانی و خصوصیات میں التباس پیدا ہو گیا اور اس کی بادشاہت کے ساتھ آمیزش ہو گی۔
(النظریات السیاسیۃ للریس: صفحہ 194 نقلاً عن المقدمۃ لابن خلدون)
ابن خلدون جس پہلے دور کی طرف اشارہ کر رہے ہیں وہ خلفاء راشدینؓ کا دور ہے اور وہ خالص یا کامل خلافت کا کارنامہ ہے۔ جب کہ دوسرا دور اموی اور عباسی خلفاء کا ہے، اس میں عثمانی دور حکومت کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ یہ بادشاہت کے ساتھ مخلوط خلافت یا خلافت کے ساتھ مخلوط بادشاہت کا ہے، یعنی ایسی بادشاہت جو مقاصدِ خلافت کی نگہبان تھی۔ جبکہ تیسرا دور محض بادشاہت کا دور ہے جس سے مقصود بادشاہت کی قدامت کا حصول اور دنیوی اغراض و مقاصد کی تکمیل تھا اور یہ حقیقت خلافت یا اس کی دینی خصوصیات سے بہت دور تھی۔
(ایضاً صفحہ 195)
حقیقی یا کامل خلافت یا خلافتِ نبوت تیس سال تک جاری رہی اور یہ خلفاء راشدینؓ کا زمانہ ہے، پھر خلافت بادشاہت میں تبدیل ہو گئی مگر اس دور میں خلافت کلیتاً ناپید نہیں ہوئی تھی بلکہ اس کے معانی یا مقاصد باقی تھے تبدیلی اس اساس میں ہوئی تھی جس پر وہ قائم تھی جہاں تک اس کی حقیقت کا تعلق ہے تو وہ باقی تھی، گویا کہ یہ تبدیلی کلی نہیں بلکہ جزئی تھی، اس کی مزید وضاحت اس طرح بھی کی جا سکتی ہے کہ عصر اول میں خلافت کامل اور مثالی تھی پھر بعض وجوہات سے اس کی مثالیت میں نقص در آیا مگر اس کے زیادہ تر عناصر باقی رہے، یہ کم درجہ کی خلافت تھی یا بادشاہت سے مخلوط خلافت تھی۔
(النظریات السیاسیۃ: صفحہ 196)
اسلام میں عمومی رائے مثالی خلافت، خلافت نبوت یا خلافت کاملہ سے وابستہ ہے اور یہ شوریٰ اور امت کے انتخاب و اختیار تام پر قائم ہے۔
ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: خلافت کا بادشاہوں اور ان کے نائبین، ولاۃ، امراء اور قضاۃ کے ہاتھوں میں آجانا صرف ان میں موجود نقص کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ یہ نقص ان کے ساتھ ساتھ ان کی رعیت میں بھی موجود تھا اس لیے کہ جس طرح کی رعایا ہوتی ہے ان پر حکمران بھی ویسے ہی مسلط کیے جاتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَكَذٰلِكَ نُوَلِّىۡ بَعۡضَ الظّٰلِمِيۡنَ بَعۡضًاۢ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ ۞ (سورۃ الأنعام آیت 129)
ترجمہ: اور اسی طرح ہم ظالموں کو ان کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ایک دوسرے پر مسلط کردیتے ہیں۔
جب خلافت بادشاہت میں تبدیل ہو گئی تو امراء و حکام میں نقص پیدا ہو گیا، صرف انہی میں نہیں بلکہ یہ اہل علم اور اہل دین میں بھی پیدا ہو گیا، جمہور صحابہ خلفاء اربعہ کی خلافت کے اختتام کے ساتھ ختم ہو گئے یہاں تک کہ اہل بدر میں سے چند لوگ باقی رہ گئے تھے۔ جمہور تابعین اصاغر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ کے آخر میں ختم ہو گئے اور جمہور تبع تابعین کا وجود دولت امویہ کے آخر اور دولت عباسیہ کے اوائل میں ناپید ہو گیا تھا۔
( الفتاوی: جلد 10 صفحہ 207)