سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی اہم صفات - دفاعِ اہلِ سنت…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی اہم صفات

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بہت ساری صفات کے ساتھ شہرت رکھتے ہیں۔ جن میں سے زیادہ اہم مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ علم و فقہ:

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طویل رفاقت سے علم و تربیت حاصل کی۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بکثرت احادیث روایت کیں، جن میں سے بعض کا قبل ازیں ذکر ہو چکا ہے۔ امام بخاری اور مسلم نے ان سے روایات لی ہیں، حالانکہ ان کی شرط یہ ہے کہ وہ صرف فقیہ، ضابط اور صدوق راویوں سے ہی روایات اخذ کریں گے۔

(الناہیۃ عن طعن امیر المومنین معاویۃ: صفحہ 41)

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی سیدنا امیر معاویہؓ کی فقاہت کی شہادت دی ہے۔ ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا: امیر المؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہ ہمیشہ ایک وتر پڑھتے ہیں، اس بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گے؟ انہوں نے فرمایا: وہ ٹھیک کرتے ہیں، وہ فقیہ ہیں۔

(بخاری: رقم: 3764، 3765)

شارحین حدیث فرماتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مجتہد ہیں، ابن ملیکہ سے ہی مروی بخاری کی دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے نماز وتر ایک رکعت ادا کی اس وقت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام ان کے پاس تھے وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور ان سے اس بات کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا: انہیں چھوڑیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا شمار فضلاء صحابہ میں ہوتا ہے، ان کی وسعت علمی کی وجہ سے انہیں حبر الامۃ اور ترجمان القرآن کا لقب دیا گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے علم و حکمت اور تاویل وتفسیر کی دعا کی اور اسے شرف قبولیت سے نوازا گیا، آپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حلقہ خواص سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے مخالفین پر شدید تنقید کیا کرتے تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں خوارج کے ساتھ گفتگو کرنے کے لیے بھیجا تو انہوں نے انہیں لاجواب کر دیا۔ ان جیسا انسان معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے اجتہاد کی گواہی دے رہا ہے اور وہ اپنے آزاد کردہ غلام کو اس بنیاد پر انہیں تنقید کا نشانہ بنانے سے روک رہے ہیں کہ وہ صحابی رسولﷺ ہیں۔

(الناہیۃ عن طعن امیر المؤمنین معاویۃ: صفحہ 41) 

مزید برآں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کاتب وحی بھی تھے۔ مفتی حرمین احمد بن عبداللہ بن محمد طبری ’’خلاصۃ السیر‘‘ میں رقمطراز ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتبان وحی کی تعداد تیرہ تھی: خلفائے اربعہ، عامر بن فہیرہ، عبداللہ بن ارقم، ابی بن کعب، ثابت بن قیس بن شماس، خالد بن سعید بن العاص، حنظلہ بن ربیع اسلمی، زید بن ثابت، معاویہ بن ابوسفیان اور شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہم۔ ان میں سیدنا معاویہ بن ابو سفیان اور زید رضی اللہ عنہم کو خصوصی حیثیت حاصل تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اس کے لیے پابند کر رکھا تھا۔

(گزشتہ حوالہ: صفحہ 41)

فقہاء کرام کو ان کے اجتہاد پر مکمل اعتماد تھا اور وہ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرح ان کے فقہی مذہب کا ذکر کیا کرتے تھے۔ مثلاً ان کا قول ہے: سیدنا معاذ بن جبل، معاویہ اور سعید بن مسیب رضی اللہ عنھم کا مذہب ہے کہ مسلمان کافر کا وارث بنے گا۔ اسی طرح ان کا قول ہے: دونوں یمانی رکنوں کا استلام سیدنا حسن رضی اللہ عنہ یا حسین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

(گزشتہ حوالہ: صفحہ 57)

اور یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صحیح طور پر ثابت ہے۔ صحابی ابودرداء رضی اللہ عنہ نے اہل شام سے فرمایا: میں نے تمہارے اس امام (معاویہ رضی اللہ عنہ ) سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نماز پڑھنے والا کسی کو نہیں دیکھا۔

(منہاج السنۃ: جلد 3 صفحہ 175)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کا بڑا شوق تھا۔ ابو امامہ سہل بن حنیفؓ سے مروی ہے: میں نے سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما سے سنا اس وقت وہ منبر پر بیٹھے تھے کہ موذن نے اذان دیتے وقت کہا: اللّٰہ اکبر، اللّٰہ اکبر، اس کے جواب میں انہوں نے کہا: اللّٰہ اکبر، اللّٰہ اکبر۔ موذن نے کہا: اشہد ان لا الہ الا اللّٰہ، تو معاویہ نے بھی یہی کلمات دہرائے۔ موذن نے کہا: اشہد ان محمد رسول اللہ، تو معاویہ نے بھی یہی کلمات ادا کیے۔ جب موذن نے اذان مکمل کر لی تو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگو! میں نے اسی جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اذان کے جواب میں وہی کچھ سنا جو کچھ اب تم نے مجھ سے سنا۔

(فتح الباری: جلد 2 صفحہ 462)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو دین میں سوجھ بوجھ حاصل کرنے کی ترغیب دلایا کرتے اور انہیں اس کی اہمیت کے بارے میں احادیث سنایا کرتے تھے۔ زہری سے مروی ہے کہ انہیں حمید نے بتایا کہ انہوں نے سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کو دوران خطبہ یہ کہتے سنا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ’’اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے اسے دین میں سمجھ عطا فرما دیتا ہے، میں تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ دیا کرتا ہے، اس امت کا معاملہ ہمیشہ سیدھا رہے گا یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی، یا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے گا۔‘‘

(فتح الباری: جلد 13 صفحہ 306)

آپ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خط و کتابت کے ذریعے ان سے وہ احادیث سیکھا کرتے جو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سماعت کی ہوتیں۔ وراد مولیٰ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے شعبہ کو خط لکھا کہ مجھے وہ چیز لکھ بھیجیں جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے بعد پڑھتے سنی ہو۔ اس پر مغیرہ نے مجھے لکھوایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے:

((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ، اَللّٰہُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا اَعْطَیْتَ وَ لَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَ لَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ))

صفحہ 1 از 3