سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی اہم صفات - دفاعِ اہلِ سنت…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی اہم صفات

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

ابن جریج کہتے ہیں: مجھے کئی لوگوں نے خبر دی کہ اسے ورّاد نے اس کی خبر دی تھی۔ اس کے بعد میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو میں نے سنا کہ وہ لوگوں کو یہ دعا پڑھنے کی تلقین کیا کرتے ہیں۔

(فتح الباری: جلد 11 صفحہ 521)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سنت نبویہ کی اتباع کے بڑے حریص تھے۔ سعید بن مسیب اور حمد بن عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ آخری دفعہ مدینہ منورہ آئے تو آپﷺ نے منبر نبوی پر فرمایا: اہل مدینہ! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دن یوم عاشوراء کے بارے میں سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے جو شخص اس کا روزہ رکھنا چاہتا ہے وہ رکھ لے۔‘‘ دوسری روایت میں ہے: ’’اور میں روزے سے ہوں۔‘‘ اس پر لوگوں نے بھی یہ روزہ رکھنا شروع کر دیا۔

(فتح الباری: جلد 4 صفحہ 287)

اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپﷺ ان جیسی چیزوں سے منع فرمایا کرتے تھے، انہوں نے اپنی آستین سے بالوں کا ایک گچھا نکالا اور فرمایا: بنی اسرائیل اس وقت ہلاک ہو گئے جب ان کی عورتوں نے اسے اپنانا شروع کر دیا۔

(فتح الباری: جلد 6 صفحہ 591 )

یعنی عورت کا اپنے بالوں کے ساتھ دوسرے بالوں کو ملانا۔ متعدد احادیث صحیحہ سے بال ملانے والی اور ملوانے والی عورتوں پر لعنت ثابت ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ انہوں نے لوگوں سے کہا: تم نے بہت بری بدعت شروع کر رکھی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زُور (ایضا: جلد 6 صفحہ 595)

(جھوٹ) سے منع فرمایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام زُور اس لیے رکھا کہ اس میں تزویر اور تبدیلی کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔ ان آثار و احادیث کی روشنی میں ہم دیکھ رہے کہ وہ عاشوراء کے روزہ کی سنت کے احیاء کی حرص کرتے ہیں۔ جسے لوگوں نے غیر اہم سمجھ رکھا تھا۔ اسی طرح وہ لوگوں میں رواج پکڑنے والی ایک بدعت کو ختم کرنے کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں اور وہ ہے مصنوعی بال لگانے کے حوالے سے یہودیوں کی بدعت کی تقلید کرنا۔

(تاریخنا المفتری علیہ: قرضاوی: صفحہ 71)

عبدالرحمٰن بن ہرمز الاعرجؓ روایت کرتے ہیں کہ عباس بن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے عبدالرحمٰن بن حکمؓ سے اپنی بیٹی کا نکاح کروایا اور عبدالرحمٰن نے ان سے اپنی بیٹی کا نکاح کروا دیا اور اسے ہی دونوں کا مہر قرار دے دیا۔ اس وقت سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما خلیفہ تھے انہوں نے مروان کو ایک خط کے ذریعے سے حکم دیا کہ وہ ان دونوں میں تفریق کروائیں۔ انہوں نے اپنے خط میں لکھا کہ یہ وہ شغار ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا۔

(مسند احمد: رقم: 16856)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ لوگوں کے انفرادی، معاشرتی اور خاندانی الغرض تمام معاملات میں اقامت سنت کی نگرانی کا فریضہ سر انجام دیتے تھے۔

(تاریخنا المفتری علیہ: قرضاوی: صفحہ 71)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ وقت کے تقاضے کے مطابق احادیث بیان کیا کرتے تھے کتب حدیث میں وارد ہے کہ وہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور ابن عامرؓ کے پاس گئے۔ ان کے لیے ابن عامر رضی اللہ عنہ تو کھڑے ہو گئے مگر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کھڑے نہ ہوئے۔ سیدنا امیر معاویہؓ نے اس پر ڈانٹتے ہوئے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اللہ کے بندے اس کے سامنے کھڑے رہیں تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔‘‘

(بخاری: رقم: 3488)

مجاہد اور عطاء ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کے دوران اپنے بال قینچی سے کٹوائے۔ ہم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ہمیں یہ خبر صرف سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ذریعے پہنچی ہے۔ انہوں نے فرمایا: معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تہمت نہیں لگا رہے۔

(مسند احمد: رقم: 16813 اس کی سند صحیح ہے)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ علمی مذاکرہ کرنے کا اہتمام کرتے اور اس میں بڑی دلچسپی لیتے۔ عبداللہ بن حارثؓ سے مروی ہے کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو پلنگ پر بٹھایا، اس قصہ میں مذکورہ ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے ایک فقہی مسئلہ کے بارے میں دریافت کیا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو تعلیم دیتے، انہیں اپنے سے سوالات کرنے اور اپنے علم سے استفادہ کرنے کی ترغیب دلاتے۔ آپ نے جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: لوگو! میری بات کو سمجھو، تم دنیا اور آخرت کے معاملات کو مجھ سے زیادہ سمجھنے والا کسی اور کو نہیں پاؤ گے، دورانِ نماز اپنے منہ اور صفیں سیدھی رکھا کرو، تم یا تو اپنے مونہوں اور صفوں کو سیدھا رکھو گے یا پھر اللہ تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا کر دے گا۔ اپنے بیوقوفوں کے ہاتھ روک لو، اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو اللہ انہیں تم پر مسلط کر دے گا اور پھر یہ تمہیں میرے عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ صدقہ کیا کرو، کوئی آدمی اپنی تنگ دستی کا رونا نہ روئے اس لیے کہ تنگ دست کا صدقہ خوشحال کے صدقہ سے افضل ہے، پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے سے بچو، کوئی آدمی یہ نہ کہے کہ میں نے سنا، مجھے یہ خبر ملی، اگر تم میں سے کسی نے حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے کی عورت پر بھی تہمت لگائی تو اس کے بارے میں قیامت کے دن اس سے جواب طلبی ہو گی۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 437)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت کے بڑے حریص تھے، جب آپ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کہاں پڑھی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: اپنے اور دیوار کے درمیان دو یا تین بازو کا فاصلہ چھوڑ دو۔

(فتح الباری: جلد 3 صفحہ 544)

صفحہ 2 از 3