سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی اہم صفات - دفاعِ اہلِ سنت…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی اہم صفات

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

سیدنا امیر معاویہؓ نے لیلۃ القدر کی تعیین میں اجتہاد سے کام لیا۔ ابن ابی شیبہؒ صحیح سند کے ساتھ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: لیلۃ القدر تئیس کی رات ہوتی ہے۔

(الفتح: جلد 4 صفحہ 311)

وہ دوسروں کی دلیل اور برہان کا کھلے دل سے اعتراف کیا کرتے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کیا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیت اللہ کے تمام ارکان کا استلام کیا کرتے تھے، مگر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے فرمایا: ان دو ارکان کا استلام نہیں کیا جاتا۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: بیت اللہ کی کوئی بھی چیز متروک نہیں ہے۔

(الخلافۃ الرائدۃ و الدولۃ الامویۃ من فتح الباری: صفحہ 585)

ایک روایت میں ہے کہ ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: 

لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِىۡ رَسُوۡلِ اللّٰهِ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ ۞ (سورۃ الأحزاب آیت 21)

ترجمہ: حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہ کی ذات میں ایک بہترین نمونہ ہے۔

اس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔

(الخلافۃ الرائدۃ و الدولۃ الامویۃ من فتح الباری: صفحہ 586)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فیصلوں کے ضمن میں ابن ابی شیبہ نے عبداللہ بن معقل کے طریق سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے: میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے اس فیصلہ سے خوبصورت کوئی فیصلہ نہیں دیکھا کہ ہم اہل کتاب کے وارث بنیں گے مگر وہ ہمارے وارث نہیں بنیں گے۔ جیسا کہ ان میں نکاح کرنا جائز ہے مگر ان کے لیے ہم میں نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔

(مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 11 صفحہ 374، سنن سعید: جلد 1 صفحہ 45)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے مندرجہ ذیل فقہی مسائل منقول ہیں:

ا: سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے ایک وتر پڑھا۔

(فتح الباری: جلد 7 صفحہ 130)

ب: سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ صدقۃ الفطر میں نصف صاع گندم کی ادائیگی کفایت کر جائے گی۔

(زاد المعاد: جلد 2 صفحہ 19)

ج: احرام باندھتے وقت جسم پر خوشبو استعمال کرنا مستحب ہے۔

(المغنی: جلد 5 صفحہ 77)

د: مکہ کے گھروں کی خرید و فروخت جائز ہے۔

(ایضاً: جلد 6 صفحہ 366)

ہ: اگر خاوند بیوی کے جنسی حقوق ادا کرنے پر قادر نہ ہو تو ان میں تفریق کروانا جائز ہے۔

(زاد المعاد: جلد 5 صفحہ 181) 

و: نشہ کی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ 

(ایضا: جلد 5 صفحہ 211) 

ز: مسلمان کو کافر کے بدلے میں ازروئے قصاص قتل نہیں کیا جائے گا۔

(المغنی: جلد 11 صفحہ 466)

ح: مقتول کے بیٹے کے بالغ ہونے تک قاتل کو قید میں رکھا جائے گا۔

(1المغنی: جلد 11 صفحہ 577، مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 28، 29)

جہاں تک سیاسی فقہ، سیاست شرعیہ، فقہ جہاد اور مقاصد شریعہ میں ان کے علوم کا تعلق ہے تو اس کی تفصیل آگے چل کر آئے گی۔ اِنْ شَائَ اللّٰہُ۔


صفحہ 3 از 3