ذہانت و فطانت اور حیلہ گری
علی محمد الصلابیوہ اوصاف حمیدہ جن میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ امتیازی شان کے حامل ہیں ان میں سرفہرست ان کا رعب و دبدبہ ذہانت و فطانت اور حیلہ گری ہے۔ آپ کی انتظامی صلاحیتوں اور حسن تدبیر کے حوالے سے منقول ہے کہ ان کے زمانہ میں مسلمانوں نے ایک جنگ میں شرکت کی تو ان کے بعض ساتھیوں کو قیدی بنا لیا گیا، جب انہیں شاہ روم کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے ان میں سے کسی قیدی کے ساتھ بات چیت کی۔ اس وقت شاہ روم کے سامنے ایک پادری کھڑا تھا وہ آگے بڑھا اور اس کے منہ پر تھپڑ مار دیا، جس قیدی کو تھپڑ مارا گیا وہ قریشی تھا، اس سے یہ توہین برداشت نہ ہو سکی اور وہ وہیں کھڑے کھڑے پکار اٹھا: ہائے اسلام! معاویہ تم کہاں ہو؟ تم نے ہمیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا، ہماری سرحدوں کو ضائع کر دیا اور ہمارے دشمن کو ہمارے خون اور عزتوں کے بارے فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا۔ جب یہ خبر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ملی تو اس سے انہیں اس قدر شدید دکھ پہنچا کہ لذیذ خوراک لینے سے ہاتھ کھینچ لیا۔ لوگوں سے میل جول ترک کر دیا مگر کسی کو اس واقعہ سے مطلع نہ کیا اور پھر حیلہ گری سے کام لیتے ہوئے اسے اور اس کے دیگر قیدی ساتھیوں کو فدیہ دے کر رومیوں سے رہا کروا لیا، رہائی کے بعد سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے پاس بلایا، اس کی جی بھر کر خدمت کی اور فرمایا: ہم نے نہ تو تجھے ضائع کیا اور نہ تیرے خون اور تیری عزت کو کسی کے لیے مباح قرار دیا، اسی دوران وہ رومیوں کے ہاتھوں اپنے ایک مسلمان مجاہد کی بے عزتی کا انتقام لینے کے بارے میں مختلف پہلوؤں پر سوچ و بچار کرنے میں مصروف رہے۔ آخر کار انہوں نے ساحل دمشق سے بحری جنگوں کے حوالے سے ایک تجربہ کار شخص کو اپنے پاس بلایا اور اسے اپنے پروگرام سے آگاہ کرتے ہوئے اسے بڑے محتاط انداز میں کامیاب بنانے کے لیے کہا۔ پھر دونوں کا اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ وہ بھاری رقوم خرچ کر کے مختلف قسم کی عمدہ اشیاء خورد و نوش، خوشبو اور جواہرات خریدے گا اور پھر ان کے ذریعے سے بادشاہ تک رسائی حاصل کرے گا، اس مقصد کے لیے اس نے بڑی عمدہ اور تیز رفتار کشتی بھی تیار کروائی۔ وہ آدمی یہاں سے روانہ ہو کر قبرص پہنچا اور اس کے رئیس سے رابطہ کر کے اسے بتایا کہ وہ تجارت کی غرض سے قسطنطنیہ جانا چاہتا ہے اور بادشاہ اور اس کے خواص سے ملاقات کا ارادہ رکھتا ہے۔ جب بادشاہ کو اس کے بارے میں بتایا گیا تو اس نے اسے ملاقات کی اجازت دے دی۔ اس نے بادشاہ سے ملاقات کے موقع پر اسے اور اس کے درباری پادریوں کو قیمتی تحائف دئیے مگر اس قریش کو تھپڑ مارنے والے پادری کی طرف التفات تک نہ کیا اور یہ سب کچھ اسی پروگرام کے مطابق ہوا جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے تیار کیا تھا۔ جب وہ شام واپس آنے لگا تو ان پادریوں نے اسے اپنے لیے مختلف قسم کی چیزیں خرید کر لانے کو کہا۔ وہ آدمی شام واپس آیا تو خفیہ طور سے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے ملا انہیں اپنے سفر کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور رومی درباریوں کی طلب کردہ اشیاء کے بارے میں بتایا، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کی طلب کردہ اور پسندیدہ چیزیں خرید کر انہیں اس کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ اب شام واپسی پر جب تو اس پادری سے ملاقات کرے گا تو وہ تجھ سے تیرے گزشتہ رویے کے بارے میں شکایت کرے گا مگر تو نے اس سے اس پر معذرت کرنا اور اسے تحائف دے کر اپنے سے مانوس کرتے ہوئے شام میں اپنے معاملات کا نگران بنا لینا اور پھر دیکھنا کہ وہ تم سے کون سی اشیاء کا مطالبہ کرتا ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ خفیہ سفیر رومی شاہی دربار کے لوگوں کی مطلوبہ اشیاء کے ساتھ جب قسطنطنیہ پہنچا اور ان کی فرمائش کردہ چیزوں سے بھی زیادہ اشیاء انہیں پیش کیں تو اس کی قدر و منزلت میں کئی گنا اضافہ ہو گیا اور بادشاہ اور اس کے حاشیہ برداروں تک اس کی رسائی ہو گئی۔ جب وہ ایک دن بادشاہ کے دربار میں حاضر ہونے کی تیاری کر رہا تھا تو شاہی دربار میں وہ پادری اس سے کہنے لگا: میں نے تیرا کیا گناہ کیا ہے، تو دوسروں کو تو نوازے چلا جا رہا ہے جب کہ مجھے تو کسی توجہ کا مستحق نہیں سمجھتا؟ اس نے کہا: میں تمہارے ملک میں ایک اجنبی شخص ہوں، مجھے یہ خوف لاحق ہے کہ مسلمانوں کے جاسوس کہیں میرے بارے میں دوسرے مسلمانوں کو آگاہ نہ کر دیں اگر ایسا ہوا تو میری موت یقینی ہے۔ اب جبکہ مجھے اپنی طرف تیرے میلان کا علم ہو چکا ہے تو میں چاہوں گا کہ یہاں تو ہی میرے تمام امور کی نگرانی کرے اور بادشاہ کے پاس بھی تو ہی میرے جملہ معاملات نمٹائے، تجھے سرزمین اسلام سے جس چیز کی بھی ضرورت ہو اگر تو مجھے حکم دے تو میں وہ سب چیزیں تجھے مہیا کر سکتا ہوں، پھر اس نے پادری کو خوشبو، ہیرے جواہرات اور قیمتی ملبوسات تحائف کی صورت میں پیش کیے، جس سے اس نے اس کا دل جیت لیا، وہ بار بار روم سے حضرت معاویہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے روم آتا جاتا رہا اور ہر بار اس پادری کو گراں قدر تحائف پیش کرتا رہا۔ یہاں تک کہ اس نے اس کا پورا پورا اعتماد حاصل کر لیا، پھر ایک دن لوگوں نے یہ منظر بھی دیکھا کہ وہ زنجیروں میں جکڑا معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے کھڑا تھا۔
(الشہب اللامعۃ فی السیاسۃ النافعۃ: صفحہ87 )
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس قریشی کو لایا جائے، جب اسے ان کی خدمت میں حاضر کیا گیا تو اس وقت ان کے مقربین بھی ان کے پاس اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھے تھے جب مجلس بھر گئی تو سیدنا امیر معاویہؓ نے قریشی سے فرمایا اٹھو اور اس پادری سے بدلہ لے لو جس نے شاہ روم کے بھرے دربار میں تمہارے منہ پر تھپڑ مارا تھا۔ ہم نے نہ تو تمہیں ضائع کیا اور نہ تمہاری عزت اور خون کو کسی کے لیے مباح قرار دیا، پھر دیکھتے ہی دیکھتے قریشی نے اس کے منہ پر تھپڑ رسید کر دیا، پھر وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا، جس نے تجھے رئیس بنایا اس نے تیرا اچھا فیصلہ کیا۔ تم بے مثل حکمران ہو، اپنی چراگاہ کی حفاظت کرنا اور اپنی رعیت کی پاسداری کرنا جانتے ہو، پھر انہوں نے پادری کو اس کے لیے اور اس کے بادشاہ کے لیے کئی تحائف دے کر واپس روانہ کر دیا۔ اس طرح سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی عقل و فکر کا بھرپور انداز میں استعمال کرتے ہوئے اپنی فوج کے ایک سپاہی کی بے عزتی کا انتقام لے کر اسے خوش کر دیا، مگر پادری کو بھی صرف اس کے کیے کی سزا دی اور اس پر کسی قسم کی زیادتی کا ارتکاب نہ کیا۔دوسری طرف جب وہ پادری نادر اور قیمتی تحائف کے ساتھ شاہ روم کے پاس پہنچا تو بادشاہ اور اس کے مقربین نے اسے مسلمانوں سے رہائی پر مبارک باد دی اور پھر کہنے لگا، یہ عربوں کا بارعب اور بڑا سمجھ دار حکمران ہے اگر وہ تجھے بھی گرفتار کرنا چاہتا تو اس کا یہ حیلہ بھی کامیاب ہوتا۔
(الشہب اللامعۃ فی السیاسۃ النافعۃ: صفحہ 489)
یہ واقعہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی فہم و بصیرت، حسن سیاست، رعایا کے امور کو اہمیت دینے اور اس کے ہر فرد کے حقوق اور اس کی عزت و آبرو کی حفاظت کرنے کی اہم دلیل ہے۔