Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عقل و دانش اور معاملہ فہمی کی قدرت

  علی محمد الصلابی

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بڑی گہری عقل و فکر کے مالک تھے، معاملات کی گہرائی تک رسائی میں خصوصی قدرت رکھتے تھے۔ پیش آمدہ احداث و واقعات سے بھرپور استفادہ کرتے اور اس امر سے بخوبی آگاہ ہوتے کہ ان سے بچاؤ کیسے کرنا ہے اور اگر وہ سر پر آن پڑیں تو ان سے بچ نکلنے میں کیسے کامیاب ہونا ہے۔ آپ شام پر بیس سال تک امیر اور پھر بیس سال تک منصب خلافت پر فائز رہے۔

(الطبقات الکبری: جلد 7 صفحہ 406)

چالیس سال پر محیط اس طویل عرصہ میں وہ فوجی مناصب پر بھی فائز رہے اور شہری ولایت پر بھی۔ جس نے انہیں ملکی سیاست میں بڑا وسیع تجربہ حاصل کرنے اور پیش آمدہ ہر طرح کے حالات و واقعات سے استفادہ کرنے کا موقع فراہم کیا، یہاں تک کہ ان کی حکومت کے آخری بیس سالوں میں ان سے جھگڑا کرنے والا کوئی ایک فرد بھی باقی نہ رہا۔

(الأمویون بین الشرق و الغرب: جلد 1 صفحہ 82)

حضرت شیخ خضری فرماتے ہیں: سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو سیاست میں گہرا اثر و نفوذ حاصل تھا، آپ عرب کے ذہن ساز تھے اور حلم و حوصلہ میں کوئی شخص بھی ان کا ہم پلہ نہ تھا۔

(الدولۃ الامویۃ للخضری: صفحہ 377)

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کامیاب سیاست کا دار و مدار قہر وغضب کے وقت ضبط نفس پر قدرت اور مشکلات کا سامنا کرنے کی صلاحیت پر ہوتا ہے۔ جبکہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس سے وافر حصہ میسر آیا تھا، اور ان کی یہ سیاست عوام و خواص کے ساتھ ایک جیسی تھی، بادشاہوں کے ساتھ بھی ان کی سیاسی روش وہی تھی جو اپنے ماتحت لوگوں کے ساتھ، اس کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں: