Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور ان کا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراض

  علی محمد الصلابی

الف: مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور ان کا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراض

سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ وہ ایک وفد کی صورت میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے میری ضرورت پوری کر دی، پھر مجھے علیحدگی میں بلا کر کہنے لگے: مسور! تم ائمہ پر لعن طعن کیا کرتے تھے اب اس کا کیا بنا؟ انہوں نے جواب دیا: ہمارے بارے میں درگزر سے کام لیں اور ہم سے جو کچھ ہوا اسے جانے دیں۔ اس پر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، اللہ کی قسم، تمہیں میرے عیوب و نقائص کے بارے میں بتانا ہو گا۔ مسور کہتے ہیں ان کے اصرار پر میں نے وہ تمام عیوب ان کے سامنے گنوا دیے جو میں ان پر لگایا کرتا تھا۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: گناہ سے تو کوئی بھی بری نہیں ہے مگر کیا تم میرے وہ اصلاحی اقدامات بھی گنوا سکتے ہو جو میں نے عوام الناس کے لیے سر انجام دیئے اس لیے کہ نیکی کا اجر دس گنا ملتا ہے؟ یا تو میرے گناہ ہی گنتا رہے گا اور نیکیوں کو طاق نسیان پر رکھ دے گا؟ مسور کہنے لگے: ہم صرف انہی گناہوں کا ذکر کرتے ہیں جنہیں تم بھی دیکھ رہے ہو۔ اس پر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم اللہ کے سامنے اپنے ہر گناہ کا اعتراف کرتے ہیں مگر کیا تم نے بھی کوئی ایسا گناہ کیا ہے کہ اگر اللہ نے تمہیں وہ گناہ معاف نہ کیا تو وہ تمہیں ہلاک کر ڈالے گا؟ مسور نے اس کا جواب اثباب میں دیا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہیں کون سی چیز نے اس مقام پر لا کھڑا کیا کہ تم مجھ سے زیادہ مغفرت کی امید کرتے ہو؟ اللہ کی قسم! تم مجھ سے زیادہ اصلاحی امور سر انجام نہیں دیتے ہو۔ اللہ کی قسم! میں نے ہمیشہ اللہ کو اس کے علاوہ ہر چیز پر پسند کیا اور میں اس دین کا پیروکار ہوں جس میں اللہ تعالیٰ عمل کو پسند کرتا ہے، حسنات کا بدلہ دیتا ہے اور گناہوں کی سزا دیتا ہے مگر جسے چاہے اسے معاف بھی فرما دیا کرتا ہے۔ میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ وہ ہر نیکی کا بدلہ کئی گنا دے گا، بحمد اللہ میں اللہ کے لیے ایسے بڑے بڑے امور سر انجام دیتا ہوں جنہیں نہ تو تم شمار کر سکتے ہو اور نہ ہی وہ میرے شمار میں ہیں۔ مثلاً اقامت صلاۃ کا اہتمام کرنا، فی سبیل اللہ جہاد کرنا، بما انزل اللہ کے مطابق فیصلے کرنا اور علاوہ ازیں متعدد امور۔ مسور نے کہا: مجھے معلوم ہو گیا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے جن باتوں کا ذکر کیا ہے میرے پاس ان کا کوئی جواب نہیں ہے۔ حضرت عروہؓ فرماتے ہیں: اس کے بعد مسور نے جب بھی معاویہ رضی اللہ عنہ کو یاد کیا ان کے لیے بخشش کی دعا کی۔

(تاریخ بغداد: جلد 1 صفحہ 20، 209۔ سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 151)

اس خبر سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو مطمئن کرنے اور مخالفین کے غصے کو فرو کرنے کے فن میں یدطولیٰ رکھتے تھے۔ امیر المؤمنین سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مسور بن مخرمہؓ کو اپنی سیاسی حکمت عملی کو قبول کرنے پر نہ صرف یہ کہہ کر آمادہ کر لیا بلکہ وہ اس سے مطمئن بھی ہو گئے اور اگر پہلے وہ ان پر جارحانہ انداز میں تنقید کیا کرتے تھے تو اب نہ صرف یہ کہ ان کی مدح و ستائش کرنے لگ گئے بلکہ ان کے لیے دعائیں بھی کرنے لگ گئے۔ اس خبر میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے جس تربیتی پہلو کی طرف توجہ دلائی وہ یہ ہے کہ بندہ مسلم کے لیے عادلانہ رویہ یہی ہے کہ جہاں وہ حکمرانوں کی برائیوں اور خطاؤں پر نظر رکھتا ہے وہاں ان کی نیکیوں اور اچھائیوں کو بھی پیش نظر رکھا کرے اور پھر ان دونوں پہلوؤں میں موازنہ کرے، ہو سکتا ہے کہ جن حکمرانوں پر وہ تنقید کے تیر برساتے رہتا ہے انہوں نے اتنے بڑے بڑے نیک اعمال کیے ہوں جن کے مقابلہ میں ان کے گناہ نہ ہونے کے برابر ہوں۔

(التاریخ الاسلامی: 17، 18، 539)