Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ

  علی محمد الصلابی

د: ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ

ابن عبدالبر الاستیعاب میں اپنی سند (مصنف عبدالرزاق: رقم: 19909۔ یہ سند مرسل ہے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انصار سے یہ فرمانا اسید بن حضیر کی حدیث سے ثابت ہے۔ ملاحظہ ہو: بخاری: رقم: 3792۔ مسلم: رقم: 1845 الاستیعاب: صفحہ 670) سے ذکر کرتے ہیں کہ جب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ آئے تو سیدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے ان سے ملاقات کی۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: ابو قتادہ، سب لوگ مجھ سے ملاقات کے لیے آتے ہیں مگر تم انصار نہیں آتے ہو، تمہیں ایسا کرنے سے کس چیز نے روک رکھا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہمارے پاس سواریاں نہیں ہیں۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہارے اونٹ کہاں ہیں؟ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ہم نے انہیں جنگ بدر کے دن آپ کے اور آپ کے باپ کی تلاش میں کاٹ دیا تھا۔ انہوں نے کہا: ہاں ابو قتادہ، پھر ابو قتادہ کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا تھا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ترجیح دیکھیں گے۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کیا کرنے کا حکم دیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: صبر کرنے کا۔ اس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: پھر تم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات تک صبر کرو۔

(الاستیعاب: صفحہ 670، رقم الترجمۃ: 2346)