Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تواضع اور پرہیز گاری

  علی محمد الصلابی

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ جن صفات میں بڑی شہرت رکھتے ہیں ان میں سے ایک اہم صفت انکسار و تواضع ہے، وہ اپنے عام خطبات میں اس امر کا اعتراف کرتے تھے کہ لوگوں میں ان سے بہت بہتر اور افضل لوگ بھی موجود ہیں، حالانکہ اس وقت وہ مسلمانوں کی امارت کے منصب پر فائز تھے لوگوں کا ان پر اتفاق ہو چکا تھا اور وہ ان کے غیر متنازع امیر قرار پائے تھے، انہوں نے ایک دفعہ فرمایا: لوگو! میں تم سے بہتر نہیں ہوں، تم میں مجھ سے بہت بہتر لوگ بھی موجود ہیں جیسا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور ان کے علاوہ متعدد فاضلین کرام، مگر شاید میں ولایت کے حوالے سے تمہارے لیے زیادہ مفید، دشمن کے لیے ضرب کاری اور تمہاری منفعت کا زیادہ ادراک کرنے والا ثابت ہوں گا۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 436)

امام احمدؒ اپنی سند کے ساتھ ابو علی بن ابو حملہ سے روایت کی ہے وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو دمشق میں منبر پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا اس وقت انہوں نے پیوند لگی قمیص زیب تن کر رکھی تھی۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 152۔ الزہد: صفحہ 172)

ان کی پرہیز گاری کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ایک دفعہ اپنی کسی لونڈی کو شہوت کی نظر سے دیکھا مگر انہوں نے محسوس کیا کہ وہ اس سے جنسی تعلقات قائم کرنے سے قاصر ہیں، جو شخص اسے آپ کے پاس لے کر آیا تھا آپ نے اس سے فرمایا: اسے یزید بن معاویہ کے پاس لے جائیں، پھر کہنے لگے: نہیں، بلکہ میرے پاس ربیعہ بن عمرو جرشی کو لے کر آئیں۔ ربیعہ ایک فقیہ عالم دین تھے جب وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان سے فرمایا: جب اس لونڈی کو میرے سامنے پیش کیا گیا تو اس وقت یہ بے لباس تھی اور اس کے جسم کے فلاں فلاں حصے پر میری نظر پڑ گئی، لہٰذا میں نے ارادہ کیا کہ اسے یزید کے پاس بھیج دوں۔ اس پر ربیعہ کہنے لگے: امیر المؤمنین ایسا نہ کریں اس لیے کہ یہ تمہارے لیے مناسب نہیں ہے۔ اس پر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے بہت اچھی رائے دی، پھر سیدنا معاویہؓ نے وہ لونڈی عبداللہ بن مسور فزاری کو ہبہ کر دی۔ یہ سیاہ فام تھے اور سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے۔ آپ نے اس سے فرمایا: اس سے سفید اولاد حاصل کریں۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 396)

اس اثر کی تعلیق میں ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فقہ اور ان کے محتاط رویہ کا نتیجہ ہے اس لیے کہ انہوں نے لونڈی کو شہوت کی نظر سے دیکھا تھا جس کی بنا پر اسے اپنے بیٹے یزید کو ہبہ کرنے میں حرج محسوس کیا اس لیے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَلَا تَنۡكِحُوۡا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ ۞ (سورۃ النساء آیت 22)

ترجمہ: اور جن عورتوں سے تمہارے باپ دادا (کسی وقت) نکاح کرچکے ہوں، تم انہیں نکاح میں نہ لاؤ، 

اور پھر ربیعہ بن عمرو جرشی دمشقی نے ان کے اس موقف کی تائید کر دی۔

( البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 396)