ام المؤمنین سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ سنت |…

ام المؤمنین سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 3

اُمّ المؤمنین حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا
نام: جویریہ 
والد: حارثؓ بن ابی ضرار
سنِ پیدائش: بعثت نبوی سے 2 سال قبل 
قبیلہ: بنو مصطلق
زوجیتِ رسولﷺ: 5 ہجری 
سنِ وفات: 50 ہجری 
مقامِ تدفین: جنتُ البقیع مدینہ منورہ 
کل عمر: 65 سال تقریباً
نام و نسب:
آپ کا پیدائشی نام برّہ تھا، جسے آپﷺ نے تبدیل فرما کر جویریہ رکھا۔ 
سلسلہ نسب: اس طرح ہے: برّہ بنتِ حارث بن ابی ضرار بن حبیب بن عائد بن مالک بن جذیمہ بن سعد بن عرو بن ربیعہ بن حارثہ بن عمرو مزیقیاء۔
ولادت:
سیدہ جویریہؓ آپﷺ کے اعلان نبوت سے تقریباً 2 سال قبل پیدا ہوئیں۔  
خاندانی پس منظر:
سیدہ جویریہؓ کا تعلق قبیلہ بنو مصطلق سے ہے۔ قبیلہ بنی خزاعہ کی ایک شاخ کا نام بنو مصطلق تھا، جو خزیمہ ابنِ سعد ابنِ عمر کی اولاد سے ہے۔ خزیمہ کا لقب "مصطلق" تھا۔ یہ بہت خوش آواز تھا، بنو خزاعہ میں سب سے پہلے گانا اسی نے گایا۔
سیدہ جویرہؓ کے والد سیدنا حارثؓ بن ابی ضرار اسلام لانے سے پہلے اپنے زمانے کے مشہور رہزن اور ڈاکو تھے، ان کو مسلمانوں سے خاص دلی عداوت تھی۔ اپنے قبیلے کے سردار مانے جاتے تھے اس لیے بنو مصطلق کا پورا قبیلہ آپ کے ساتھ رہزنی و ڈکیتی میں ساتھ دیتا۔ رسول اللہﷺ کے ساتھ اُمّ المؤمنین سیدہ جویریہؓ کے نکاح سے پہلے یہ قبیلہ مسلمانوں کے خلاف تقریباً ہر جنگ کا حصہ رہا۔
لیکن جب سیدہ جویریہؓ اُم المؤمنین بنیں تو اس قبیلے کے اکثر لوگوں نے اسلام قبول کر لیا اور رہزنی و ڈکیتی چھوڑ کر متمدن اور مہذب زندگی اختیار کر لی تھی اور اس کے بعد مسلمانوں کے خلاف کسی جنگ میں حصہ نہیں لیا۔
پہلا نکاح:
جب سیدہ جویریہؓ بالغ ہوئیں تو آپؓ کے والدین کو آپؓ کی شادی کی فکر لاحق ہوئی۔ صفوان بن ابی شفر بن سرح بن مالك بن جذيمہ ایک دن ان کے گھر آئے۔ صفوان اور حارث دوونوں قریبی رشتہ بھی تھے۔ صفوان کے دادا سرح اور حارث کے پردادا عائذ دونوں مالک بن جذیمہ کے بیٹے تھے۔ صفوان بن ابی الشفر نے حارث سے کہا کہ برہ سیدہ جویریہؓ کی شادی کے بارے پریشان ہونے کی چنداں ضرورت نہیں۔ میں خود اپنے بیٹے مسافع کے لیے آپ سے بَرَّہ کا ہاتھ مانگنے آیا ہوں۔ چنانچہ یہ شادی طے ہوگئی اور آپؓ کا نکاح مسافع کے ساتھ ہو گیا۔
یثرب کا چاند گود میں:
انہی دنوں سیدہ جویریہؓ کو ایک عجیب خواب آیا۔ آپؓ کیا دیکھتی ہیں کہ یثرب مدینہ منورہ سے چاند چلتا ہوا ان کی گود میں اترتا ہے۔ خواب چونکہ بہت عجیب و غریب تھا اس وجہ سے آپؓ کی اسی وقت بیدار ہوئیں اور اس کی تعبیر سوچنے لگیں۔ لیکن اس خواب کا کسی سے حتیٰ کہ اپنے شوہر مسافع سے بھی ذکر نہیں کیا۔ کچھ دنوں بعد جب آپؓ کا نکاح جناب نبی کریمﷺ کے ساتھ ہوا تو آپ نے اپنے خواب کی تعبیر پا لی۔
غزوہِ مُرَیْسِیع:
اسی دوران ایک اہم واقعہ یہ پیش آیا کہ نبی کریمﷺ کو یہ اطلاع ملی کہ قبیلہ بنومصطلق کا سردار حارث بن ابی ضرار اپنے قبیلے اور کچھ دیگر قبائل کے لوگوں کے ہمراہ اہلِ اسلام کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے تیاریاں کر رہا ہے۔ چنانچہ آپﷺ نے سیدنا بریدہ بن حصیب اسلمیؓ کو حقیقت حال معلوم کرنے کے لیے بنو مصطلق کی طرف روانہ کیا۔ انہوں نے وہاں پہنچ کر حارث بن ضرار سے ملاقات کی اور بات چیت کی اور واپس آکر رسول اللہﷺ کو حالات سے باخبر کیا کہ واقعی بنو مصطلق اور دیگر قبائل کے لوگ حارث بن ابی ضرار کی قیادت میں مسلمانوں پر حملہ آور ہونے والے ہیں۔
چنانچہ آپﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کوجنگ کی تیاری کا حکم دیا اور مؤرخہ 2 شعبان 5 ہجری کو بنی مصطلق کی طرف روانہ ہوئے۔ اس سفر میں اُمہات المؤمنینؓ میں سے سیدہ عائشہؓ اور سیدہ اُمِ سلمہؓ بھی آپﷺ کے ہمراہ تھیں۔ روانہ ہوتے وقت آپﷺ نے مدینہ منورہ کے انتظامی معاملات سیدنا زید بن حارثہؓ یا سیدنا ابوذرؓ یا پھر سیدنا نمیلہ بن عبداللہ لیثیؓ کو سونپے۔ اس غزوے میں آپﷺ کے ہمراہ منافقین کی بھی ایک جماعت ساتھ تھی جو اس سے پہلے کسی غزوے میں شریک نہیں ہوئی تھی۔
دوسری طرف حارث بن ابی ضرار نے بھی اسلامی لشکر کی نقل و حرکت، سپاہیوں کی تعداد اور اسلحہ کی مقدار معلوم کرنے کے لیے ایک جاسوس بھیجا، یہ جاسوسی کرتے ہوئے پکڑا گیا اور مسلمانوں نے اسے قتل کر دیا حارث بن ابی ضرار اور اس کے قبیلے کے لوگوں کو جب یہ اطلاع ملی کہ لشکر اسلام اپنے رسول اللہﷺ کی قیادت میں بنو مصطلق کی طرف آ رہا ہے مزید یہ کہ انہیں اپنے جاسوس کے قتل کیے جانے کا علم ہوا تو وہ سخت خوفزدہ ہوئے۔ بنو مصطلق کے علاوہ جو دیگر قبائل کے لوگ ان کے ساتھ تھے وہ سب خوف کے مارے واپس ہوگئے۔ ادھر لشکرِ اسلام رسول اللہﷺ کی قیادت میں مقام قدید کے قریب چشمہ مریسیع تک پہنچ گئے۔
نوٹ: مُرَیْسِیْع۔ م کو پیش جبکہ راء کو زبر ساتھ پڑھنا ہے۔
سیدنا حارثؓ بن ابی ضرار نے یہ صورتِ حال دیکھی تو آمادہ جنگ ہوگئے۔ رسول اللہﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی صف بندی فرمائی۔ اسلامی لشکر کا جھنڈا سیدنا ابوبکرؓ کو دیا اور خاص انصار کا جھنڈا سیدنا سعد بن عبادہ انصاریؓ کے ہاتھ میں۔
یہ جنگ کچھ دیر تک جاری رہی، دونوں طرف سے تیروں کا تبادلہ ہوا۔ اس کے بعد رسو ل اللہﷺ کے حکم سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے یکبارگی حملہ کیا اور بنو مصطلق کے قدم اکھڑ گئے، مسلمان فتح یاب ہوگئے اور مشرکین نے شکست کھائی۔ بنو مصطلق کے گیارہ آدمی مارے گئے جن میں سیدہ جویریہؓ کے پہلے شوہر مسافع بن صفوان بھی شامل تھے اور چھ سو کے قریب گرفتار ہوئے۔ ان قیدیوں میں بنو مصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار کی بیٹی برہ سیدہ جویریہؓ بھی تھیں۔
مسلمانوں میں سے صرف ایک صحابی سیدنا ہشام بن صباحہؓ شہادت پر فائز ہوئے تھے، یہ بھی ایک شبہ کی وجہ سے شہید ہوئے، ایک انصاری صحابی کو ان کی پہچان نہ ہو سکی اور انہوں نے آپ کو دشمن کا آدمی سمجھ کر قتل کر دیا تھا۔ حارث بن ابی ضرار اور دیگر چند لوگوں نے راہِ فرار اختیار کی اور بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔
مالِ غنیمت:
صفحہ 1 از 3