ام المؤمنین سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ سنت |…

ام المؤمنین سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 3
اس جنگ میں مسلمانوں کو دو ہزار اونٹ، پانچ ہزار بکریاں مالِ غنیمت میں ملیں اور دو سو گھروں کے چھ سو مرد، عورتیں اور بچے اسیر ہوئے۔ مالِ غنیمت کو مجاہدین میں بانٹ دیا گیا اور قیدیوں کو لوگوں میں تقسیم کردیا گیا۔
قبولِ اسلام:
ان قیدیوں میں سیدنا حارثؓ بن ابی ضرار کی بیٹی برہ بھی موجود تھیں۔ اُم المؤمنین سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ سیدہ جویریہ بنتِ حارثؓ سیدنا ثابت بن قیسؓ بن شماس یا ان کے چچا زاد کے حصے میں آئی۔ چنانچہ سیدہ جویریہؓ نے اپنے بارے میں مکاتبت کر لی۔
نوٹ: مکاتب اس غلام اور مکاتبہ اس لونڈی کو کہتے ہیں جو اپنے مالک سے یہ طے کر لے کہ وہ ایک مقررہ رقم مالک کو ادا کر کے آزاد ہوجائے گا / ہو جائے گی۔
سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ سیدہ جویریہؓ حسن صورت کی مالک خاتون تھی یہ رسول اللہﷺ کے پاس آئی کہ اپنی مکاتبت ادائیگی رقم سے مشروط آزادی کے سلسلے میں آپﷺ کے پاس آئی۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں: میں نے دیکھا کہ سیدہ جویریہؓ دروازے پر کھڑی ہوئی تھی سیدہ جویریہؓ نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! میں حارث کی بیٹی جویریہ ہوں، میرا معاملہ آپ سے مخفی نہیں ہے (کہ جنگی قیدی ہوں اور لونڈی بنائی گئی ہوں) میں سیدنا ثابت بن قیسؓ بن شماس کے حصے میں آئی ہوں۔ میں نے ان سے اپنے بارے مکاتبت کر لی ہے۔ میں آپﷺ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوئی ہوں کہ آپﷺ اس بارے میرے ساتھ تعاون فرمائیں۔ آپﷺ نے فرمایا: کیا تم اس سے بہتر معاملہ پسند نہیں کرتی ہو؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ وہ کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: میں تمہاری طرف سے تمہاری رقم ادا کر دیتا ہوں اور آپ سے شادی کر لیتا ہوں۔
انہوں نے کہا: میں راضی ہوں۔ علامہ ذہبیؒ نے لکھا ہے کہ سیدہ جویریہؓ نے اسی وقت اسلام قبول فرمایا۔
سیدہ جویریہؓ اُم المؤمنین بنتی ہیں:
قبولِ اسلام کے بعد نبی کریمﷺ نے سیدہ جویریہؓ کی طرف سے رقم ادا کی۔ سیدہ جویریہؓ کو اپنی ازواجِ مطہراتؓ میں شامل فرما کر اُمُ المؤمنین سیدہ جویریہؓ بنا دیا۔ اور حق مہر کے طور پر ان کے قبیلے کے 40 غلام آزاد فرمائے۔
حجاب کے حکم کی حکمت:
سیدنا عمرؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے سیدہ جویریہؓ کو حجاب کا حکم دیا اور باقی ازواجِ مطہراتؓ کی طرح ان کے لیے بھی آپﷺ نے باری مقرر فرمائی۔
نوٹ: سیدنا عمرؓ نے جو یہ فرمایا ہے کہ آپﷺ نے سیدہ جویریہؓ کو حجاب کا حکم دیا۔ اس بات کو سمجھنے کے لیےاس کا پسِ منظر سمجھنا ضروری ہے۔ جب پردے کے احکام نازل ہوئے تو آزاد عورت اور باندی میں فرق کرنے کے لیے یوں کیا جاتا، کہ آزاد عورت مکمل پردہ فرماتی جبکہ لونڈیوں کو چہرہ کھلا رکھنے کی اجازت تھی۔ سیدنا عمرؓ کی بات کا مطلب یہ ہے کہ سیدہ جویریہؓ نبی کریمﷺ کی لونڈی نہیں تھی بلکہ آپﷺ نے انہیں آزاد فرما کر نکاح فرمایا تھا۔ چونکہ یہ پردہ کا حکم دینے والی بات اُمُ المؤمنین سیدہ صفیہؓ کے حالات میں بھی آ رہی ہے اس لیے یہاں اس کی وضاحت کر دی ہے تاکہ وہاں بھی سمجھنے میں آسانی رہے۔
حارث بن ابی ضرار کا سفرِ مدینہ:
آپؓ کے والد سیدنا حارثؓ بن ابی ضرار کو کسی نے یہ اطلاع دی کہ برہ کو لونڈی بنا لیا گیا ہے تو سیدنا حارثؓ بن ابی ضرار اپنی بیٹی کی رہائی کے لیے بہت سا مال واسباب اونٹوں پر لاد کر مدینہ کی طرف عازمِ سفر ہوئے۔ ان اونٹوں میں دو اونٹ سیدنا حارثؓ کو بہت پسند تھے، چنانچہ دورانِ سفر انہوں نے وہ دو اونٹ مقامِ عقیق پر کسی گھاٹی میں باندھ دیے اور باقی مال و اسباب سے لدے ہوئے اونٹ لے کر مدینہ پہنچے۔ آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: میری بیٹی آپ کی قید میں ہے میں اس کی رہائی کے لیے یہ مال و اسباب لایا ہوں۔ یہ لے لیں اور میری بیٹی کو آزاد کر دیں۔
سیدنا حارثؓ بن ابی ضرار کا قبولِ اسلام:
اسی دوران اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو یہ بتلا دیا کہ حارث نے فلاں مقام پر دو اونٹ چھپا دیے ہیں۔ چنانچہ آپﷺ نے فرمایا: دو اونٹ جو تم چھپا آئے ہو وہ کہاں ہیں؟ سیدنا حارثؓ بن ابی ضرار نے یہ سنا تو حیران ہوا اسے یقین ہو گیا کہ آپﷺ سچے نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ ان پر وحی بھیجتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے بھی اسلام قبول کر لیا۔
روایات میں آتا ہے کہ اُمُ المؤمنین سیدہ جویریہ بنتِ حارثؓ کے گھر والے بھائی وغیرہ بھی دولتِ اسلام سے مالا مال ہو گئے تھے۔ یہاں پہنچ کر حارث بن ابی ضرارؓ کو معلوم ہوا کہ میری دختر سیدہ جویریہؓ سے نبی کریمﷺ نے نکاح فرمالیا ہے اس پر آپ بے حد خوش ہوئے۔
بابرکت شادی:
سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں: جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو معلوم ہوا کہ رسول اللہﷺ نے سیدہ جویریہؓ سے شادی فرما لی تو انہوں نے بنو مصطلق کے قیدیوں کو اس لیے آزاد کر دیا کہ یہ قبیلہ رسول اللہﷺ کا سسرالی رشتہ دار بن گیا ہے۔ چنانچہ محدثین نے لکھا ہے کہ اس موقع پر بنو مصطلق کے سو خاندان آزادی کی نعمت سے بہرہ مند ہوئے۔
اسی لیے سیدہ جویریہؓ کے اُمُ المؤمنین بننے پر سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں :میں نے سیدہ جویریہؓ سے بڑھ کر کسی عورت کو اپنے قبیلے کے لیے باعث رحمت نہیں پایا۔
بیتِ نبی کی اہلِ بیت:
سیدہ جویریہؓ کے لئےدیگر امہاتُ المؤمنین کے حجروں کے متصل مسجدِ نبوی کے قریب ہی ایک حجرہ تعمیر کرایا گیا تھا۔ اس کی دیواریں کچی اینٹوں کی اور چھت کھجوروں کی شاخوں سے بنائی گئی تھی جسے گارے سے لیپ دیا گیا تھا، دروازے پر اونی ٹاٹ کا پردہ تھا۔
امتیازی خصوصیت:
سیدہ جویریہؓ نے ایک بار جناب نبی کریمﷺ سے عرض کی: یارسول اللہﷺ! آپﷺ کی دیگر ازواج فخر کرتی ہیں۔ آپﷺ نے پوچھا کہ کس بات پر؟ آپؓ نے عرض کی کہ زیادہ حق مہر پر؟ آپﷺ نے فرمایا: کیا میں نے آپؓ کے مہر میں بڑی رقم ادا نہیں کی؟ کیا میں نے آپؓ کی قوم کے 40 غلام آزاد نہیں کیے؟
اوصافِ و کمالات:
سیدہ جویریہؓ نہایت عبادت گزار، تقویٰ و للہیت، قناعت پسند، پیکر صبر ورضا، اور جود و سخا میں بہت آگے تھیں۔ اللہ کریم نے آپؓ کو تمام عمدہ اوصاف عطا فرمائے تھے۔
چار کلمات کا ورد:
صفحہ 2 از 3