ام المؤمنین سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ سنت |…

ام المؤمنین سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 3
ایک دن آپﷺ نماز فجر کے بعد سیدھے سیدہ جویریہؓ کے پاس سے باہر تشریف لائے تو اس وقت وہ اپنے مصلے پر بیٹھی مشغول عبادت تھیں، آپﷺ کافی دیر بعد دوبارہ ان کے پاس تشریف لائے تو ان کو بدستور مصلے پر بیٹھے مصروف عبادت پایا تو فرمایا: جب سے میں باہر گیا ہوں کیا تم اسی وقت سے اسی جگہ یونہی مصروف عبادت ہو؟ آپؓ نے عرض کی: جی ہاں!آپﷺ نے فرمایا: میں جس وقت سے تمہارے یہاں سے اٹھ کر گیا ہوں میں نے تین مرتبہ چار کلمے ایسے پڑھے ہیں اگر ان کا موازنہ آپؓ کی عبادت کے ساتھ کیا جائے تو وہ چار کلمات فضیلت کے اعتبار سے بڑھ جائیں۔
آپؓ نے عرض کی کہ مجھے بھی وہ کلمات سکھلا دیں۔ چنانچہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا:
سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ، وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ۔
آپﷺ کے ان کلمات بتانے کا مقصد یہ تھا کہ اپنے روزمرہ کے اذکار میں ان کلمات کو بھی شامل کر لیا جائے۔ سیدہ جویریہؓ کے پاس ایک دن رسول اللہﷺ تشریف لائے اور پوچھا: کیا کچھ کھانے کو ہے؟ آپؓ نے عرض کی: میری کنیز نے صدقہ کا گوشت دیا تھا، بس وہی موجود ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: لے آؤ جس کو صدقہ دیا گیا تھا اس کو پہنچ چکا۔
نوٹ: یہاں یہ بات ملحوظ رہے کہ خاندان بنی ہاشم کے لیے براہِ راست صدقہ لینا یا صدقے کی کوئی چیز کھانا پینا جائز نہیں، ہاں اگر صدقہ دینے والا ہاشمی خاندان کے علاوہ کسی اور خاندان کے شخص کو صدقہ دے پھر وہ ہاشمی خاندان کے شخص کو ہدیہ میں وہی چیز دے دے تو اب ہاشمی خاندان والے کے لیے جائز ہوگا۔
وفات:
سیدہ جویریہؓ نے 65 سال کی عمر میں 50 ہجری ربیعُ الاول کے مہینے میں وفات پائی مدینہ منورہ کے حاکم مروان بن حکمؒ نے نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کو جنتُ البقیع میں دفن کیا گیا۔


صفحہ 3 از 3