اللہ کے ڈر سے رونا
علی محمد الصلابیایک دفعہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی یہ مرفوع حدیث بیان کی گئی کہ قیامت کے دن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے سب سے پہلے جن لوگوں کے ساتھ جہنم کی آگ کو بھڑکایا جائے گا وہ ہیں: دکھلاوا کرنے والا قاری، دکھلاوے کے لیے خرچ کرنے والا اور دکھلاوا کرنے والا مجاہد۔ اس حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندوں میں فیصلہ کرنے کے لیے ان میں نزول فرمائے گا اس وقت ہر امت نے گھٹنے ٹیک رکھے ہوں گے، سب سے پہلے ان لوگوں کو بلایا جائے گا: قرآن کا عالم، شہید فی سبیل اللہ اور متمول انسان۔ اللہ تعالیٰ عالم و قاری سے فرمائے گا: کیا میں نے تجھے ان چیزوں کا علم نہیں دیا تھا جنہیں میں نے اپنے رسولوں پر نازل کیا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں میرے پروردگار، اللہ فرمائے گا: تو نے جو کچھ سیکھا اس پر کیا عمل کیا؟ وہ جواب دے گا: میں شب و روز اس پر عمل کیا کرتا تھا۔ اللہ فرمائے گا: تو جھوٹ بولتا ہے اور فرشتے بھی کہیں گے: تو جھوٹ بولتا ہے۔ تیرا مقصد یہ تھا کہ لوگ تجھے قاری کہیں اور یقیناً ایسا کہا گیا۔ پھر مال دار شخص کو لایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: کیا میں نے تجھے اتنا زیادہ مال نہیں دیا تھا کہ تو کسی کا محتاج نہ رہا؟ وہ جواب دے گا: میرے پروردگار! ایسا ہی ہوا۔ اللہ فرمائے گا: تو نے میرے عطا کردہ مال کے ساتھ کیا کیا؟ وہ جواب دے گا: میں صلہ رحمی کرتا رہا اور صدقہ و خیرات کرتا رہا۔ اللہ فرمائے گا: تو کذب بیانی سے کام لے رہا ہے۔ فرشتے بھی کہیں گے: تو کذب بیانی سے کام لے رہا ہے، پھر اللہ فرمائے گا: بلکہ تیرا ارادہ یہ تھا کہ لوگ تجھے سخی کہیں اور یقیناً ایسا کہا گیا، پھر اس شخص کو لایا جائے گا جسے اللہ کی راہ میں شہید کر دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: تجھے قتل کیوں کیا گیا؟ وہ جواب دے گا: تو نے اپنے راستے میں جہاد کرنے کا حکم دیا تھا، لہٰذا میں نے تیرے حکم کی وجہ سے جہاد کیا یہاں تک کہ مجھے قتل کر دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے، فرشتے کہیں گے: تو جھوٹ بول رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: بلکہ تو نے اس لیے قتال کیا کہ لوگ تجھے دلیر کہیں اور یقیناً تجھے دلیر کہا گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ٹخنوں پر مارتے ہوئے فرمایا: ابوہریرہ! اللہ کی مخلوق سے یہ تین وہ پہلے لوگ ہوں گے جن کے ساتھ قیامت کے دن جہنم کو بھڑکایا جائے گا۔ جب معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنی تو فرمانے لگے: جب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے ساتھ یہ سلوک کیا تو پھر باقی لوگوں کے ساتھ کیا سلوک ہو گا؟ پھر وہ اس قدر زیادہ روئے کہ ان کے آس پاس کے لوگوں کو خیال ہوا کہ وہ ہلاک ہو جائیں گے، پھر جب انہیں کچھ افاقہ ہوا تو اپنا چہرہ صاف کرتے ہوئے کہنے لگے: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا:
مَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَ زِيۡنَتَهَا نُوَفِّ اِلَيۡهِمۡ اَعۡمَالَهُمۡ فِيۡهَا وَهُمۡ فِيۡهَا لَا يُبۡخَسُوۡنَ ۞ اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ لَـيۡسَ لَهُمۡ فِىۡ الۡاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوۡا فِيۡهَا وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۞ (سورۃ هود آیت 15)
ترجمہ: جو لوگ (صرف) دنیوی زندگی اور اس کی سج دھج چاہتے ہیں، ہم ان کے اعمال کا پورا پورا صلہ اسی دنیا میں بھگتا دیں گے، اور یہاں ان کے حق میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں دوزخ کے سوا کچھ نہیں ہے، اور جو کچھ کارگزاری انہوں نے کی تھی، وہ آخرت میں بیکار ہوجائے گی، اور جو عمل وہ کر رہے ہیں، (آخرت کے لحاظ سے) کالعدم ہیں۔
(اسے ترمذی اور حاکم نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور البانی نے صحیح کہا ہے: 1713)