علماء کی طرف سے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی تعریف و توصیف اور اموی دور کا خیر القرون میں شامل ہونا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ
علی محمد الصلابیسیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’تم قیصر و کسریٰ اور ان کے رعب و دبدبہ کی بات کرتے ہو جبکہ تمہارے پاس سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ موجود ہیں۔‘‘
(المعجم الکبیر: جلد 5 صفحہ 330۔ مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 83)
ابو محمد اموی فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام کی طرف روانہ ہوئے تو دیکھا کہ سیدنا امیر معاویہ ایک مجمع کے ساتھ ان کے استقبال کے لیے آ رہے ہیں۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: معاویہ! تم صبح بھی مجمع میں کرتے ہو اور اس جیسے مجمع میں شام بھی، اور مجھے یہ خبر ملی ہے کہ ضرورت مند تمہارے دروازے پر کھڑے رہتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا: امیر المؤمنین! دشمن ہم سے بہت قریب ہے، اور اس کے جاسوس ہمیشہ سرگرم عمل رہتے ہیں۔ امیر المؤمنین! میں چاہتا ہوں کہ وہ اسلام کی عزت اور شان و شوکت کا مشاہدہ کریں۔ یہ سن کر سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ ایک دانا شخص کی تدبیر ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: امیر المؤمنین! آپ مجھے جو بھی حکم دیں گے میں اس کی تعمیل کروں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: معاویہ! میں نے جب بھی کسی مسئلہ میں آپ پر اعتراض کیا آپ نے مجھے اس حالت میں لا کھڑا کیا کہ مجھے یہ نہیں پتا چلتا کہ آپ کو اس کا حکم دوں یا اس سے منع کروں۔
(انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 147۔ الاستیعاب رقم الترجمۃ: 2346۔ مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 84)