ایمان کے تیسرے رکن ایمان بالکتب کے بارے میں شیعہ علماء کا…

ایمان کے تیسرے رکن ایمان بالکتب کے بارے میں شیعہ علماء کا عقیدہ کیا ہے؟

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 1 از 5

ایمان کے تیسرے رکن ایمان بالکتب کے بارے میں شیعہ علماء کا عقیدہ کیا ہے؟

جواب: اس بارے میں دو مسئلے ہیں:

شیعہ علماء کا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ائمہ پر کتابیں نازل کی ہیں۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

  • مصحف علی رضی اللہ عنہ:

شیعہ عالم اور شیخ حوزات العلمیہ علامہ الخوئی لکھتا ہے: مصحف علیؓ کا وجود موجودہ قرآن سے سورتوں کی ترتیب میں مختلف ہے، اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے، اور علماء کرام نے اسے تسلیم کر رکھا ہے جس کی بنا پر ہمیں اس کے ثبوت کا تکلف بھی نہیں کرنا چاہیے۔

(البیان فی تفسیر القرآن: صفحہ، 223)

شیعہ علماء اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ: جبریل امین علیہ السلام حضرت علیؓ ہی کو قرآن املاء کرواتے تھے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں روایات گھڑ کر ابو عبداللہؒ کی جانب منسوب کی ہیں کہتے ہیں کہ آپؒ نے فرمایا ہے:

رسول اللہﷺ نے حضرت علیؓ کو بلایا اور ایک کاپی بھی منگوائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام باطنی باتیں آپ کو املاء کروائیں۔ پھر آپ بیہوش ہو گئے۔ پھر اس کا ظاہری معنیٰ جبریل امین نے املاء کروایا۔ جب رسول اللہﷺ چوکنے ہوئے تو فرمایا: اے علیؓ! آپ کو یہ باقی کس نے املاء کروایا ہے؟

تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ آپ نے! 

تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: 

میں نے تمہیں اس کا باطنی معنیٰ املاء کروایا تھا؟ جبریل امین نے اس کا ظاہری معنی املاء کروا دیا۔ قرآن آپ پر املاء کروایا جاتا تھا۔

(الاختصاص: صفحہ، 275 املاء جبریل علی امیر المؤمنین) 

  • کتاب علی رضی اللہ عنہ:

شیعہ راویوں کے مطابق یہ کتاب انسان کی لپٹی ہوئی ران کی طرح لپیٹی ہوئی یعنی محفوظ کتاب ہے، اللہ کی قسم! اس کی ایک خوبی یہ ہے کہ اسے حضرت علیؓ نے اپنے ہاتھ سے لکھا ہے اور رسول اللہﷺ نے املاء کروائی ہے۔

(بصائر الدرجات الکبریٰ: جلد، 1 صفحہ، 332 حدیث، 14 باب فی الأمة وانه صارت الیھم کتب رسول اللہﷺ)

مصحفِ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ:

ابو عبداللہؒ پر الزام لگاتے ہوئے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:

حضرت فاطمہؓ نے اپنے پیچھے مصحف چھوڑا جو قرآن نہیں ہے لیکن وہ اللہ کا کلام ہے جو اللہ نے اس پر نازل کی۔ رسول اللہﷺ نے اسے املاء کروایا اور علیؓ نے اسے اپنے ہاتھ سے لکھا۔

(بصائر الدرجات: جلد،1 صفحہ، 315 حدیث، 14 باب فی الأمة و مصحف فاطمہؓ بحار الأنوار: جلد، 26 صفحہ، 41 حدیث، 73 باب جھات علوبھم وما عندھم من الکتاب انکے معاصر عالم استاذ محمد سند کہتے ہیں: مصحفِ فاطمہؓ انکے مصادر علوم میں ایک مصدر کی حیثیت رکھتا ہے۔ الإمام الالهية: صفحہ، 242 محاضرات محمد سند اعداد محمد علی بحر العلوم) 

ایک اور افسانوی روایت میں یہ بھی ہے کہ:

وہ مصحف تمہارے اس قرآن سے تین گنا بڑا ہے۔ اللہ کی قسم! اس میں تمہارے قرآن کا ایک حرف بھی نہیں ہے۔ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کی قسم! اصل علم تو یہ ہے۔ تو آپ نے فرمایا: بلا شبہ علم یہی ہے لیکن وہ قرآن نہیں ہے۔

(اصول الکافی: جلد، 1 صفحہ، 171 اور 172 کتاب الحجہ: حدیث، 1 باب فیہ ذکر الصحیفہ)

تضاد بیانی: شیعہ بھول گئے اور سابقہ روایت کے بالکل الٹ روایت بھی بیان کی گئی کہ سیدہ فاطمہؓ کے مصحف میں کتاب اللہ کی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ اس میں موجود کلام سیدہ فاطمہؓ کے والد کی وفات کے بعد ان پر اور ان کی اولاد پر نازل کیا تھا۔

(بصائر الدرجات الکبریٰ: جلد، 1 صفحہ،321 حدیث، 28 باب فی الأمة بحار الأنوار: جلد، 26 صفحہ، 48 حدیث، 89 باب جھات علومھم)

شیعہ کے امام اکبر خمینی نے کہا ہے:

دوسری حدیث میں ہے کہ:

رسول اللہﷺ کے بعد جبریل امین غیب کی خبر لیکر حضرت فاطمہؓ کے پاس آیا کرتے تھے۔ اور حضرت امیر المؤمنینؓ اس مصحف کو مدون کیا کرتے تھے۔ یہی وہ مصحف فاطمہؓ جڑتا ہے۔

(کشف الإسرار: صفحہ، 143 الحدیث الثانی فی الامامة من این تنبع معتقدات العوام)

 تضاد و تناقض: شیعہ شیخ کلینی ابو بصیر کے واسطے سے رسول اللہﷺ سے ایک طویل جھوٹی حدیث بیان کرتا ہے۔ اس میں ہے:

 پھر نبیﷺ کے پاس وحی آئی تو آپﷺ نے فرمایا:

سَالَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِع لِلْكَفِرِينَ (بولاية علىؓ) لَيْسَ لَهُ دَافِعٌِ مِنَ اللهِ ذی المعارج 

ایک سائل نے عذاب مانگا جو واقع ہونے والا ہے (ولایت علیؓ کے) کافروں پر، کوئی اسے ٹالنے والا نہیں، اس اللہ کی طرف سے جو اونچے درجوں والا ہے۔

میں نے عرض کی: میں آپ پر قربان! ہم اس آیت کو اس طرح (ولایت علیؓ کے ذکر کے ساتھ) تلاوت نہیں کرتے۔ تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! اسی طرح اس آیت کو لے کر جبرائیل علیہ السلام محمدﷺ پر نازل ہوئے تھے اور یہ آیت اسی طرح مصحفِ فاطمہؓ میں موجود ہے۔

(الروضة من الکافی: جلد،8 صفحہ، 1969 کتاب الروضة: حدیث، 18 رسالة منه علی بحار الأنوار: جلد، 35 صفحہ، 324حوالہ، 26 باب قولہ تعالیٰ: ولمآ ضرب ابنِ مریم مثلا)

 اس مصحف کے نزول کی کیفیت:

اب ملاحظہ ہو اس مصحف کے نزول کی کیفیت:

ان کے مزعوم مصحفِ فاطمہؓ کے متعلق أئمہ شیعہ کی بیان کردہ انتہائی دقیق وہ روایت آپ کی خدمت میں حاضر ہے: 

ابو بصیر سے مروی ہے:

 میں نے ابو جعفر محمد بن علی سے مصحفِ فاطمہؓ کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا: یہ آپ کی بنا پر آپ کے باپ کی وفات کے بعد اتارا گیا تھا۔

میں نے پوچھا: اس میں قرآن میں سے کوئی چیز بھی ہے؟ تو فرمایا: اس میں قرآن میں سے کوئی چیز بھی نہیں۔ 

میں نے عرض کی میرے سامنے اس کے کچھ اوصاف بیان کریں۔ فرمایا: اوراق کی لمبائی کے برابر زبرجد کے دو گتے تھے، اس کا رنگ گلابی تھا۔

میں نے عرض کی: میں آپ پر فدا ہو جاؤں اس کے ورق کا میرے سامنے کچھ حال بیان کریں۔ فرمایا: اس کا ورق سفید موتی کا ہے، جسے کہا گیا، بن جا تو وہ بن گیا۔

صفحہ 1 از 5