ایمان کے تیسرے رکن ایمان بالکتب کے بارے میں شیعہ علماء کا…

ایمان کے تیسرے رکن ایمان بالکتب کے بارے میں شیعہ علماء کا عقیدہ کیا ہے؟

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 2 از 5

میں نے عرض کی :میں آپ پر فدا ہو جاؤں اس میں کیا کچھ ہے؟ فرمایا: اس میں جو کچھ ہو چکا، اور جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے، کی خبریں ہیں، اس میں آسمان، آسمان کی خبریں ہیں اور اس میں آسمان میں موجود تمام ملائکہ اور دیگر اشیاء کی تعداد ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ انبیاء و رسل اور غیر انبیاء کی کل تعداد ہے، ان کے نام اور جن کی طرف انہیں بھیجا گیا تھا کے اسماء مندرج ہیں، جنہوں نے انہیں جھٹلایا اور جنہوں نے انہیں مانا سبھی کے اسماء بھی ہیں، اس میں اولین و آخرین کے اللہ تعالیٰ کے تمام پیدہ شدہ مؤمنین و کافرین کے اسماء درج ہیں، شہروں کے نام ہیں، زمین کے مشرق و مغرب میں پائے جانے والے ہر شہر کے حالات میں اس میں پائے جانے والے تمام مؤمنین کی تعداد ہے اور اس میں موجود تمام کافرین کی تعداد ہے، اور ہر جھٹلانے والے کے اوصاف کا بیان ہے۔

 پہلی امتوں کے حالات اور ان کے واقعات کا بیان ہے، ان کے طواغیت بادشاہوں، ان کی مدت بادشاہت اور ان کی تعداد کا اندراج بھی ہے، ائمہ کے اسماء اور ان کی صفات کا بیان ہے اور پھر ہر ایک کی ایک ایک ملکیت میں موجود اشیاء کا بیان ہے، انکے کبراء کے اوصاف کا بیان ہے اور مختلف ادوار میں ہونے والے سب لوگوں کا تفصیلی تذکرہ ہے۔

میں نے عرض کی: میں آپ پر فدا ہو جاؤں اور ادوار کتنے ہیں؟ فرمایا: پچاس ہزار سال اور یہ سات ادوار ہیں، اس میں تمام مخلوق انہیں کے اسماء اور ان کی عمروں اور موت کے اوقات کا اندراج ہے، اہلِ جنت کے اوصاف اور اس میں داخل ہونے والوں کی تعداد، دوزخ رسید ہونے والوں کی تعداد اور ان کے نام، اور پھر اس میں قرآن کا علم جس طرح وہ نازل ہوا تھا، اور تورات کا علم جس طرح وہ نازل ہوئی تھی اور انجیل کا علم جس طرح وہ نازل ہوئی تھی، زبور کا علم اور مزید تمام شہروں میں موجود تمام درختوں اور تمام ڈھیلوں کی تعداد۔

(دلائل الامامة لأبي جعفر محمد بن رستم الطبری الشیعی: صفحہ، 27 اور 28 اور مستدرک سفینة البحار: جلد، 6 صفحہ، 208 مصحفِ سیدہ فاطمہؓ الزہرہ)  

واہ بہت خوب! اس بے سروپا بڑے مصحف کی کتنی جلدیں اور کتنے اوراق ہوں گے؟ بلکہ ایک راوی تو یہ بھی کہتا ہے: بے شک ان کے امام نے فرمایا ہے: میں نے ابھی تک تیرے سامنے وہ بھی بیان نہیں کیا جو دوسرے ورق میں ہے اور میں نے ابھی اس کے حرف کے متعلق کلام نہیں کیا۔ 

وہ کتاب جو رسول اللہﷺ سے ان کی وفات سے قبل نازل ہوئی:

شیعہ علماء نے ابو الصادق سے یہ روایت بیان کی ہے کہ اس نے فرمایا:

بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ پر موت آنے سے قبل ایک کتاب نازل فرمائی تھی اور یہ فرمایا تھا، اے محمدﷺ! یہ کتاب تیرے اہلِ بیتؓ میں سے نجیب صفات اور اعلیٰ نسب شخص کے نام تیری وصیت ہے تو پوچھا: اے جبرئیل! میرے اہل میں سے وہ نجیب صفات اور اعلیٰ نسب شخص کون سا ہے؟ تو اس نے جواب دیا علیؓ بن ابی طالب اور اس کتاب پر سونے کی مہریں بھی لگی ہوئی تھیں، اس کتاب کو نبیﷺ نے حضرت علیؓ کے حوالے کیا اور یہ حکم دیا کہ ان میں سے ایک مہر کو توڑے اور جو اس میں موجود ہو اس پر عمل کرے، تب آپ نے ایک مہر کو توڑا اور اس میں موجود احکام پر عمل کیا، پھر اس کتاب کو آپ نے اپنے بیٹے حضرت حسنؓ کے حوالے کر دیا تو اس نے ایک مہر کو توڑا پھر اس طرح قیام المہدی تک اسی طرح مسلسل چلتے آئے۔

(اصول الکافی الکلینی: جلد، 1 صفحہ، 203 باب ان الامامة لم يفعلوا شیئا إلا بعھد من اللہ)

وضاحتی نوٹ: اللہ تعالیٰ یہود مدینہ کے بارے میں فرماتے ہیں:

يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُمْ بِأَيْدِينِهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ(سورة الحشر: آیت، 2)

ترجمہ: وہ اپنے گھروں کو اپنے ہی ہاتھوں اُجاڑ رہے ہیں اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے بھی (برباد کروا رہے ہیں)

رسول اللہﷺ تو یہاں پر جیسا وہ گمان کر رہے ہیں، بذاتِ خود پوچھ رہے ہیں، وہ نجیب صفات شخص کون ہے؟ آپﷺ نے اسے نہیں پہچانا حتٰی کہ آپ پر موت نازل ہو گئی، تو آپﷺ کی ہم نے جس طرح کہ ان کی اس روایت میں ہے، لوگوں کے سامنے اس امر کا اعلان نہیں فرمایا کہ آپﷺ کے اہلِ بیتِؓ میں سے وہ وصی اور نجیب کون سا فرد ہے؟ بلکہ آپﷺ کو تو اپنی وفات کے وقت تک خود بھی معلوم نہیں ہوا تھا:

فَاعْتَبِرُوا يَا أُولَى الْأَبْصَارِ (سورة الحشر: آیت، 2)

ترجمہ: پس اے آنکھوں والو! عبرت حاصل کرو۔

  • لوحِ فاطمہ رضی اللہ عنہا:

یہ شیعہ علماء کے اعتقاد کے مطابق اللہ تعالیٰ کی جانب سے اپنے نبیﷺ پر اتاری گئی ایک کتاب ہے جو آپﷺ نے اپنی صاحبزادی فاطمہؓ کو ہدیہ کر دی تھی۔

انہوں نے افتراء پردازی کرتے ہوئے ابو بصیر سے روایت کی ہے کہ ابو عبداللہؒ نے جابر بن عبداللہ سے لوحِ فاطمہؓ کے متعلق دریافت کیا تو جابر نے یہ جواب دیا:

میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں آپ کی ماں فاطمہؓ کے پاس حیاتِ رسولﷺ میں داخل ہوا تھا، میں نے انہیں حضرت حسینؓ کی ولادت کی مبارکباد پیش کی، اس وقت میں نے ان کے ہاتھوں میں ایک لوح سبز دیکھی، مجھے خیال گزرا کہ یہ زمرد کی ہے۔

اس میں میں نے ایک کتاب ابیض دیکھی جو آفتاب کی رنگت سے مشابہ تھی۔ یہ کتاب اس طرح شروع ہوتی ہے اس کتاب میں یہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

بسم الله الرحمن الرحيم هذا كتاب من الله العزيز الحكيم لمحمد نبيه و ونوره وسفيره و حجابه و دلیله نزل به الروح الأمين۔ إني لمأ بعث نبياً فأكملت أيامه. وانقضت مدنه إلا جعلت له وصياً وإني فضلتك على الأنبياء وفضلت وصيك على الأوصياء وأكرمت بشبليك و وسبطيك حسن و حسين فجعلت حسناً معدن علمي بعد انقضاء مدة أبيه و جعلت حسيناً خازن وحيي۔

صفحہ 2 از 5