ایمان کے تیسرے رکن ایمان بالکتب کے بارے میں شیعہ علماء کا…

ایمان کے تیسرے رکن ایمان بالکتب کے بارے میں شیعہ علماء کا عقیدہ کیا ہے؟

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 3 از 5

اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو کہ بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے ۔ یہ کتاب اللہ غالب حکمت والے کی طرف سے اس کے نبی و نور اس کے سفیر اور حجاب اور اس کے مرشد محمد کے لیے ہے جو کہ روح الامین لے کر نازل ہوا ہے۔ میں نے کسی بھی نبی کو مبعوث نہیں فرمایا کہ میں نے اس کے ایام کو مکمل کیا ہو اور میں نے اس کی مدت کو ختم کیا ہو مگر میں نے اس کا ایک وصی بنایا ہے، اور بلاشبہ میں نے تجھے تمام انبیاء پر فضیلت عطا کی ہے اور میں نے تیرے وصی کو تمام اوحیاء پر فضیلت عطا فرمائی ہے اور میں نے تجھے تیرے دونوں بہادر بیٹوں یعنی حسنؓ اور حسینؓ کے ساتھ عزت بخشی ہے اور میں نے حسنؓ کو اس کے باپ کی مدت پوری ہونے کے بعد معدن علمی بنایا ہے۔

ابو بصیر نے کہا اگر تو اپنی زندگی میں اس حدیث کے سوا کچھ اور نہ بھی سنتا تو تجھے یہی کافی ہوتی، لہٰذا تو اس کی حفاظت رکھے مگر اس کے اہل سے۔

(اصول الکافی الکلینی: جلد،1 صفحہ، 403 کتاب الحجة: حوالہ:ل، 3 باب ما جاء فی الاثنی عشر والنص علیھم عیون أخبار الرضاء: جلد، 1 صفحہ،71 باب، 6 النصوص علی الرضا بالامامة فی جملة الامة الاثني عشر)

اور ان کے مشائخ نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ اس مصحف کے بارے میں یہ روایت اتنی مشہور و معروف ہے کہ اس پر شیعہ امامیہ کا اتفاق ہے اور کسی نے بھی اس میں کوئی اختلاف نہیں کیا۔

(حقیقة مصحفِ فاطمہؓ عند الشیعة: صفحہ، 49 لشیخھم المعاصر اکرم برکات)

زبردست مصیبت:

انہوں نے اپنی اس مزعومہ کتاب میں ایک ایسی روایت بھی بیان کی ہے، جس نے ان کی عمارت کو بنیادوں ہی سے گرا دیا ہے اور ان کے مذہب شیعیت کی چھت ان کے اوپر گر گئی ہے، انہوں نے یہ حکم لگایا ہے کہ حضرت علیؓ اوصیاء میں شامل نہیں ہیں، انہوں نے اپنی روایت میں یوں بیان کیا ہے:

 میں سیدہ فاطمہؓ کے پاس داخل ہوا آپ کے سامنے ایک لوح تھی، جس میں آپ سے کام کی اولاد میں سے اوصیاء کے نام موجود تھے، میں نے انہیں شمار کیا تو وہ بارہ تھے، ان کا آخری القائم تھا۔ ان میں سے تین محمد نامی تھے اور ان میں سے تین علی نامی تھے۔

(اصول الکافی للكليني: جلد، 1 صفحہ، 408 باب ما جاء فی اثنی عشر من النص علیھم)

  • صحیفہ فاطمہ رضی اللہ عنہا:

ان کے شیوخ کے اعتقاد کے مطابق اس صحیفے کی خوبیوں میں سے ایک یہ بھی ہے جس طرح کہ انہوں نے ابو عبداللہ بن جابر سے روایت بیان کی ہے کہ:

میں اپنی سیدہ فاطمہؓ بنت محمد رسول اللہﷺ کے پاس الحسنؓ کی پیدائش کی مبارک باد دینے کے لیے حاضر ہوا، تب اس کے ہاتھ میں ایک سفید صحیفہ جو موتی سے بنا ہوا تھا، میں نے دریافت کیا، اے خواتین کی سیدہ! یہ صحیفہ کیا ہے جسے میں آپ کے پاس دیکھ رہا ہوں، آپ نے فرمایا: اس میں میری اولاد میں سے ائمہ کے اسماء ہیں، میں نے عرض کی: ذرا مجھے بھی عنایت فرما دیں تا کہ میں اس پر نگاہ ڈال لوں، تب آپؓ نے فرمایا: ارے جابر! اگر منع اور ممانعت نہ ہوتی تو میں ضرور پکڑا دیتی، لیکن اس کے متعلق منع کر دیا گیا ہے کہ اسے بجز نبیﷺ کے یا نبیﷺ کے وصی کے یا نبیﷺ کے اہلِ بیتؓ کے کوئی اور نہ چھوئے۔

(عیون اخبار الرضا: جلد، 1 صفحہ، 70 حوالہ، 1 باب النصوص علی الرضا بالامامة في جملة الأمة)

  • اثناء عشریہ صحیفہ 

ان کے شیوخ نے ان کے شیخ ابنِ بابویہ القمی سے روایت لی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

 بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بارہ انگوٹھیاں اور بارہ صحیفے اتارے ہیں، ہر امام کا نام اس کی انگوٹھی پر اور اس کی صفات اس کے صحیفے میں مندرج ہیں۔

(كمال الدين و تمام النعمة: جلد،1 صفحہ، 255 حوالہ،11 (باب ما روى عن النبي في النص على القائم و انه الثاني عشر من الأئمة) الصراط المستقيم إلى مستحقى التقديم: جلد، 2 صفحہ، 155 الباب العاشر فيما جاء من النصوص المتظافرة على أولاده)

  • صحف علی رضی اللہ عنہ: 

ان میں سے ہر صحیفے میں انیس صحیفے ہیں، جنہیں رسول اللہﷺ نے ائمہ کے پاس محفوظ رکھا یا جنہیں نوازا گیا۔ انہوں نے روایت بیان کی ہے کہ ابو جعفر نے فرمایا:

میرے پاس ایک ایسا صحیفہ ہے جس میں انیسں صحیفے ہیں، جنھیں عطا فرمایا۔

(بصائر الدرجات الكبرىٰ للصفار: جلد، 1 صفحہ، 294 حوالہ، 12 (باب في الأئمة أن عندهم الصحيفة الجامعة التي املاء رسول الله بیده و هي سبعون ذراعا) بحار الأنوار: جلد، 26 صفحہ، 24، حوالہ، 19 (باب جهات علومهم و ما عندهم من الكتب)

صحیفہ ذوا بہ سیف (تلوار کی دستی میں چھپا صحیفہ):

شیعہ علماء ابو عبد اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا حضرت علیؓ کی تلوار کی دستی میں ایک چھوٹا سا صحیفہ تھا۔ حضرت علیؓ نے اپنے بیٹے حضرت حسنؓ کو بلا کر وہ صحیفہ دیا اور انہیں ایک چھری بھی دی، پھر انہیں حکم دیا کہ اس صحیفے کو کھولو لیکن وہ اسے کھول نہ سکے۔ لہٰذا انہوں نے اسے کھول کر حضرت حسنؓ کو دیا اور فرمایا پڑھو۔ تو حضرت حسنؓ نے پڑھا الف ۔ ب ۔ سین ۔ اللام اور یکے بعد دیگرے کئی حروف پڑھے۔ پھر اسے بند کر کے اپنے بیٹے حضرت حسینؓ کو دیا تو وہ بھی اسے کھول نہ سکے۔ پھر انہوں نے خود ہی اسے کھول کر حضرت حسینؓ کو دیا اور انہیں پڑھنے کو کہا۔ انہوں نے حضرت حسنؓ کی طرح اسے پڑھا۔ پھر اس صحیفے کو بند کر کے اپنے بیٹے ابنِ حنفیہ کو دیا تو وہ بھی اسے کھول نہ سکے۔ چنانچہ حضرت علیؓ نے خود ہی اسے کھول کر دیا اور فرمایا: اسے پڑھو مگر وہ اس میں سے کچھ بھی نہ پڑھ سکے، لہٰذا حضرت علیؓ نے وہ صحیفہ ان سے لے کر بند کر کے دوبارہ تلوار کی دستی میں لٹکا دیا۔

راوی کہتا ہے میں نے ابو عبد اللہ سے پوچھا اس صحیفہ میں کیا لکھا تھا؟ انہوں نے جواب دیا یہ وہ حروف ہیں جن کے ایک ایک حرف سے ہزار ہزار حروف کھلتے ہیں۔

ابو بصیر کہتا ہے ابو عبداللہ نے فرمایا اس صحیفے سے آج تک صرف دو حرف نکلے ہیں۔

(بصائر الدرجات الكبرىٰ للصفار: جلد، 2 صفحہ، 86 باب فيه الحروف التي علم رسول اللهﷺ عليا) بحار الأنوار: جلد، 26 صفحہ، 56 حوالہ، 115 (باب جهات علومهم و ما عندهم من الكتب و انه ينقر في آذانهم ويسكت في قلوبهم)

سفید چمڑا اور سرخ چمڑا:

شیعہ کے حجتہ الاسلام کلینی نے یہ روایت گھڑ لی ہے

صفحہ 3 از 5