ایمان کے تیسرے رکن ایمان بالکتب کے بارے میں شیعہ علماء کا…

ایمان کے تیسرے رکن ایمان بالکتب کے بارے میں شیعہ علماء کا عقیدہ کیا ہے؟

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 4 از 5

حسین بن ابو العلاء سے مروی ہے اس نے کہا میں نے ابو عبداللہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے بلاشبہ میرے پاس سفید چمڑا ہے، اس نے کہا، میں نے عرض کی اس میں کونسی چیز ہے؟ فرمایا حضرت داؤد علیہ السلام کی زبور، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تورات، حضرت عیسٰی علیہ السلام کی انجیل، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے اور حلال و حرام اور سیدہ فاطمہؓ کا مصحف اور میرے پاس ایک سرخ چمڑا ہے، میں نے پوچھا: سرخ چمڑے میں کون سی چیز ہے؟ فرمایا اسلحہ، اسے صاف خون کے لیے کھولا جاتا ہے، اسے صرف صاحب تلوار ہی قتل کے لیے کھول سکتا ہے، اسے عبداللہ بن ابو یعفور نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کے احوال کی اصلاح فرمائے کیا الحسن کے بیٹے اسے جانتے ہیں؟

فرمایا جی ہاں! اللہ کی قسم! وہ اس طرح جانتے ہیں جیسے وہ رات کو رات جانتے ہیں اور دن کو دن جانتے ہیں لیکن وہ ایسے ہیں کہ حسد اور طلب دنیا انہیں انکار و جحود پر آمادہ کر رہے ہیں۔ اور اگر وہ حق کو حق کے ذریعے سے طلب کریں گے تو ان کے لیے بہتر ہو گا۔

(أصول الكافي: جلد، 1 صفحہ، 173 كتاب الحجة: حوالہ، 3 باب فيه ذكر الصحيفة و الجفر والجامعة و مصحف فاطمةؓ، بصائر الدرجات الكبرىٰ: جلد،1 صفحہ، 304 حوالہ،1 (باب في الأئمة عليهم السلام أنهم اعطوا الجفر والجامعة و مصحف فاطمةؓ)

  • صحیفہ ناموس:

اس میں قیامت تک آنے والے شیعوں کے نام درج ہیں۔ شیعہ حضرات نے حبابہ الوالبیہ سے روایت نقل کی ہے۔ وہ کہتی ہیں: 

میں نے ابو عبداللہ سے کہا: میرا ایک بھتیجا ہے جو کہ آپ کے علم و فضل سے آگاہ ہے۔ میں یہ چاہتی ہوں کہ آپ مجھے بتا دیں کیا وہ آپ کے شیعہ میں سے ہے؟

 آپ نے پوچھا: اس کا نام کیا ہے؟ میں نے کہا فلاں بن فلاں۔

آپ نے فرمایا: اے فلاں عورت! ناموس لے کر آؤ۔ وہ ایک بڑا مصحف اٹھا لائی۔ آپ نے اسے اپنے سامنے رکھ کر کھول دیا اور پھر اس میں دیکھنے لگے۔

 پھر کہا: ہاں یہاں پر اس کا اور اس کے والد کا نام ہے۔

(بصائر الدرجات: جلد، 1 صفحہ، 341 حوالہ، 1 باب ما عند الأئمة من ديوان شيعتهم بحار الأنوار: جلد، 26 صفحہ، 121 حوالہ، 10 باب أنهم يعرفون الناس بحقيقة الايمان و اسماء شيعتهم وأعدائهم)

  • صحیفه عبیطہ:

کلینی نے افتراء پردازی کرتے ہوئے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے انہوں نے فرمایا اگر میں نشیط ہوا اور انہوں نے مجھے اجازت دی تو میں تمہیں حدیث بیان کرونگا سال گزر جائے اور میں اس میں سے کوئی حرف دوبارہ نہیں دہراؤں گا اللہ کی قسم میرے پاس بہت سے صحیفے ہیں جن میں رسول کریمﷺ اور اہل بیتؓ اور آل رسولﷺ کی فضیلت ہے، اور ان میں ایک ایسا صحیفہ بھی ہے جسے البیطہ کہا جاتا ہے، عرب والوں پر اس سے شدید تر کوئی چیز وارد نہیں ہوئی اور بلاشبہ اس صحیفے میں ساتھ ایسے قبائل عرب کا ذکر ہے جو باطل اور کھوٹے ہیں ان کا اللہ کے دین میں کوئی حصہ نہیں ہے۔

(بصائر الدرجات الكبرىٰ: جلد،1 صفحہ، 303 حديث نمبر، 15 باب آخر فيه أمر الكتب: بحار الأنوار: جلد، 26 صفحہ، 37 حوالہ، 67 باب جهات علومهم و ما عندهم من الكتب و انه ينقر في آذانهم و ينكت في قلوبهم)

  • الجامعة:

کلینی نے ایک روایت گھڑ لی ہے کہ ابو عبداللہ سے یہ فرمان روایت کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا : بلاشبہ ہمارے پاس الجامعہ ہے۔ انہیں کیا معلوم کہ الجامعہ کیا ہے؟

 اس نے کہا میں نے عرض کی، میں آپ پر فدا ہو جاؤں ، ذرا بتائیں کہ الجامعہ کیا ہے؟ فرمایا: وہ ایک صحیفہ ہے جس کا طول رسول اللہﷺ کے ہاتھ کی لمبائی کے حساب سے ستر ہاتھ ہے اور اس میں رسول اللہﷺ کے دین مبارک سے املاء ہے اور حضرت علیؓ کی دست راست کی تحریر ہے، اس میں ہر حلال اور حرام موجود ہے اور اس میں ہر وہ بات موجود ہے، جس کی لوگوں کو حاجت ہےحتٰی کہ خراش کے تاوان کا ذکر بھی ہے۔

(اصول الکافی: جلد، 1 صفحہ، 171 اور 172 كتاب الحجة: حوالہ، 1 باب فيه ذكر الصحيفة و الجفر والجامعه ومصحف فاطمهؓ)

  • وضاحتی نوٹ:

بلاشبہ عجیب و غریب اور انوکھے نرالے امور میں سے ایک بات یہ طرفہ تماشا ہے کہ یہ تمام کتب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئی ہوں اور یہ کتب حضرت علیؓ اور ان کی اولاد اور ائمہ کے لیے خاص ہوں لیکن پوری امت ان سے محروم رہے۔ اور خصوصاً اے شیعہ عوام! تم بھی ان سے محروم رہو اور سوائے اہلِ سنت کے قرآن مجید کے تمہیں بھی کوئی کتاب نصیب نہ ہو، حالانکہ اس قرآن مجید میں بھی تمہارے علماء کے نزدیک تحریف و کمی ہو چکی ہے۔ اگر معاملہ ایسے ہی ہے تو پھر یہ آسمانی کتابیں تمہارے ائمہ نے تم سے کیوں چھپا رکھی ہیں؟ اور آخری بات یہ ہے کہ قرآن کریم کہاں ہے؟ اور یہ آسمانی کتابیں کہاں ہیں؟

تو جواب میں کہتے ہیں: یہ قرآن اور دیگر آسمانی کتابیں انبیاء کرام علیھٹم السلام کی میراث کے ساتھ امام مہدی کے پاس محفوظ ہیں۔

(الانوار النعمانیہ: جلد، 2 صفحہ، 262 نور فرما یختص بالصلوة مناقب آل ابی طالب: جلد، 1 صفحہ، 204 صفات الائمة)

 آخری بات یہ کہ بارہ سو سال سے یہ کتب تمہارے مہدی منتظر کے پاس کیوں چھپائی گئی ہیں، آخر کیوں؟

کہیں ایسا تو نہیں کہ خبیث یہودی مؤلفین نے یہ باطل روایات تمہاری کتابوں میں شامل کر دی ہوں اور تمہارے ائمہ پر جھوٹ باندھا ہو۔ کیونکہ ہم سب کو بخوبی معلوم ہے کہ مسلمانوں کی صرف ایک ہی کتاب ہے جسے قرآن مجید کہا جاتا ہے۔ جو کہ ہر قسم کی تحریف سے محفوظ ہے۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ(سورةالحجر: آیت، 9)

ترجمہ: بے شک ہم نے ہی یہ نصیحت نازل کی ہے اور بے شک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں۔

اور رہی بات کتابوں کے تعداد کی تو یہ یہود و نصاریٰ کی خصوصیات میں سے ہے تو تمہارے علماء یہود و نصاریٰ کی مشابہت سے کیوں نہیں روک رہے؟

دوسرا مسئلہ:

شیعہ علماء اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ یہ ساری آسمانی کتابیں ان کے ائمہ کے پاس ہیں۔ اور وہ ان کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلے کرتے ہیں۔ شیخ کلینی نے اپنی کتاب میں یہ افتراء پردازی کی ہے کہ ان کے امام ابو الحسن نے بریہ نامی ایک عیسائی کے سامنے انجیل پڑھی تو اس نے کہا:

صفحہ 4 از 5