ایمان کے تیسرے رکن ایمان بالکتب کے بارے میں شیعہ علماء کا…

ایمان کے تیسرے رکن ایمان بالکتب کے بارے میں شیعہ علماء کا عقیدہ کیا ہے؟

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 5 از 5

 میں پچاس سال یا تقریباً اتنے ہی عرصہ سے آپ کو ہی تلاش کر رہا تھا، پھر وہ ایمان لے آیا اور بہت اچھا مسلمان ثابت ہوا۔

اس بریہ نے امام سے سوال کیا آپ کو تورات و انجیل اور دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی کتابوں کا علم کیسے حاصل ہو گیا؟

 تو انہوں نے جواب میں فرمایا: یہ کتابیں انبیاء کرام علیہم السلام کی طرف سے ہمارے پاس بطورِ وراثت ہیں۔ ہم انہیں ویسے ہی پڑھتے ہیں جیسے ان انبیاء کرام علیھم السلام نے پڑھا ہے۔ اور ہم بھی وہی عقیدہ رکھتے ہیں جو وہ انبیاء کرام علیہم السلام عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو زمین میں حجت نہیں بناتے جس کے متعلق سوال کیا جائے اور کہیں ہم اس کے متعلق کچھ بھی نہیں جانتے۔

(اصول الكافي: جلد، 1 صفحہ، 164 (كتاب الحجة: حوالہ،1 باب ان الأئمة عليهم السلام عندهم جميع الكتب التي نزلت) تفسير نور الثقلين: جلد،1 صفحہ، 329، حوالہ، 103 سورة آل عمران)

تبصره:

اس روایت سے معلوم ہوا کہ شیعہ نے اپنے ائمہ کے متعلق خبر دی ہے کہ وہ تورات انجیل اور دیگر کتب اسی طرح پڑھتے جیسے انبیاء کرام علیہم السلام نے پڑھی تھیں حتیٰ کہ ائمہ لوگوں کے مسائل کا جواب ان کتابوں کے مطابق دیتے ہیں۔ ان کا یہ عمل اسلام سے خروج اور وحدت ادیان کی دلیل ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:

وَ مَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَسِرِينَ (سورہ آل عمران: آیت، 85)

ترجمہ: اور جو اسلام کے سوا کوئی اور دین تلاش کرے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہو گا۔ 

بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے ساتھ تمام سابقہ آسمانی کتابیں منسوخ کر دی تھیں۔ ارشاد ربانی ہے:

وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الۡكِتٰبَ بِالۡحَـقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ الۡكِتٰبِ وَمُهَيۡمِنًا عَلَيۡهِ‌ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعۡ اَهۡوَآءَهُمۡ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الۡحَـقِّ لِكُلٍّ جَعَلۡنَا مِنۡكُمۡ شِرۡعَةً وَّمِنۡهَاجًا وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَجَـعَلَـكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰـكِنۡ لِّيَبۡلُوَكُمۡ فِىۡ مَاۤ اٰتٰٮكُمۡ فَاسۡتَبِقُوا الۡخَـيۡـرٰتِ‌ اِلَى اللّٰهِ مَرۡجِعُكُمۡ جَمِيۡعًا فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ۞ وَاَنِ احۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعۡ اَهۡوَآءَهُمۡ وَاحۡذَرۡهُمۡ اَنۡ يَّفۡتِنُوۡكَ عَنۡ بَعۡضِ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ اِلَيۡكَ‌ؕ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّصِيۡبَهُمۡ بِبَـعۡضِ ذُنُوۡبِهِمۡ‌ وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوۡنَ‏۞ (سورة المائدة: آیت، 48 اور 49)

ترجمہ: اور (اے ) نبیﷺ! ہم نے آپ پر یہ کتاب حق کے ساتھ نازل کی، یہ تصدیق کرنے والی ہے اس کتاب کی جو اس سے پہلے تھی اور اس پر نگہبان ہے۔ چنانچہ آپ ان کے درمیان اللہ کی نازل کی ہوئی ہدایت کے مطابق فیصلے کر دیں اور آپ کے پاس جو حق آیا ہے اسے نظر انداز کر کے ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے دستور اور طریقہ بنایا اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں ضرور ایک امت بنا دیتا لیکن وہ چاہتا ہے کہ تمہیں اس (کتاب) کے بارے میں آزمائے جو اس نے تمہیں دی ہے۔ چنانچہ تم نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو تم سب نے اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ پھر وہ تمہیں اصل حقیقت بتا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہتے تھے۔ اور اے نبیﷺ! آپ ان لوگوں کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے آپ پر نازل کیا ہے، اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں اور ان سے ہوشیار رہیں، کہیں وہ آپ کو کسی ایسے حکم سے اِدھر اُدھر نہ کر دیں جو اللہ نے آپ پر اتارا ہے، پھر اگر وہ اس سے منہ موڑیں تو جان لیں کہ اللہ کا فقط یہی ارادہ ہے کہ ان کے بعض گناہوں کی وجہ سے انہیں سزا دے، اور بے شک ان میں سے اکثر نافرمان ہیں، کیا یہ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے بہت فیصلہ کرنے والا کون ہے، یقین رکھنے والی قوم کے لیے۔


صفحہ 5 از 5