Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

قاضی ابن العربی المالکی رحمہ اللہ علیہ

  علی محمد الصلابی

ابن العربی رحمہ اللہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خصال حمیدہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

انہوں نے سرحدوں کو محفوظ بنایا۔ فوج کی اصلاح کی، دشمن پر غالب رہے اور مخلوق کی منفعت کے لیے کوشاں رہے۔

( العواصم من القواصم: صفحہ 210، 211)

دوسری جگہ فرماتے ہیں: ’’سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں منصب ولایت پر فائز کیا، اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں اس منصب پر برقرار رکھا۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ انہیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے والی مقرر کیا تھا، اس لیے کہ انہوں نے ان کے بھائی یزید(بن ابو سفیان) کو والی مقرر فرمایا اور یزید نے اسے اپنا جانشین مقرر کیا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں اس عہدہ پر برقرار رکھا اور پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی یہی کچھ کیا۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ سلسلہ کس قدر ٹھوس اور پائیدار ہے۔‘‘

(العواصم من القواصم: صفحہ 82)

اور یہ بات بھی ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنا کاتب مقرر فرمایا تھا … پھر نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ صلح کرتے ہوئے ان کی خلافت کا اقرار کر لیا۔

(سیرۃ عثمان بن عفان: صلابی: صفحہ 300۔ المدینۃ المنورۃ: فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 216)