Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ابن خلدون رحمہ اللہ علیہ

  علی محمد الصلابی

ابن خلدونؒ فرماتے ہیں: مناسب یہی ہے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت اور اس کے اخبار و واقعات کے ساتھ ملحق کیا جائے، اس لیے کہ وہ عدل و انصاف، فضل و شرف اور حجت میں ان کے ہم پلہ ہیں اور حق تو یہ ہے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا شمار خلفائے راشدینؓ میں ہی ہوتا ہے۔ مؤرخین نے صرف دو باتوں کی وجہ سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان سے مؤخر رکھا ہے:

1۔ ان کی خلافت ان کے زمانہ میں سر اٹھانے والی عصبیت، (جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کر دیا ہے) کی وجہ سے دوسری قوتوں پر غلبہ حاصل کرنے والی خلافت تھی، جبکہ قبل ازیں وہ اختیار اور اجتماع سے عبارت تھی۔ مؤرخین نے اس حوالے سے ان دونوں حالتوں میں فرق کو ملحوظ رکھا۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مغالبہ اور عصبیت کے خلفاء میں سے پہلے خلیفہ تھے جنہیں اہل ہواء لوگ بادشاہ کے نام سے تعبیر کرتے اور انہیں ایک دوسرے سے تشبیہ دیتے ہیں۔ مگر حاشا للہ معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان کے بعد آنے والے خلفاء کے ساتھ تشبیہ نہیں دی جا سکتی، وہ خلفائے راشدین میں سے ہیں، دین اور فضل و شرف میں ان جیسے مروانی خلفاء نیز ان کے ہم مرتبہ عباسی خلفاء کا شمار بھی خلفاء راشدینؓ میں ہوتا ہے۔ یہ کہنا ناروا ہے کہ بادشاہت کا رتبہ خلافت کے رتبہ سے کم تر ہے، لہٰذا بادشاہ خلیفہ نہیں ہو سکتا۔ یہ بات آپ کے علم میں رہنی چاہیے کہ جو بادشاہت خلافت کے مخالف بلکہ اس کی ضد ہے وہ جابرانہ بادشاہت ہے جسے کسرویت سے تعبیر کیا جاتا ہے، اور جسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے اس وقت ناپسند کیا تھا جب انہوں نے اس پر اس کے بعض مظاہر کا مشاہدہ کیا تھا، رہی وہ بادشاہت جو عصبیت اور قوت و شوکت کے ساتھ غلبہ و قہر سے عبارت ہے تو وہ نہ خلافت کے منافی ہے اور نہ نبوت کے۔ سلیمان علیہ السلام اور ان کے والد حضرت داؤد علیہما السلام اللہ کے نبی تھے اور بادشاہ بھی، اور وہ دونوں دینی اور دنیوی ہر دو حوالوں سے استقامت کی انتہاء پر فائز تھے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان و شوکت بکثرت دنیا کے حصول کے لیے نہیں تھی بلکہ انہیں (قومی)عصبیت نے اپنی تمام تر خصوصیات کے ساتھ یہاں لا کھڑا کیا تھا اور یہ اس وقت کی بات ہے جب مسلمان ساری حکومت پر قابض ہو گئے اور وہ ان کے خلیفہ قرار پائے تو انہوں نے بھی اپنی قوم کو اسی بات کی طرف بلایا جس کی طرف بادشاہ اپنی اپنی قوموں کو بلایا کرتے ہیں۔

2۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی تعریف و توصیف میں یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعینؒ اور بعد ازاں کے علمائے امت کے بعض اقوال ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے پہلے بادشاہ ہیں اور ان کا شمار ان بہترین شاہانِ اسلام میں ہوتا ہے جن کا عدل ان کے ظلم پر غالب تھا۔ جبکہ وہ بشری کمزوریوں سے بری نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ ان سے درگزر فرمائیں گے جیسا کہ انہوں نے خود کہا وہ اس دین کے پیروکار تھے جس میں اللہ تعالیٰ اعمال کو قبول فرماتا، حسنات کا بدلہ دیتا اور گناہوں کی سزا دیتا ہے الا یہ کہ وہ جسے چاہے معاف فرما دے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کی حکومت کو خاص طور سے اور بنو امیہ کی حکومت کو عام طور سے بعض مؤرخین کے زہریلے تیروں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بعض لوگوں کے خیال میں تو وہ سلطنت مدینہ تھی جبکہ بعض دوسروں کے نزدیک وہ اسلامی نہیں بلکہ عربی دولت تھی، بلکہ بعض تو یہاں تک کہتے ہیں کہ وہ لا دینی حکومت تھی یا اخلاق کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ ایسا کذب و افتراء ہے جس کی دینی حقائق بھی تکذیب کرتے ہیں اور تاریخی شواہد بھی۔ جہاں تک دینی حقائق کا تعلق ہے تو اموی دور حکومت کا آغاز 40 ھ میں ہوا اور 132 ھ تک جاری رہا اور یہ طویل دور امت کے تین بہترین ادوار کو شامل ہے، یعنی صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کے ادوار کو۔

(تاریخنا المفتری علیہ: یوسف قرضاوی: صفحہ 62)

یہ وہ ادوار ہیں جن کی فضیلت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحیح احادیث سے ثابت ہے، مثلاً

ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی یہ مرفوع حدیث: ’’زمانوں میں سے بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے اور پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے۔‘‘

(متفق علیہ: اللؤلؤ و المرجان فیما اتفق علیہ الشیخان: رقم: 1645 )

عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث میں ہے: ’’تم میں سے بہترین میرا زمانہ ہے، پھر ان لوگوں کا جو ان کے بعد آئیں گے اور پھر ان کا جو، ان کے بعد آئیں گے۔‘‘

(ایضاً: رقم: 1646 )

ابو سعید خدری سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ایک زمانہ آئے گا کہ کچھ لوگ جہاد کریں گے تو پوچھا جائے گا: کیا تم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی صحابی بھی موجود ہے؟ اس کا جواب اثبات میں دیا جائے گا تو انہیں فتح سے نوازا جائے گا، پھر ایک اور زمانہ آئے گا ان سے پوچھا جائے گا: کیا تم میں کوئی ایسا شخص بھی ہے جس نے اصحاب نبی میں سے کسی کی صحبت اختیار کی ہو؟ اس کا جواب بھی اثبات میں دیا جائے گا تو انہیں فتح سے ہمکنار کر دیا جائے گا۔‘‘

(ایضاً: رقم: 1647)

مرفوع احادیث میں مذکور تین قرون سے مراد تین زمانے ہیں، یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا زمانہ، تابعین کا زمانہ اور تبع تابعین کا زمانہ۔

(تاریخنا المفتری، یوسف قرضاوی: صفحہ 63)

اس کی یہی تفسیر راجح ہے۔

جن احادیث صحیحہ سے اموی دور حکومت کی فضیلت و منقبت ثابت ہوتی ہے ان میں صحیح بخاری میں خالد بن مہران سے مروی یہ حدیث بھی ہے کہ عمر بن اسود نے اس سے بیان کیا کہ وہ حمص میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت ان کی بیوی ام حرام بھی ان کے ساتھ تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ام حرام نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ’’میری امت کا پہلا لشکر جو سمندر میں جہاد کرے گا اس نے جنت کو واجب کر لیا۔‘‘ (یعنی انہوں نے وہ کام کیا جس کی وجہ سے ان کے لیے جنت واجب ہو گئی۔) ام حرام کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان میں میں بھی شامل ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ان میں تو بھی شامل ہے۔‘‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ’’میری امت سے پہلا لشکر جو قیصر کے شہر میں جہاد کرے گا اس کی مغفرت فرما دی گئی ہے۔‘‘ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان لوگوں میں میں بھی شامل ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نہیں‘‘۔

(بخاری: رقم: 2924)

قیصر کے شہر سے مراد قسطنطنیہ ہے، جو کہ بیزنطی حکومت کا دار الحکومت تھا۔

(تاریخنا المفتری علیہ: یوسف قرضاوی: صفحہ 63)

شارحین حدیث فرماتے ہیں: اس حدیث سے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی منقبت ثابت ہوتی ہے۔ اس لیے کہ سب سے پہلے سمندر میں جہاد انہوں نے کیا اور یہ خلافتِ عثمانیہ کے دور کی بات ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو سمندری جنگ کے لیے مسلسل آمادہ کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے ان کی بات کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں بحری جنگ کی اجازت دے دی، اسلامی بحری بیڑے کا عہد عثمان رضی اللہ عنہ سے آغاز ہوا اور عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں اس میں مزید توسیع کی گئی۔

(تاریخنا المفتری علیہ: یوسف قرضاوی: صفحہ 63)

اس غزوہ کے دوران ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے وفات پائی جو کہ اس لشکر میں شامل تھے، انہوں نے وصیت کی تھی کہ مجھے قسطنطنیہ کے دروازے کے قریب دفن کیا جائے۔ ہمارے نزدیک یہ بات بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ جس سارے لشکر کی مغفرت فرما دی گئی وہ بنو امیہ کے عہد حکومت کا لشکر تھا، اس لیے کہ یہ جنگ 52 ھ میں ہوئی تھی، یعنی معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں۔ جو شخص نواسہ رسول سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دست بردار ہونے کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی سیرت کا بنظر انصاف جائزہ لے گا وہ اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں اقامت اسلام اور اتباع سنت کے بڑے حریص تھے۔