Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دولت امویہ کا دار الحکومت اور شام کے فضائل میں احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم

  علی محمد الصلابی

ثالثاً:…دولت امویہ کا دار الحکومت اور شام کے فضائل میں احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم

شام مشرقی رومی سلطنت ’’بیزنطیہ'‘ کا ایک اہم صوبہ تھا، بلکہ بیت المقدس کے قریب ہونے اور اپنی قدیم تاریخ کی وجہ سے اس سلطنت کا بڑا اہم تہذیبی مرکز تھا، عرب قبل از اسلام اسے قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے، اس لیے کہ وہ تہذیبی مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ بڑا خوشحال، سرسبز و شاداب اور کاروباری مرکز تھا۔ سرزمین شام میں دمشق کو پہلا شہر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ جس نے اس علاقہ کی تاریخ میں بڑا اہم کردار ادا کیا، اس کی اسی اہمیت کی وجہ سے رومانی حاکم نے اسے اپنی حکومت کا مرکز قرار دیا، جب اسلام ملک شام اور خاص طور سے دمشق میں داخل ہوا تو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنی ولایت کے طویل دور میں اسے بڑی اہمیت دیتے رہے، انہوں نے وہاں کے باشندوں کے ساتھ بڑے مضبوط تعلقات قائم کیے۔

(رجال الادارۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ العربیۃ: صفحہ 135، 136)

چونکہ وہ دمشق اور شام میں مقیم یمنی قبائل کی اہمیت سے آگاہ تھے، لہٰذا انہوں نے وہاں کے قبیلے بنو کلب میں شادی کر لی جس سے تعلق رکھنے والی ان کی بیوی نے ان کے بیٹے یزید کو جنم دیا۔ بنو کلب نے نہ صرف ان کے ساتھ بلکہ ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹوں کے ساتھ خوب وفاداری کا ثبوت دیا، اس لیے کہ عرب قبائل ماموں کے رشتے کا بڑا پاس کیا کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں ان کے نزدیک دامادی کا رشتہ سیاسی معاہدے کی حیثیت رکھتا ہے۔

(الدولۃ الاسلامیۃ فی العصر العباسی: صفحہ 42)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے شام اور دمشق میں مقیم یمنی قبائل پر اعتماد کر کے بڑی ذہانت کا ثبوت دیا۔

(ایضاً: صفحہ 42)

دولت امویہ قائم ہونے کے بعد سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ دولت اسلامیہ وسعت اختیار کرتے ہوئے شرقاً غرباً بہت دور تک پھیل گئی ہے، لہٰذا انہیں اموی خلافت کے دار الحکومت کے لیے دمشق سے بہتر کوئی جگہ نظر نہ آئی، اس لیے کہ یہ شہر عالم اسلام کے دو حصوں کے درمیان میں واقع تھا، ایک اس کا مشرقی حصہ جو کہ عراق اور فارس پر مشتمل تھا اور دوسرا مغربی حصہ جو کہ مصر اور مغرب پر مشتمل تھا، علاوہ ازیں ان سے مربوط ان کے حامی قبائل نے ان کی تائید کرتے ہوئے ان کے مؤقف کو تقویت دی اور اس طرح وہ ان کی حکومت کے استحکام کے لیے ان کے دست راست بن گئے، دوسرے الفاظ میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ قبائل ان کی فوجی اور سیاسی قوت کے طور سے سامنے آئے جن پر حکومت اور دولت امویہ کا دار و مدار تھا۔ مزید برآں اس شہر کے باشندوں نے جہاں تک ممکن ہو سکا انہیں اپنی تجربہ کاری اور ادارتی عملہ کی خدمات بھی پیش کیں۔

(رجال الادارۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ العربیۃ: صفحہ 136)

علاوہ ازیں انہیں دمشق میں تجربہ کار انتظامی مشینری دستیاب ہو گئی اور اس طرح انہیں آغاز کار میں ہی انتظامی اور مالی دونوں میدانوں میں کام کرنے والے تجربہ کار ملازمین کی کھیپ میسر آ گئی جس نے ان کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ پھر یہ بات بھی ہمارے پیش نظر رہنی چاہیے کہ دیگر شہروں کی نسبت دمشق تہذیبی اعتبار سے بہت آگے تھا۔ جو عرب قبائل اسلامی فتوحات سے قبل ہجرت کر کے یہاں رہائش اختیار کر چکے تھے وہ عموماً حکومت اور مرکزی حکومت کے تصور کے عادی تھے جبکہ عراقی عربوں کی صورت حال اس کے بالکل برعکس تھی۔ انہوں نے اس تصور کو آسانی کے ساتھ قبول نہیں کیا تھا، اس کا اطلاق ان لوگوں پر بھی ہوتا ہے جو اسلامی فتوحات سے قبل عراق میں آکر آباد ہوئے یا اس کے بعد۔ قبل از فتح عراق میں آباد ہونے والے لوگ فارسی حکومت کے ساتھ ہمیشہ سے تنازعات اور ٹکراؤ کی صورت حال میں الجھے چلے آ رہے تھے۔

(تاریخ خلافۃ بنی امیۃ: نبیہ عاقل: صفحہ 62)

جبکہ شام کے رہائشی بیزنطیوں کے ساتھ پرامن انداز میں زندگی گزارنے کے عادی ہو چکے تھے۔ فتح کے بعد شام آنے والے عرب مستقل چھاؤنیوں میں رہائش نہیں رکھتے تھے بلکہ وہ مقامی لوگوں اور پہلے سے شام میں آباد دیگر قبائل کے ساتھ مل جل کر رہا کرتے تھے جس سے ایک طرف قبائلی سرکشی کی حدت کو ختم کرنے میں بڑی مدد ملی۔

(ایضاً: صفحہ 62۔ الجذور التاریخیۃ للاسرۃ الامویۃ: 7۔ احسان صدقی العمد: صفحہ 94)

تو دوسری طرف اس شامی لشکر کے حوالے سے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو کامیابیاں حاصل کرنے میں آسانی رہی جس لشکر کو انہوں نے منصب ولایت سنبھالنے کے ساتھ ہی منظم کرنا اور اسے تربیت دینا شروع کر دیا تھا اور جسے خوش رکھنے کے لیے خلافت سنبھالنے کے بعد اس پر نوازشات کی بارش کر دی تھی۔ انہوں نے بحر و بر میں بیزنطی سلطنت کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کیں جن کے نتیجے میں شامی لشکر کو عملی مشقوں کے لیے موقع میسر آیا اور جن سے انہیں ضروری تجربات حاصل ہوئے۔

( رجال الادارۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ العربیۃ: صفحہ 132)

اس کے ساتھ ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی احادیث کی وجہ سے لوگوں کو شام کی طرف ہجرت کرنے کا شوق دامن گیر ہوا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل شام کا یہ امتیازی وصف بیان فرمایا کہ وہ آخر زمانہ تک امر الہٰی کی ادائیگی کرتے رہیں گے اور یہ کہ آخری وقت طائفہ منصورہ ان میں موجود رہے گی۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ان کی کثرت اور قوت کے ساتھ ساتھ ان میں ایک مسلسل اور دائمی امر کی اطلاع ہے۔

(الفتاویٰ: جلد 4 صفحہ 275)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اہل شام کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے دلیل لیا کرتے تھے: ’’میری امت سے ایک جماعت ہمیشہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گی، ان کی مخالفت کرنے والے اور انہیں بے یار و مددگار چھوڑنے والے ان کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔‘‘

(بخاری: رقم: 7311، مسلم: رقم: 1920، 1921)

مالک بن یخامر فرماتے ہیں: میں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرما رہے تھے: یہ لوگ شام میں رہتے ہیں۔ یہ سن کر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: یہ مالک بن یخامر ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے معاذ کو یہ فرماتے سنا کہ یہ لوگ شام میں ہوں گے۔

(الفتاویٰ: جلد 4 صفحہ 273)

اسی طرح سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اہل مغرب ہمیشہ غالب رہیں گے۔‘‘

(مسلم فی الامارۃ)

امام احمدؒ فرماتے ہیں: اہل مغرب اہل شام ہیں۔

  (الفتاویٰ: جلد 4 صفحہ 47 )

یہ اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں مقیم تھے، لہٰذا جو علاقے اس سے مغرب کی طرف واقع تھے وہ آپ سے مغرب کی طرف تھے اور جو مشرق کی طرف واقع تھے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرق کی طرف تھے۔

(الفتاویٰ: جلد 4 صفحہ 273)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امر سے مطلع فرمایا کہ ان کی امت سے حق پر قائم طائفہ منصورہ مغرب میں ہو گی۔ مغرب سے مراد شام اور اس کے مغربی علاقہ جات ہیں۔

اہل مدینہ، اہل شام کو اہل مغرب کہا کرتے تھے۔ امام اوزاعی رحمہ اللہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اہل مغرب کے امام ہیں۔

(بخاری: رقم: 447)

پھر جب نصوص اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے حق کے ساتھ قائم جماعت کو نہ تو ان کے مخالفین کی مخالفت کوئی نقصان پہنچا سکے گی اور نہ انہیں بے یار و مددگار چھوڑنے والوں کی بے مددگاری۔ تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی کے معارض نہیں ہے: ’’عمار کو باغی جماعت قتل کرے گی۔‘‘

(مسلم فی الزکوٰۃ)

اور نہ یہ خوارج ہی کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے ہی متصادم ہے کہ ’’انہیں وہ جماعت قتل کرے گی جو دو جماعتوں میں سے حق سے زیادہ قریب ہو گی۔‘‘

(مسلم فی الامارۃ)

ان نصوص میں تطبیق دینا ضروری ہے، مگر اس کی صورت کیا ہو گی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد: اہل مغرب ہمیشہ غالب رہیں گے۔‘‘

(مسلم فی الامارۃ)

اور اس جیسی دیگر نصوص جو اہل شام کے ظہور و انتصار پر دلالت کرتی ہیں، تو یہ امر واقع ہے، اس لیے کہ وہ ہمیشہ غالب رہے اور ان کی مدد کی جاتی رہی۔

(الفتاویٰ:جلد 4 صفحہ 274)

رہا آپﷺ کا یہ ارشاد کہ: ’’میری امت سے ہمیشہ ایک جماعت اللہ کے حکم سے قائم رہے گی۔‘‘

(بخاری: رقم: 7311)

تو یہ اس امر کا متقاضی نہیں ہے کہ ان میں سے کوئی باغی نہیں ہو گا اور ان کے غیر ان سے زیادہ حق کے قریب نہیں ہوں گے۔ بلکہ ان میں دونوں طرح کے لوگ ہوں گے۔

(الفتاویٰ: جلد 4 صفحہ 274 )

جہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا تعلق ہے کہ: ’’انہیں وہ جماعت قتل کرے گی جو دو جماعتوں میں سے حق کے زیادہ قریب ہو گی۔‘‘ تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی اس وقت دوسری جماعت کے مقابلہ میں حق کے زیادہ قریب تھے، اگر کوئی شخص یا جماعت بعض احوال میں مرجوح ہو تو یہ اس کے قائم بامر اللہ ہونے سے مانع نہیں ہے اور نہ اس بات سے مانع ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت گزار ہو۔ اس لیے کہ کبھی ایک فعل اطاعت ہوتا ہے جبکہ دوسرا فعل اس سے زیادہ اطاعت پر مبنی ہوتا ہے۔ اس طرح ان میں سے بعض کا بعض اوقات میں باغی ہونا اور پھر اس کی بغاوت کو معاف کر دیا جانا بھی اس چیز سے مانع نہیں ہے جس کی نصوص شہادت دے رہی ہیں اور یہ اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جملہ اہل شام کی عظمت کی خبر دے رہے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ سب کے سب عمومی احوال میں راجح تھے۔

(ایضاً)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنی خلافت کے دوران اہل شام کو اہل عراق پر ترجیح دیتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ شام میں تو کئی دفعہ تشریف لے گئے مگر عراق جانے سے ہمیشہ انکار کرتے رہے، اس کے لیے جب . . . .آپ نے لوگوں سے مشورہ کیا تو انہیں یہی مشورہ دیا گیا کہ آپ عراق مت تشریف لے جائیں۔ اسی طرح ان کی وفات کے وقت ان کے پاس سب سے پہلے اہل مدینہ کو لایا گیا جو کہ اس وقت امت کے افضل ترین لوگ تھے، پھر اہل شام کو اور سب سے آخر میں اہل عراق کو لایا گیا۔

(الفتاویٰ: جلد 4 صفحہ 275)

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو عراق کو فتح کرنے سے کہیں زیادہ شام کو فتح کرنے میں دلچسپی تھی، یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: ’’مجھے شام کے پہاڑ عراق کو فتح کرنے سے زیادہ پسند ہیں۔‘‘

(ایضاً: جلد 4 صفحہ 275)

نجد، عراق اور تمام اہل مشرق پر شام اور اہل مغرب کی فضیلت کے بارے میں کتاب و سنت کی نصوص اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی آثار اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کے ذکر کرنے کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔ جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرق کی مذمت میں کئی صحیح نصوص وارد ہیں جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ فتنہ اور کفر کا سر وہاں سے اٹھے گا۔ اگر مشرق کو مغرب پر فضیلت حاصل تھی تو وہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کے وجود مسعود کی وجہ سے تھی اور یہ ایک وقتی بات تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی وفات کے بعد اس سے نفاق، ارتداد، بدعات اور فتنوں نے سر اٹھایا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اہل شام سے کم تر تھے۔

(الفتاویٰ: جلد 4 صفحہ 275)

نیز اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ اہل عراق میں کتنے ہی ایسے علماء اور صالحین موجود تھے جو اہل شام سے کہیں افضل تھے۔ مثلاً علی، ابن مسعود، عمار، حذیفہ وغیرہم رضی اللہ عنہم شام میں موجود زیادہ تر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے افضل تھے مگر یہ دوسری جماعت کے امر راجح کے ساتھ اختصاص سے مانع نہیں ہے اور یہ چیز بعض وجوہ سے شامی گروہ کے رجحان کو واضح کرتی ہے اگرچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے سے جدا ہونے والوں کے مقابلہ میں حق سے زیادہ قریب تھے اور اگرچہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو باغی گروہ نے قتل کیا تھا۔ جیسا کہ اس بارے میں نصوص وارد ہیں۔ بناء بریں ہم پر فریضہ عائد ہوتا ہے کہ ہم ہر اس چیز پر ایمان لائیں جو اللہ کی طرف سے آئی اور سارے کے سارے حق کا اقرار کریں اور علم کے بغیر کوئی بات نہ کریں اور علم و عدل کی راہ پر گامزن رہیں، یہی کتاب و سنت کی اتباع ہے۔ بعض حق کو اپنانا اور بعض کو ترک کر دینا اختلاف اور تفرقہ کا باعث بنتا ہے۔

(ایضاً: جلد 4 صفحہ 275)