Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں اہل حل و عقد

  علی محمد الصلابی

رابعاً: عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں اہل حل و عقد:

خلفائے راشدینؓ کے زمانے میں اسلامی معاشرہ بڑی سرعت کے ساتھ تبدیل ہو رہا تھا بایں طور کہ اس سے ان کی حکومت کے اساسی امتیازات متاثر ہونے لگے جو کہ باہم محبت و یگانگت، خلیفہ و رعایا کے ایک دوسرے کے لیے احساس اور آپسی تعلقات میں خوف باری تعالیٰ سے عبارت تھے۔ اس تبدیلی کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ مدینہ منورہ میں مقیم اہل حل و عقد کا کردار محدود ہو گیا جس کی وجہ ان میں سے زیادہ تر کی وفات یا دوسرے شہروں میں بکھر جانا تھا۔ ان شہروں کو مرکز خلافت سے کہیں زیادہ اہمیت حاصل ہو گئی تھی اور یہ اس لیے کہ بعد میں مسلمان ہونے والے قبائل کا کردار بڑھ گیا تھا، ان لوگوں نے بڑی بڑی اسلامی فتوحات کی ذمہ داریوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھایا جس کے نتیجے میں اسلامی معاشرہ اس قدر خوش حال ہو گیا جس کی قبل ازیں کوئی نظیر نہیں ملتی تھی اور جس کی وجہ سے اخلاقیات کے پیمانے بھی تبدیل ہو گئے تھے۔

(الدولۃ و المجتمع فی العصر الاموی: صفحہ 128)

اور پھر آہستہ آہستہ بعض مفاہیم میں بھی تبدیلی آنا شروع ہو گئی جیسا کہ اہل حل و عقد کا مفہوم۔ اب اس سے مراد اہل بدر یا مدینہ منورہ میں سابقین الی الاسلام کی جماعت مراد نہیں لی جاتی تھی جن کی مرور زمانہ کے ساتھ تعداد کم ہو گئی تھی۔ تاثیر اور فاعلیت کے میدان میں مختلف شہروں کے زعماء کا ظہور ہو گیا تھا جن میں زعماء شام بھی شامل تھے، اگر ہم احداث تاریخ سے فیصلہ چاہیں تو وہ اس بات کو مؤکد کرتے ہیں کہ مختلف شہروں کے لوگ سیاسی فیصلے کرنے کی طاقت رکھتے تھے جبکہ اہل مدینہ اس سے بے بس ہو کر رہ گئے تھے تاریخی واقعات کے مطالعہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اہل شام کو اطاعت، اجتماعی وحدت، حکومتی نظام کی پاس داری، ادارتی اسالیب اور تہذیبی طور طریقوں سے وافر حصہ میسر آیا تھا، اہل شام اپنی انہی خوبیوں کی وجہ سے عراق اور دیگر تمام اسلامی شہروں پر اقتدار قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے اور انہوں نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کر لی، انہوں نے اپنی انہی اہلیتوں کی بنیاد پر نوے سال سے زائد عرصہ تک اپنا اقتدار قائم رکھا جو کہ دولت امویہ کی کل عمر ہے۔ اس سے اس بات کی تاکید ہوتی ہے کہ شامی قائدین سیاسی امر واقع کے اعتبار سے اسلامی معاشرہ میں اہل حل و عقد قرار پائے۔ جنہیں خلیفہ منتخب کرنے کی قدرت بھی حاصل تھی اور وہ اس انتخاب سے دوسرے شہروں کو مطمئن بھی کر سکتے تھے، وہ ایسا صلح و صفائی سے کرتے یا سینہ زوری سے، اور یہ وہ معاشرہ تھا جس پر مختلف گروہ حکومت کرتے تھے اور ان کی اپنی اپنی رغبتیں اور ترجیحات تھیں۔

(ایضاً)