اہل حل و عقد کے مفہوم و معنیٰ کے بارے میں فقہاء کی آراء
علی محمد الصلابیاہل حل و عقد کے مفہوم و معنیٰ کے بارے میں علمائے و اسلام کے متعدد اقوال ہیں۔ جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:
الف: اولو الامر: یہ شرعی اصطلاح ہے، جس کا ذکر قرآن مجید میں اس طرح آتا ہے:
يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡـعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡـعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ۞ (سورۃ النساء آیت 59)
ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی بھی اطاعت کرو اور تم میں سے جو لوگ صاحب اختیار ہوں ان کی بھی۔
اولوا الامر سے کون لوگ مراد ہیں؟ اس بارے میں علماء کے کئی اقوال ہیں، جن میں سے مشہور اقوال یہ ہیں:
1۔ امراء و حکام: اسے امام طبریؒ نے ترجیح دی ہے۔
(ایضاً: صفحہ 128۔ تفسیر طبری: تحقیق محمود شاکر: جلد 8 صفحہ 502)
امام نوویؒ فرماتے ہیں: یہ جمہور سلف و خلف کا قول ہے۔
(شرح نووی علی صحیح مسلم: جلد 12 صفحہ 223)
2۔ علماء و فقہاء: یہ بعض سلف کا قول ہے، جن میں جابر بن عبداللہ، حسن بصری اور نخعی وغیرہم بھی شامل ہیں۔
3۔ اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں۔
4۔ سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما مراد ہیں۔
5۔ امراء و حکام اور علماء و فقہاء: امام ابن کثیر (تفسیر ابن کثیر: جلد 1 صفحہ 530 )
ابن قیم (الرسالۃ التبوکیۃ: صفحہ 41)
اور شوکانی (فتح القدیر از شوکانی: جلد 1 صفحہ 481)
وغیرہم کا اسی طرح رجحان ہے۔
6۔ علماء، امراء، زعماء اور ہر متبوع: یہ امام ابن تیمیہ (الحسبۃ: صفحہ 185)
اور محمد عبدہ (تفسیر المنار: جلد 5 صفحہ 181) کی رائے ہے۔ شیخ محمد عبدہ فرماتے ہیں: ’’یہ لوگ اہل حل و عقد ہیں۔‘‘
(اہل العقد و الحل از عبیداللہ الطریقی: صفحہ 12)
شاید پانچواں اور چھٹا قول اقرب الی الصواب ہے اور ان میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔
(ایضاً)
ب: علماء: ان سے مراد علمائے شریعت ہیں اور یہ قرآنی لفظ ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
اِنَّمَا يَخۡشَى اللّٰهَ مِنۡ عِبَادِهِ الۡعُلَمٰٓؤُا ۞ (سورۃ فاطر آیت 28)
ترجمہ: اللہ سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں۔
اسے (اولوا العلم) کے الفاظ سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔ ارشاد باری ہے:
شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ وَالۡمَلٰٓئِكَةُ وَاُولُوا الۡعِلۡمِ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 18)
ترجمہ: اللہ نے خود اس بات کی گواہی دی ہے، اور فرشتوں اور اہل علم نے بھی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
یہ اصطلاح متعدد احادیث میں بھی وارد ہے۔ مثلاً اس مشہور حدیث میں: ((اِنَّ اللّٰہَ لَا یَقْبِضُ الْعِلْم اِنْتِزَاعًا یَنْتَزِعُہٗ مِنَ النَّاسِ وَ لٰکِنْ بِمَوْتِ الْعُلَمَائِ))
(مسلم: رقم: 13)
’’اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح ختم نہیں کرے گا کہ اسے لوگوں سے چھین لے بلکہ علم کا خاتمہ علماء کی وفات کی وجہ سے ہو گا۔‘‘
ج: ارباب اختیار: یہ وہ لوگ ہیں جنہیں امام کے اختیارات تفویض کیے جاتے ہیں، بعض علماء کے نزدیک یہ لوگ اہل حل و عقد ہیں۔
(الموسوعۃ الفقہیۃ: اصدار وزارۃ الاوقاف کویت: جلد 7 صفحہ 115)
یہ اجتہادی اصطلاح ہے اور بعض اہل علم کی وضع کردہ ہے۔
(اہل الحل و العقد عبداللہ الطریقی: صفحہ 13)
د: اہل اجتہاد: اس سے مراد وہ علماء ہیں جو شریعت اسلامیہ میں اجتہاد کے مقام و مرتبہ پر فائز ہیں اور اہم امور کی سرانجام دہی کی صلاحیت سے بہرہ مند ہیں، مثلاً امامت کبریٰ، قضاء، فتویٰ اور ان جیسے دیگر امور، یہ اصطلاح بغدادی (اہل الحل و العقد: صفحہ 13۔ اصول الدین: 279)
اور قرطبی (تفسیر قرطبی: جلد 1۔صفحہ 265)
کی وضع کردہ ہے۔
ہ: اہل شوریٰ: یہ وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ مسلمانوں کے امور کے بارے میں اس آیت کریمہ کے مطابق مشاورت کی جاتی ہے۔
﴿وَ شَاوِرْهمْ فِی الْاَمْرِ﴾ (سورۃ آل عمران آیت 159)
ترجمہ:’’اور ان سے کام کا مشورہ کیا کریں۔
'‘نیز ﴿وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ﴾ (سورۃ الشوری آیت 36) ترجمہ: ’’اور ان کا ہر کام آپس کے مشورہ سے ہوتا ہے۔‘‘
و: بااثر لوگ: اس سے مراد لوگوں میں اثر و نفوذ رکھنے والے طاقت ور لوگ ہیں۔ یہ اصطلاح امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی وضع کردہ ہے۔
(منہاج السنۃ: جلد 1 صفحہ 550)
ز: اہل رائے اور مدبرین: اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو ٹھوس عقل و فکر کے حامل ہوں اور معاملات کو صحیح انداز میں حل کرنے کی استطاعت رکھتے ہوں۔ یہ اصطلاح ابن عابدین کی اختیار کردہ ہے۔
(حاشیہ ابن عابدین: جلد 4 صفحہ 263)
خلاصہ کلام کے طور سے اہل حل و عقد وہ لوگ ہوتے ہیں جو مسلمانوں کے سیاسی، انتظامی، تشریعی، قضائی اور دیگر معاملات کا نظام وضع کرنے کی استطاعت رکھتے ہوں اور حالات کے مطابق ان میں کمی بیشی کرنے کی صلاحیت سے متصف ہوں۔
(اہل الحل و العقد: صفحہ 15)
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں امراء و ولاۃ، مختلف قبائل کے زعماء، فوجی قائدین اور ان جیسے دوسرے لوگ اہل حل و عقد ہوا کرتے تھے اور عملاً قوت و شوکت اہل شام میں مرتکز ہو کر رہ گئی تھی، اس لیے کہ ان لوگوں کو اپنے ارادوں کی تکمیل اور اپنے مخالفین پر اپنی مرضی تھوپنے کی پوری قدرت حاصل تھی، اہل شام کے تاریخی دور میں یہی کچھ ہوا، لیکن اگر ہم زیادہ انصاف سے کام لیں تو یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ ارباب حل و عقد کا دائرہ اس سے بہت وسیع ہونا چاہیے تھا تاکہ زعماء شام کے ساتھ عراق، مصر، حجاز اور دیگر اسلامی علاقوں میں مقیم زعماء بھی اس میں شامل ہو جاتے اور ان لوگوں کے ساتھ ساتھ امت کے علماء اور اس کے دین دار لوگوں پر مشتمل اصحاب رائے کو بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کا موقع دیا جاتا اور ان لوگوں کو بھی خلیفہ کے انتخاب اور اس کی معزولی کے فیصلہ میں شامل کیا جاتا اور امت کو لاحق مسائل کے حل میں ان کی خدمات سے بھی فائدہ اٹھایا جاتا۔ اگر اموی دور حکومت میں ایسا ہو پاتا تو امت اسلامیہ اختلاف اور خون ریزی سے بچ سکتی تھی، مگر عملاً جو کچھ ہوا وہ یہ تھا کہ اس دور میں اہل شام ہی خلیفہ کا انتخاب کرتے رہے اور وہ بھی صرف اموی خاندان کے افراد سے۔ اس کا آغاز سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ولی عہد کے طور پر یزید بن معاویہ کی بیعت سے ہوا اور پھر کئی قسم کی مشکلات اور مصائب کے بعد اموی خانوادے سے ہی خلفاء کا تسلسل ایک امر واقع بن کر رہ گیا اور اس بات کی کوئی پروا نہ کی گئی کہ دیگر امصار اسلامیہ اسے پسند کرتے ہیں یا اس کی مزاحمت۔
ولایت عہد کی بحث آگے چل کر اپنے وقت پر آئے گی۔ اِنْ شَائَ اللّٰہُ۔