Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شوریٰ عہد امیر معاویہ رضی اللہ عنہ میں

  علی محمد الصلابی

خامساً: شوریٰ عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں:

جب بنو امیہ کو خلافت ملی تو سیدنا امیر معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما ایسے شخص نہیں تھے جو شوریٰ کے فوائد سے ناآشنائی اور اسے اپنانے سے قاصر رہے ہوں۔ وہ جو بھی اہم کام کرنا چاہتے اس کے لیے مشورہ ضرور کرتے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اصحاب رائے امراء و ولاۃ، سرکردہ لوگوں، اہل علم اور معززین قوم سے مشورہ کیا کرتے تھے ان کے بعد آنے والے خلفاء بنی امیہ نے بھی یہ سلسلہ جاری رکھا۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کے بڑے مشیروں میں عمرو بن العاص اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہما سرفہرست تھے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے پاس آنے والے مختلف وفود سے بھی مشاورت کیا کرتے تھے۔

(فی تاریخ الحضارۃ العربیۃ و الاسلامیۃ: صفحہ 55)

دوران مشاورت لوگ ان سے آزادانہ انداز میں گفتگو کرتے اور اپنی آراء کا اظہار کرتے اور خلیفہ انہیں بڑی اہمیت دیتے، ان سے مناقشہ کرتے اور جن آراء پر عمل کرنا ممکن ہوتا ان پر عمل پیرا ہوتے، انہیں عملی شکل دینے والے ذمہ دار عہدے داروں کو آزادانہ مواقع دیتے۔ ان پر مکمل اعتماد کرتے اور انہیں حکومتی قوت سے نوازتے۔ خلیفہ کی ذات حکومت کا مرکز نہیں تھی، اس لیے کہ اس کی حکومت بڑی وسیع و عریض تھی اور تن تنہا اس کے جملہ امور کی انجام دہی تنہا خلیفہ کے بس کا روگ نہیں تھا، وہ مختلف علاقوں پر ولاۃ و امراء کا تقرر کرتا اور انہیں پوری آزادی کے ساتھ کام کرنے کا موقع دیتا، وہ منصب ولایت پر اپنے قابل اعتماد لوگوں کا ہی تقرر کرتا اور صرف انہی لوگوں کو اختیارات تفویض کرتا جن سے اسے کوئی خوف و خطرہ محسوس نہ ہوتا۔

(الدولۃ الامویۃ، یوسف العشی؛ صفحہ 139)

وہ اپنے ولاۃ و امراء سے معینہ حدود میں رہ کر ہی مشاورت کرتا، جہاں تک امر خلافت کا تعلق ہے تو وہ بنو امیہ میں ہی محصور اور اموی خانوادے کے ساتھ ہی خاص تھا، اموی خلفاء حکمران کے انتخاب کے لیے غالباً اموی جماعت پر مشتمل شوریٰ ہی کی طرف رجوع کیا کرتے تھے۔

(فی تاریخ الحضارۃ العربیۃ و الاسلامیۃ: صفحہ 56)

بنا بریں کہا جا سکتا ہے کہ بنو امیہ کے دور حکومت میں دو قسم کی شوریٰ تھی، ایک شوریٰ کا تعلق مصالح عامہ کے ساتھ تھا جو قوم کے اصحاب رائے، معززین اور امراء و ولاۃ پر مشتمل تھی جس سے اموی خلفاء مشاورت کیا کرتے تھے اور دوسری شوریٰ خاص طور سے سلطان وقت سے متعلق تھی جو ان کے خانوادے پر مشتمل تھی اور جو خلافت کے معاملات نمٹایا کرتی تھی۔

(ایضاً: صفحہ 57)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت خالصتاً شخصی حکومت نہیں تھی۔ افراد معاشرہ اور حکومت میں اسلام کا وجود ازروئے سلوک اور نظام حکومت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مسعود اور خلفاء راشدینؓ کے زمانے میں شخصی قیادت اور اس کی برائیوں کے مظاہر سے مبرا تھا۔ جبکہ سیاست، قیادت، ادارہ اور رعایت مصالح جیسے حوالوں میں شوریٰ کا رنگ نمایاں تھا۔

(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الامویین: صفحہ 102)

خلافت راشدہ کی موروثی بادشاہت میں تبدیلی ایسی کامل تبدیلی نہیں تھی کہ جس میں خلفاء راشدینؓ کی شوریٰ سے انحراف یا اوامر اسلام اور اس کے حکومتی منہج سے ارتداد اختیار کیا گیا ہو اور جو تبدیلی آئی تھی اس کا بھی سیاسی اور اجتماعی ارتقاء کا جواز موجود تھا اور جیسا کہ ابن خلدونؒ کا مؤقف ہے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور اموی عہد حکومت میں خلافت کی حقیقت اس طرح سے موجود تھی کہ دین اور مؤقف دین کی جستجو کی جاتی تھی اور مواقف حق کا التزام کیا جاتا تھا۔ تبدیلی صرف یہ آئی کہ دین (قومی)عصبیت اور تلوار میں تبدیل ہو گیا، معاویہ، مروان، عبد الملک بن مروان اور عباسی خلفاء کے آغاز سے رشید اور اس کے بعض بیٹوں کے ادوار حکومت میں یہی صورت حال برقرار رہی۔ پھر اس کے بعد مفہوم خلافت کا یکسر اختتام ہو گیا اور وہ صرف نام کی حد تک باقی رہ گئی۔

مقدمہ ابن خلدون نقلاً عن الدولۃ الامویۃ المفتری علیہا: صفحہ 277)

ابن خلدونؒ کا یہ مؤقف مطلقاً قابل تسلیم نہیں ہے، اس لیے کہ دولت عثمانیہ کے عہد کے دوران محمد الفاتح کے زمانہ میں اسلامی فتوحات، دعوت اسلام، عدل و انصاف اور اعزاز اسلام جیسے خلافت کے بعض معانی و مقاصد نے نئے سرے سے انگڑائی لی تھی۔ شرع عصبیت یا بادشاہت کی اس صورت میں قطعاً مذمت نہیں کرتی جب اس سے مقصود اقامت دین اور اظہار حق ہو۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی:

قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِىۡ وَهَبۡ لِىۡ مُلۡكًا لَّا يَنۡبَغِىۡ لِاَحَدٍ مِّنۡ بَعۡدِىۡ‌ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ ۞(سورۃ ص آیت 35)

ترجمہ: کہنے لگے کہ: میرے پروردگار! میری بخشش فرما دے، اور مجھے ایسی سلطنت بخش دے جو میرے بعد کسی اور کے لیے مناسب نہ ہو۔ بیشک تیری، اور صرف تیری ہی ذات وہ ہے جو اتنی سخی داتا ہے۔

اور یہ اس لیے کہ انہیں اپنے بارے میں معلوم تھا کہ وہ نبوت اور بادشاہت کے دوران باطل سے الگ تھلگ رہیں گے۔

(ایضاً)

اسی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ جو بادشاہت خلافت کے مخالف بلکہ اس کے منافی ہے وہ جبر و قہر ہے۔

(ایضاً)

جس سے مقصود بغیر حق لوگوں پر تسلط جمانا ہو۔ جبکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا اپنی خلافت کے دوران یہ رویہ ہرگز نہیں تھا۔ خلافت معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقاصد اور خلفاء راشدینؓ کی خلافت کے مقاصد میں اس شدید قرب کو ہمارے بعض فقہاء اور مؤرخین نے بخوبی محسوس کیا اور پھر اس کا اظہار بھی کیا، مثلاً

ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ اس امر کا متقاضی ہے کہ ہماری شریعت میں خلافت کی بادشاہت کے ساتھ آمیزش جائز ہے اگرچہ خالص خلافت افضل ہے۔

(الفتاویٰ: جلد 35 صفحہ 18)

اگر ہم یہ کہیں تو حقیقت سے دور نہیں جائیں گے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور بعض اموی خلفاء خلفائے راشدینؓ کی سیرت کاملہ پر گامزن رہنے کی شدید خواہش رکھتے تھے مگر وہ اپنی رعایا اور زمانے کے احوال و ظروف کی وجہ سے اس پر قادر نہ ہوں گے۔خلفائے راشدینؓ نے اسلامی اور انسانی سیاست میں جو رفیع الشان مثالیں قائم کیں ان کی پرکشش تاثیر بعض خلفاء اور رعیت کے نزدیک کارگر تھی مگر اسے اپنانا ان کی ہمت و قدرت میں نہیں تھا، وہ اسے متحقق کرنے کے لیے اپنے آپ کو کھپا دیتے مگر پھر اس کوشش اور تجربہ کی صعوبت کا اعتراف کرتے ہوئے امر واقع کی کشش کی طرف واپس لوٹ آتے۔

(الدولۃ الامویۃ المفتری علیہا: صفحہ 276)

ایک دن سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے اور ولی عہد یزید سے دریافت کیا کہ وہ خلیفہ بننے کے بعد کس طرح کام کرے گا؟ تو اس نے جواب دیا میں لوگوں میں سیدنا عمر بن خطاب جیسا کردار ادا کروں گا۔ یہ سن کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مسکرائے اور پھر کہنے لگے: اللہ کی قسم! میں نے پوری کوشش کی کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ جیسا ہی کردار ادا کر سکوں مگر میں ایسا کرنے سے قاصر رہا، اور کیا تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جیسا کردار ادا کر لے گا؟

(البدایۃ و النہایۃ نقلاً عن الدولۃ الامویۃ: صفحہ 276)

اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ خلفائے راشدینؓ کے زمانے کی صاف زندگی کی طرف لوٹنا امر محال ہے، ایسا ممکن ہے مگر یہ اکیلے حاکم کے بس کا روگ نہیں ہے اگرچہ اس کی نیت بھی صاف اور اس کا عزم بھی پختہ ہو، بلکہ اس کے لیے راعی اور رعایا کے درمیان توافق و مطابقت ازحد ضروری ہے۔ اس کا راستہ طویل بھی ہے اور کٹھن بھی، اس کے لیے ایسے دعاۃ اور حکام کی ضرورت ہے جو رعیت کی کمال ایمان پر تربیت کے لیے بھرپور کوششی کریں اور ان کے سامنے اپنے آپ کو نمونے اور مثال کے طور پر پیش کریں، اس کے لیے اپنا پورا پورا وقت بھی دیں اور تمام مساعی کو بھی بروئے کار لائیں۔

((الدولۃ الامویۃ: صفحہ 277)

ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی رائے میں جب حاکم کسی معاشرہ میں برائی کا ارتکاب کرتا ہے تو ایسا راعی اور رعیت میں ایک ساتھ کسی نقص کی وجہ سے ہوتا ہے۔

(تاریخ الطبری نقلا عن الدولۃ الامویۃ: 303)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور اموی دور حکومت کے دور میں شوریٰ کا وہ معیار نہیں رہا تھا جو خلافت راشدہ کے دور میں تھا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد میں اس کے بعض پہلو ہی باقی تھے۔