عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں آزادی رائے
علی محمد الصلابیسادساً: عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں آزادی رائے:
پرامن معارضہ: سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر امن معارضہ اور مسلح معارضہ میں فرق کو ملحوظ خاطر رکھا کرتے تھے۔ آپ کے دور میں لوگوں کو مکمل طور سے آزادیٔ رائے حاصل تھی بشرطیکہ وہ اپنی حدود میں رہیں، مگر جب بات اس سے آگے بڑھ کر ہتھیار اٹھانے اور تلوار لہرانے تک پہنچ جاتی تو پھر اس صورت حال کا سامنا کرنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ پاتے۔ خوارج کے ساتھ سیدنا معاویہؓ کے طرز عمل کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے ان کا یہ قول مروی ہے: میں لوگوں اور ان کی زبانوں کے درمیان حائل نہیں ہوتا بشرطیکہ وہ ہمارے اور ہماری حکومت کے درمیان حائل نہ ہوں۔
(مجموع الفتاویٰ: جلد 35 صفحہ 20۔ الدولۃ الامویۃ: صفحہ 277)
عراق پر ان کے عامل زیاد بن ابیہ نے بھی اہل بصرہ کو خطاب کرتے ہوئے کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا تھا۔
(تاریخ الطبری نقلا عن الدولۃ الامویۃ: 303)
کتب تاریخ میں متعدد ایسی مثالیں موجود ہیں جو اسی دور میں لوگوں کو حاصل حریت تعبیر اور آزادی اظہار رائے پر دلالت کرتی ہیں اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کی ادائیگی کی نشان دہی کرتی ہیں۔ نیز جن سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ سیدنا معاویہؓ اس قسم کی تنقید کا کس طرح سامنا کرتے تھے۔