فرزدق معاویہ رضی اللہ عنہ کی ہجو کرتے ہوئے کہتا ہے
علی محمد الصلابیفرزدق کا چچا حتات بن یزید مجاشعی ایک وفد کے ساتھ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے دوسروں کے مقابلہ میں اسے کم انعام دیا، پھر جب وہ راستے میں ہی مر گیا تو انہوں نے وہ انعام اس سے واپس لے کر بیت المال میں جمع کرا دیا اس پر فرزدق نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی مذمت کرتے ہوئے اور اپنے نسب اور آباء و اجداد پر فخر کرتے ہوئے کہا:
فلو کان ہذا الامر فی جاہلیۃ علمت من المرء قلیل جلائبہ
’ اگر یہ کام زمانہ جاہلیت میں ہوتا تو مجھے معلوم ہوتا کہ اس آدمی کے پاس وسائل کی کمی ہے۔
و لو کان ہذا الامر فی غیر ملککم لابدیتہ او غص بالماء شاربہ
اور اگر یہ کام تمہاری بادشاہت کے علاوہ کہیں اور ہوتا تو میں اسے ظاہر کر دیتا حتیٰ کہ پانی پینے والے کو اچھو لگ جاتا۔
و کم من اب لی یا معاوی لم یکن ابوک الذی من عبد شمس یقاربہ
اے معاویہ! میرے کتنے ہی آباء ایسے ہیں کہ عبد شمس سے تمہارا باپ ان کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتا۔‘‘
یہ اشعار سن کر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اور تو کچھ نہ کیا البتہ الحتات کا انعام اس کے گھر والوں کو بھجوا دیا۔
(الدولۃ الامویۃ المفتری علیہا: صفحہ 304۔ تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 159)
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بیٹوں میں سے سرکردہ حضرات کی بڑی قدر و منزلت کیا کرتے تھے اور یہ اس امر کے باوجود تھا کہ ان میں سے بعض ان پر کڑی تنقید کیا کرتے تھے، وہ اکثر فرمایا کرتے: میں اپنے آپ کو اس سے بچا کر رکھتا ہوں کہ کوئی گناہ میرے عفو و کرم سے بڑا نہ ہو جائے۔ کوئی جہالت میرے حلم و حوصلہ سے بڑھ نہ جائے، کوئی باپردہ چیز ایسی نہ ہو جس کی میں پردہ پوشی نہ کروں، اور کوئی برائی میرے احسان سے زیادہ نہ ہو۔
(ایضاً: صفحہ 304)