ام سنان بنت خیثمہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں
علی محمد الصلابیاس خاتون کا شمار سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے انصار و معاونین میں ہوتا تھا، یہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد امارت میں دمشق آئیں، اس نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اجازت طلب کی تو اسے اجازت دے دی گئی، اس نے امیر المؤمنین سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنا تعارف کروایا تو آپ نے اسے پہچان لیا اور اسے بیٹھنے کا حکم دیا۔ جب وہ بیٹھ گئی تو اس سے فرمایا: بنت خیثمہ! ہم تمہیں خوش آمدید کہتے ہیں، ہماری زمین میں کیسے آنا ہوا، مجھے معلوم ہے کہ تو میری قوم سے نفرت کیا کرتی تھی اور میرے دشمن کو میرے خلاف بھڑکایا کرتی تھی؟ وہ کہنے لگی: امیر المؤمنین! بنو عبد مناف پاکیزہ اخلاق، امتیازی نشانات اور بڑے حلم و حوصلہ کے مالک ہیں، وہ علم کے بعد جہالت کا مظاہرہ نہیں کرتے، حلم کے بعد سفاہت کے مرتکب نہیں ہوتے اور عفو و درگزر کے بعد تعاقب نہیں کرتے اور اپنے آباء و اجداد کے طور طریقوں کی اتباع میں آپ سب لوگوں کے بڑھ کر حق دار ہیں۔ اس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ام سنان! تم نے درست کہا۔ پھر تھوڑی دیر کے لیے ماحول پر خاموشی چھا گئی جسے انہوں نے ام سنان سے سوال کر کے توڑا جس میں انہوں نے اسے اس کے وہ شعر یاد دلائے جن کے ذریعے وہ لوگوں کو ان کے خلاف بھڑکایا کرتی تھی، اس دوران سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تیرے یہ اشعار کیسے ہیں؟
عزب الرقاد فمقلتی ما ترقد و اللیل یصدر بالہموم و یورد
’ سونے والے دور چلے گئے جبکہ میری آنکھ نہیں سوتی۔ رات آتی بھی غموں کے ساتھ ہے اور جاتی بھی غموں کے ساتھ۔
یا آل مذحج لا مقام فشمّروا إن العدو لا أحمد یقصد
یہ مجھ پر چاند کی طرح ہے جسے آسمان کے وسط میں باسعادت ستاروں نے گھیر رکھا ہے۔
ہذا علی کالہلال تحُفّہ وسط السماء من الکواکب اسعد
اس نے جب سے جنگوں میں شریک ہونا شروع کیا ہے کامیاب رہا ہے اس کے پرچم سے نصرت کبھی مفقود نہیں ہوتی۔‘‘
ما زال مذ شہد الحروب مظفرا و النصر فوق لوائہ ما یُـفـقد
جب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ام سنان کو اس کے یہ اشعار سنا رہے تھے اس وقت وہ انہیں توجہ سے سنتی رہی اور پھر ان سے کہنے لگی: امیر المؤمنین! ایسا ہی ہوا تھا، اب ہم امید کرتے ہیں کہ آپ ان باتوں کو بھول جائیں گے، آپ جیسے لوگ ایسے ہی کیا کرتے ہیں۔ قبل اس کے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کوئی بات کرتے ان کے ہم نشینوں میں سے ایک آدمی کہنے لگا: امیر المؤمنین! مجھے اس کے وہ اشعار یاد ہیں جو اس بات کے خلاف ہیں جو یہ اس وقت آپ سے کہہ رہی ہے، یہ اشعار اسی کے ہیں:
اما ہلکت ابا الحسین فلم تزل بالحق تعرف ہادیا مہدیا
’’ابو الحسین اگر تم ہلاک ہو گئے ہو تو کیا ہوا، تم ہمیشہ حق کے ساتھ ہادی و مہدی پہچانے گئے۔
فاذہب علیک صلاۃ ربک ما دعت فوق الغصون حمامۃ قمریا
جاؤ تم پر تمہارے رب کی رحمت ہو جب تک قمری ٹہنیوں پر پکارتی رہے۔
فالیوم لا خلف یؤمل بعدہ ہیہات نمدح بعدہ انسیا
(العقد الفرید: جلد 2 صفحہ 108۔ نساء من عصر التابعین: صفحہ 275، 278)
آج کے بعد کوئی دن ایسا نہیں آئے گا جس کی امید کی جا سکے، بہت مشکل ہے کہ ہم اس کے بعد کسی انسان کی تعریف کریں۔‘‘
یہ اشعار سن کر ام سنان کہنے لگی: امیر المؤمنین! زبان سے نکلنے والا یہ قول صداقت پر مبنی ہے، جو کچھ ہم نے سمجھا اگر وہ آپ میں موجود ہے تو پھر آپ کا حصہ سب سے بڑھ کر ہے۔ پھر اس نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعض شرکاء مجلس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ان جیسے لوگوں نے ہی مسلمانوں کے دلوں میں تم سے نفرت و بغض پیدا کیا ہے، لہٰذا ان کی باتوں پر نہ جائیں اور انہیں ان کے عہدوں سے ہٹا دیں، اگر آپ یہ کام کر گزریں تو آپ اللہ تعالیٰ سے مزید قریب ہو جائیں گے اور مسلمان آپ سے زیادہ محبت کرنے لگیں گے۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کی باتوں پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے اس سے سلسلہ کلام یہ کہتے ہوئے منقطع کر دیا کہ: ام سنان! تو بھی یہ باتیں کہتی ہے؟
وہ بولی: سبحان اللہ! امیر المؤمنین! اللہ کی قسم! تم جیسے لوگوں کی نہ تو باطل کے ساتھ تعریف کی جا سکتی ہے اور نہ ان کے سامنے جھوٹ کے ساتھ معذرت کی جا سکتی ہے۔ آپ ہماری رائے سے بخوبی آگاہ ہیں اور ہمارے دلوں کی آواز سے بخوبی آشنا۔ و اللہ! جب تک سیدنا علی رضی اللہ عنہ زندہ تھے وہ ہمیں تم سے زیادہ پسند تھے اور جب تک آپ زندہ رہیں گے ان کے علاوہ دوسروں سے زیادہ پسند رہیں گے۔ اس پر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس سے سوال کیا: میں جب تک زندہ رہوں گا تجھے کن لوگوں سے زیادہ پسند رہوں گا؟ اس نے جواب دیا: امیر المؤمنین! آپ ہمیں مروان بن حکم اور سعید بن العاص سے زیادہ پسند ہیں، پھر انہوں نے پوچھا: میں ان پر اس کا استحقاق کس وجہ سے رکھتا ہوں؟ اس نے بتایا: حلم و حوصلہ اور عفو و کرم کی وجہ سے۔
(العقد الفرید: جلد 2۔صفحہ 108۔ تاریخ دمشق، نقلا عن نساء من عصر التابعین، صفحہ 278)
بات چیت ختم ہو گئی تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: میں اس وقت تمھاری کیا خدمت کر سکتا ہوں؟ اس نے کہا کہ مدینہ میں گرفتار میرے پوتے کو رہا کر دیا جائے۔ انہوں نے اس کی درخواست کو قبول کر لیا، پھر اس کا اکرام اور صلہ رحمی کرتے ہوئے اسے واپس مدینہ بجھوا دیا۔ بعد ازاں وہ ہمیشہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے دعائیں کرتی رہی۔
(شاعرات العرب: صفحہ 176، 177)
یہ ہے عصر تابعین کی ایک خاتون ام سنان جو حق گوئی اور صاف دلی سے متصف تھی اور اسے ایسی حکمت و بلاغت سے نوازا گیا تھا جس کی وجہ سے اس کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔
(نساء من عصر التابعین: صفحہ 280)
ام سنان ایسی اکیلی عورت نہیں تھی جو آزادانہ انداز میں اپنی رائے کا اظہار کرتی اور کھل کر اپنے اعتقادات بیان کیا کرتی تھی بلکہ اس جیسی اور بھی بہت ساری خواتین اپنے اندر یہ حوصلہ پاتی تھیں۔ جن میں سے زرقاء بنت عدی
(ایضاً: صفحہ 296)
اور ام الخیر بنت حریش
(ایضاً: صفحہ 148) سرفہرست ہیں۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو کھل کر اپنی آراء کے اظہار کا موقع دیتے اور تنقید کرنے اور پر امن معارضہ کے حق کو استعمال کرنے پر ان کی حوصلہ افزائی کرتے۔