شیوخ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان کے بیٹوں اور خاص طور سے بنو ہاشم کی بڑی شخصیات کے ساتھ احسان پر مبنی رویہ
علی محمد الصلابیداخلی سیاست
41 ھ میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت پر امت اسلامیہ کا اجماع ہوا تو انہوں نے عالم اسلام کے گوشے گوشے میں امن و امان قائم کرنے اور استقرار و استحکام کی بنیادوں کو پختہ کرنے کے لیے اپنی تمام تر ذہانت و فطانت کو کام میں لانا شروع کر دیا۔ اس کے لیے انہوں نے داخلی سیاست کا جو منہج اپنایا وہ متعدد امور پر قائم تھا:
شیوخ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، ان کے بیٹوں اور خاص طور سے بنو ہاشم کی بڑی شخصیات کے ساتھ احسان پر مبنی رویہ
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالنے کے بعد اہل حجاز میں خطبہ دیتے ہوئے ان سے اس بارے میں معذرت کی کہ وہ خلفائے راشدینؓ کا طریقہ اپنانے سے قاصر رہے۔ آپ نے فرمایا: ان جیسے لوگ اب کہاں ملیں گے؟ اور ان جیسے اعمال بجا لانے کی اب کس میں قدرت ہے۔ ان کے بعد کسی کے لیے بھی ان جیسے فضل و احسان کا حصول ممکن نہیں ہے۔ البتہ میں نے جو طریقہ کار اختیار کیا ہے اس میں میری بھی منفعت ہے اور تمہاری بھی، اس طریقہ میں تمہارے لیے خورد و نوش کا اچھا سامان موجود ہے جب تک سیرت و کردار درست رہے اور اطاعت گزاری خوب رہے، اگر تم مجھے اپنے سے بہتر نہیں پاتے تو میں تمہارے لیے بہت بہتر ہوں، اللہ کی قسم! میں اس کے خلاف تلوار نہیں اٹھاؤں گا جس کے پاس تلوار نہیں ہے۔ گزشتہ ایام میں جو کچھ بھی ہوا اسے میں نے بھلا دیا، اگر میں تمہارے تمام حقوق ادا نہیں کر سکا تو جس قدر ادا کر سکا ہوں اس پر راضی رہو، فتنہ سے کنارہ کش رہو اور اس کا ارادہ بھی نہ کرو اس لیے کہ فتنہ معیشت کو تباہ کرتا، نعمتوں کو بے مزہ بناتا اور تباہی کو جنم دیتا ہے۔ میں اپنے لیے اور تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے معافی کا خواستگار ہوں۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 432)
خلیفۃ المسلمین معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس جیسی سیرت اپنائی تو انصار و مہاجرین کی اولاد اور وہ سب لوگ سیدنا امیر معاویہؓ کے تابع فرمان ہو گئے جو انہیں اپنے سے زیادہ خلافت کا حق دار سمجھتے تھے، وہ لوگوں کے دل جیتنے اور ان کے ساتھ احسان کرنے کا بڑا اہتمام کرتے اور لوگوں کی تنقیص سے بچنے کے لیے بہت زیادہ محتاط رہتے۔ معاشرے میں قائدانہ کردار ادا کرنے والی کبار شخصیات پر بلاحساب خرچ کرتے اور یہ سمجھتے کہ ان کی رعایا کی طرف سے ان پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، لہٰذا انہیں ان کی ضروریات کی تکمیل اور ان کی مشکلات کے حل کے لیے ہمیشہ کمربستہ رہنا چاہیے اور غالباً بنو ہاشم کے اشراف و رؤساء کو سب سے زیادہ مال و زر سے نوازا کرتے اور اس میں کوئی انوکھا پن بھی نہیں تھا اس لیے کہ وہ گروہی قیادت کے حوالے سے جماہیر امت کی نمائندگی کرتے تھے اور افراد امت کو امراء و ولاۃ سے زیادہ ان کی ضرورت رہتی تھی۔ یہ قیادتیں نہ تو حکومت میں شامل تھیں اور نہ انہیں اس میں کوئی دلچسپی ہی تھی۔
(معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ از غضبان: صفحہ 314)