Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

صلح کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے تعلقات

  علی محمد الصلابی

اولًا: صلح کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے تعلقات

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دوران ان کے پاس جایا کرتے تھے، جب وہ ایک باران کے پاس گئے تو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں ایسا انعام دینا چاہتا ہوں جو میں نے آپ سے پہلے کسی کو دیا اور نہ بعد میں دوں گا، چنانچہ انہوں نے انہیں چار لاکھ درہم دئیے جنہیں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے قبول کر لیا۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 269)

دوسری روایت میں ہے: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما ہر سال سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے جاتے اور وہ انہیں ایک لاکھ درہم دیا کرتے، ایک سال وہ نہ جا سکے تو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس کوئی چیز نہ بھیجی، حسن رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھنے کے لیے دوات منگوائی تو انہیں خط لکھنے سے پہلے نیند آ گئی، انہوں نے خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو یوں لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہوں: ’’حسن! کیا تو اپنی ضرورت کے لیے مخلوق کو خط لکھتا ہے اور اپنے رب سے سوال نہیں کرتا؟ حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کیا کروں جبکہ میرا قرضہ بہت زیادہ ہو چکا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا کیا کر: ’’یا اللہ! میں تجھ سے ہر اس چیز کا سوال کرتا ہوں جس سے میری قوت اور حیلہ کمزور ہے اور جس تک میری رغبت نہیں پہنچی، اس کا میرے دل میں خیال نہیں آیا، اس تک میری امید نہیں پہنچی اور میری زبان پر وہ یقین جاری نہیں ہوا جسے تو نے پہلی مخلوق میں سے کسی کو دیا، مہاجرین اور دوسروں کو دیا مگر تو مجھ کو اس سے نواز دے، یا ارحم الراحمین۔‘‘

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں بیدار ہوا تو یہ دعا مجھے یاد ہو چکی تھی، میں یہ دعا کرتا رہا، تھوڑی ہی دیر بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے میرا تذکرہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ وہ اس سال نہیں آئے۔ جس پر انہوں نے میرے لیے دو لاکھ درہم کا حکم دے دیا۔

(تاریخ دمشق: جلد 14 صفحہ 8)

دوسری روایت میں وارد ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو خواب میں یہ دعا سکھائی تھی: ’’میرے اللہ! میرے دل میں اپنی امید پیدا کر دے اور اپنے سے علاوہ لوگوں سے میری امید منقطع کر دے کہ میں تیرے علاوہ کسی سے امید نہ رکھوں، یا اللہ! جس چیز سے میری قوت کمزور پڑ گئی، میرا عمل اس سے قاصر رہا۔ اس تک میری رغبت نہ پہنچی، اس تک میرا سوال نہ پہنچا اور میری زبان پر وہ جاری ہوا جو یقین تو نے اگلوں اور پچھلوں میں سے کسی ایک کو دیا، تو یا رب العالمین مجھے وہ بھی عطا فرما۔‘‘ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم،ںمیں نے یہ دعا ہفتہ بھر بھی نہیں کی ہو گی کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے مجھے ڈیڑھ لاکھ درہم بھیجوا دیے۔ میں نے کہا: سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو اپنا ذکر کرنے والوں کو نہیں بھولتا اور اپنے سے دعا کرنے والوں کو ناکام نہیں لوٹاتا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’حسن تم کیسے ہو؟‘‘ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں خیریت سے ہوں، اور میں نے آپ کو اپنا واقعہ سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے بیٹے! جو لوگ خالق سے امید رکھتے اور مخلوق سے نہیں رکھتے ان کی امیدیں اسی طرح پوری ہوتی ہیں۔‘‘

(تاریخ دمشق: جلد 14 صفحہ 8)

زہری رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں: جب سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ شہید کر دئیے گئے اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اگر تمہیں یزید پر بجز اس کے اور کوئی فضیلت حاصل نہ ہوتی کہ تمہاری ماں قریشی خاتون ہے جبکہ اس کی ماں بنو کلب سے ہے تو تمہیں پھر بھی اس پر فضیلت ہوتی، مگر اس پر تمہاری فضیلت کا تو کوئی ٹھکانا ہی نہیں ہے اس لیے کہ تمہاری ماں فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

(الشریعۃ للآجری: جلد 5 صفحہ 2470۔ اس کی سند حسن ہے)