Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تعلقات

  علی محمد الصلابی

جعفر بن محمدؒ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے عطیات قبول کیا کرتے تھے۔

(ایضاً: صفحہ 2470 اس کی سند حسن ہے)

ایک دفعہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے لیے ایک لاکھ درہم بھیجے تو وہ اپنے پاس موجود لوگوں سے کہنے لگے: اس میں سے جو شخص کچھ لے لے وہ اس کا ہوا۔ انہوں نے سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے لیے ایک لاکھ درہم بھجوائے تو ان کے پاس دس لوگ بیٹھے تھے انہوں نے وہ درہم دس دس ہزار کر کے ان میں تقسیم کر دئیے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو ایک لاکھ درہم دینے کا حکم دیا۔

(تاریخ دمشق: جلد 62 صفحہ 133)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے ملاقات ہوتی تو فرماتے: نواسہ رسول! اہلا و سہلا مرحبا۔ پھر ان کے لیے تین لاکھ درہم کا حکم دیتے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے ملاقات کرتے تو فرماتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی اور ان کے حواری کے بیٹے! میں تمہیں خوش آمدید کہتا ہوں اور پھر انہیں ایک لاکھ درہم دینے کا حکم دیتے۔

(ایضاً: جلد 62 صفحہ 133)

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد انہیں اچھے الفاظ سے یاد کیا کرتے تھے۔ ہشام بن عروہ بن زبیر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ ایک دن سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے نماز پڑھی اور پھر نماز ادا کرنے کے بعد کچھ دیر کے لیے خاموش رہے اور پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے: ابن ہند دور نہ ہو ان میں کچھ ایسی گنجائش موجود ہیں جو ہمیں ان کے بعد کسی میں نظر نہیں آتیں۔ اللہ کی قسم! ہم انہیں خوفزدہ کرتے تھے مگر وہ تو شیر سے بھی زیادہ دلیر تھے۔ وہ ہم سے کیسے خوفزدہ ہو سکتے تھے، ہم انہیں دھوکہ دینا چاہتے مگر وہ بڑے دانا اور بارعب تھے وہ ہمارے دھوکے میں آنے والے نہیں تھے۔ و اللہ! میں چاہتا ہوں کہ جب تک اس

(جبل ابو قبیس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) میں ایک پتھر بھی موجود رہے ہم ان سے فائدہ اٹھاتے رہیں۔

(عیون الاخبار: جلد 1 صفحہ 11، 12)

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا یہ قول اس وقت کا ہے جب عبدالملک بن مروان کے عہد میں انہیں حصار میں لے لیا گیا تھا۔

(العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 115)