سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ
علی محمد الصلابیثالثا: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بڑا احترام کیا کرتے تھے، ابن عباس رضی اللہ عنہما ان کے پاس جاتے تو وہ ان کی تعظیم و توقیر کرتے انہیں اپنے پاس بٹھاتے۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ان سے بڑے مشکل اور پیچیدہ قسم کے سوالات کرتے اور وہ فوراً ان کا جواب دیتے۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بڑھ کر کسی کو حاضر جواب نہیں دیکھا، جب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی وفات کی خبر ملی تو اتفاق سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بھی ان کے پاس موجود تھے، سیدنا معاویہؓ نے ان سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات پر بڑے اچھے انداز سے تعزیت کی اور انہوں نے اس کا بہت خوبصورت جواب دیا۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 642+
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے یزید کو تعزیت کے لیے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا تو اس نے ان کے سامنے بیٹھ کر ان سے بڑی مختصر اور فصیح عبارت میں تعزیت کی جس کے لیے انہوں نے یزید کا شکریہ ادا کیا۔
(ایضاً: جلد 11 صفحہ 642)
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے تعزیت کرتے ہوئے کہا تھا: اللہ تعالیٰ تمہیں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی وجہ سے غم ناک نہ کرے۔ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: جب تک امیر المؤمنین زندہ ہیں اللہ تعالیٰ مجھے غم ناک نہیں کرے گا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہزاروں درہم نقد اور کئی اشیاء عطیہ کے طور پر ان کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے فرمایا: انہیں اپنے اہل و عیال میں تقسیم کر دینا۔
(ایضاً: جلد 11 صفحہ 446)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا شمار اسلامی معاشرے کے سادات اور اس کے بڑے قائدین میں ہوتا تھا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان کے سماجی اور علمی مقام و مرتبہ کا اعتراف کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو علمی معاملات میں خلیفہ کے مشیر کا اعزاز حاصل تھا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بنو امیہ پر بنوہاشم کی فضیلت کا بھی اعتراف تھا۔ ان سے دریافت کیا گیا کہ کیا تم افضل ہو یا بنو ہاشم؟ تو انہوں نے کہا: کبھی ان کا اور کبھی ہمارا پلڑا بھاری ہوتا رہا یہاں تک کہ اگلوں اور پچھلوں میں بے مثل اور بے مثال محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہمیشہ کے لیے سربلند کر دیا۔
(ایضاً: جلد 11 صفحہ 446)
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بنو امیہ کو آل علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بدسلوکی کرنے سے یہ کہہ کر خبردار کیا کرتے تھے: جنگ کا آغاز سرگوشی، اس کا درمیان شکایت اور آخر بلویٰ ہوا کرتا ہے۔ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مقربین سے ان کے اوصاف اور ان کے عمدہ اعمال و اطوار کے بارے میں دریافت کیا کرتے تھے
(الدور السیاسی للصفوۃ: صفحہ 172)