Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کیا معاویہ رضی اللہ عنہ نے منبروں پر امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ پر سب و شتم کی کھلی اجازت دے رکھی تھی

  علی محمد الصلابی

رابعاً: کیا معاویہ رضی اللہ عنہ نے منبروں پر امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ پر سب و شتم کی کھلی اجازت دے رکھی تھی

کتب تاریخ بتاتی ہیں کہ بنو امیہ کے ولاۃ و امراء سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سب و شتم کیا کرتے تھے۔ لوط بن یحییٰ سے ابن سعد کا روایت کردہ یہ اثر صحیح نہیں ہے کہ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے قبل بنو امیہ کے امراء سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سب و شتم کیا کرتے تھے مگر عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس سے روک دیا۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 5 صفحہ 147)

اس اثر کے ضعیف ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا ایک راوی علی بن محمد مدائنی ضعیف ہے اور اس کا شیخ لوط بن یحییٰ بھی بہت زیادہ ضعیف ہے۔ اسے یحییٰ بن معین غیر ثقہ جبکہ ابو حاتم متروک الحدیث قرار دیتے ہیں۔ دارقطنی بھی اسے ضعیف اخباری بتاتے ہیں۔ ذہبیؒ نے میزان الاعتدال میں اسے غیر ثقہ قرار دیا ہے۔

(المیزان: جلد 3 صفحہ 419)

اس نے زیادہ روایات ضعفاء اور مستور الحال لوگوں سے اخذ کی ہیں

(دفاعا عن السلفیۃ: صفحہ 187)

اور وہ خود بھی روایات گھڑ لیا کرتا تھا۔ روافض نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر یہ تہمت لگائی ہے کہ وہ لوگوں کو مساجد کے منبروں پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سب و شتم اور لعن طعن کرنے پر اکسایا کرتے تھے۔ مگر ان کا یہ دعویٰ باطل ہے اور اس کی کوئی صحیح اساس نہیں ہے۔ تباہ کن بات تو یہ ہے کہ محققین نے اس کذب و افتراء کو نقد و تعدیل کے اصولوں پر پرکھے بغیر ہی قبول کر لیا یہاں تک کہ متاخرین کے نزدیک اس نے ایسی مسلمہ حقیقت کا روپ دھار لیا جس کے مناقشہ کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہی۔ جبکہ نہ تو یہ بات کسی صحیح روایت سے ثابت ہے اور نہ وہ روایات قابل اعتماد ہیں جنہیں دمیری یعقوبی اور ابو الفرج اصفہانی نے اپنی کتب میں ذکر کیا ہے۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ صحیح تاریخ ان لوگوں کی مرویات کے خلاف کا اثبات کرتی ہے۔

(الحسن و الحسین: محمد رضا: صفحہ 18)

وہ یہ ہے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل بیتؓ کا احترام کرتے اور انہیں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ بنو امیہ کے منبروں پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو لعن طعن کرنا نہ تو حوادث و واقعات کی منطق سے ہم آہنگ ہے اور نہ متحارب فریقین کے مزاج و طبائع سے۔ اگر ہم بنو امیہ کی معاصر کتب تاریخ کا مطالعہ کریں تو ان میں ہمیں ایسی کوئی بھی چیز نہیں ملتی۔ یہ حکایات ان متاخرین کی کتب میں نظر آتی ہیں جنہوں نے بنو عباس کے دورِ حکومت میں تاریخ کو مدوّن کیا اور جن کے پیش نظر جمہور مسلمانوں کی نظر میں بنو امیہ کی شہرت کو نقصان پہنچانا تھا۔ یہ بے سروپا باتیں مسعودی نے مروج الذہب میں اور اس کے علاوہ دیگر شیعہ مورخین نے لکھیں اور وہاں سے اہل سنت کی کتب تاریخ میں داخل ہو گئیں۔ جبکہ ان میں سے کوئی روایت بھی صریح اور صحیح نہیں ہے۔

(الانتصار للصحب و الآل از زحیلی: صفحہ 367)

اس دعویٰ کے اثبات کے لیے جرح سے محفوظ سند اور اعتراض سے محفوظ متن کی ضرورت ہے۔ محققین اور باحثین کے نزدیک اس دعویٰ کا وزن سبھی کے علم میں ہے۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ان جیسی تہمتوں سے بہت دور اور مبرا ہیں۔ دین میں ان کی فضیلت ثابت شدہ حقیقت ہے۔ افراد امت میں ان کی سیرت قابل تعریف تھی۔ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور خیار تابعین علیہما السلام نے ان کی تعریف و توصیف اور ان کے لیے دین، علم، عدل، حلم اور تمام خصائل خیر کی شہادت دی۔

(خامس الخلفاء الراشدین الحسن بن علی بن ابی طالب: صفحہ 353)

یہ سب کچھ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں ثابت ہے۔ اس قسم کی سیرت و کردار کے حامل شخص کے لیے ناممکن و محال ہے کہ وہ لوگوں کو منبروں پر کھڑے ہو کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو لعن طعن کرنے پر اکسائے جب کہ وہ عز و فضل میں اپنی مثال آپ ہو۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی سیرت، ان کے حلم و حوصلہ، عفو و درگزر اور حسن سیاست سے آگاہ شخص پر یہ بات عیاں ہے کہ اس قسم کی باتیں ان پر محض کذب و افتراء ہیں، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا حلم ضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے اور وہ نسلوں کے لیے اسوہ و قدوہ ہے۔

صحیح مسلم میں عامر بن سعد بن ابی وقاصؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما نے سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تجھے ابو تراب رضی اللہ عنہ کو سب و شتم کرنے سے کس نے روکا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: جب تک مجھے وہ تین باتیں یاد ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے فرمائی تھیں میں انہیں سب و شتم نہیں کروں گا۔ اگر مجھے ان میں سے ایک بھی مل جائے تو یہ مجھے سرخ رنگ کے اونٹوں سے بھی زیادہ پسند ہو گی۔

(مسلم: کتاب فضائل الصحابۃ: جلد 4 صفحہ 1871)

روافض کا اس روایت سے اپنے کذب و افتراء کے لیے استدلال کرنا صحیح نہیں ہے۔ یہ ان کے زعم باطل پر دلالت نہیں کرتی۔ امام نوویؒ فرماتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے اس قول میں اس امر کی تصریح نہیں ہے کہ انہوں نے سعد کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دینے کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے سعد سے صرف اس سبب کے بارے میں پوچھا تھا جو ان کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سب و شتم کرنے سے مانع تھا، گویا کہ وہ ان سے پوچھ رہے تھے کہ تم یہ کام ورع و پرہیز گاری کی وجہ سے نہیں کرتے، کسی خوف کی وجہ سے نہیں کرتے یا اس کی کوئی اور وجہ ہے؟ اگر تو انہیں سب و شتم نہ دینے کی وجہ تورّع یا ان کا احترام ہے تو پھر تمہارا یہ رویہ بہت خوب ہے اور شاید سعد رضی اللہ عنہ کسی ایسی جماعت میں موجود ہوں جو انہیں سب و شتم کا نشانہ بناتی ہو مگر وہ ان کے ساتھ یہ کام نہ کرتے ہوں اور انہیں اس سے روک بھی نہ سکتے ہوں۔ اس کی ایک دوسری تاویل بھی کی جا سکتی ہے اور وہ یہ کہ اس کا معنیٰ یہ کیا جائے: تمہیں اس چیز سے کس نے روکا کہ تم علی رضی اللہ عنہ کی رائے اور اجتہاد کو غلط بتاؤ اور لوگوں کے سامنے ہماری رائے اور اجتہاد کے حسن کو واضح کرو۔

(شرح صحیح مسلم: جلد 15 صفحہ 175)

ایک دفعہ جب ضرار ہمدانی نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تعریف و توصیف کی جسے سن کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ رونے لگے اور ضرار کی باتوں کی تصدیق کی تو ابوالعباس قرطبی نے اس کی تعلیق میں لکھا: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور ان کے مقام و مرتبہ سے بخوبی آگاہ تھے۔ جب صورت حال یہ ہے تو پھر ان کی طرف سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو صراحتاً سبّ و شتم کرنے کے حوالے سے ان کے بارے میں جو کچھ مروی ہے اس کا زیادہ تر حصہ جھوٹ اور غیر صحیح ہے۔ اس میں سے سب سے زیادہ صحیح ان کا سعد بن ابی وقاصؓ سے ان کا مذکورہ بالا ارشاد ہے۔ مگر وہ سب و شتم کے لیے صریح نہیں ہے۔ وہ اس بارے میں محض ایک سوال تھا کہ ان کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سب و شتم دینے سے کون سی چیز مانع ہے؟ پھر جب معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کا جواب سنا تو پرسکون ہو کر اپنا سر جھکا لیا اور سمجھ گئے کہ حق حق دار کو ملا ہے۔

(المفہم للقرطبی: جلد 6 صفحہ 278)

ڈاکٹر الزحیلی اپنی کتاب ’’الصحب و الآل‘‘ میں رقمطراز ہیں: اس سے جو کچھ میں سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے یہ بات خوش طبعی کے انداز میں کی تھی جس سے مقصود سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعض فضائل سے آگاہی حاصل کرنا تھا۔ اس لیے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بڑے ذہین و فطین شخص تھے آپ لوگوں سے ان کے اندر کی باتیں معلوم کرنے کو پسند کرتے تھے، جب انہوں نے سعد رضی اللہ عنہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ان کا موقف معلوم کرنا چاہا تو ان سے اس انداز میں سوال کرنا مناسب سمجھا۔ ان کا یہ سوال ان کے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس سوال جیسا ہے کہ کیا آپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ملت پر ہیں؟ اس کے جواب میں انہوں نے فرمایا: میں نہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ملت پر ہوں اور نہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی ملت پر۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملت پر ہوں۔

(الإبانۃ: جلد 1 صفحہ 355)

ظاہر ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ سوال خوش طبعی کے انداز میں تھا، اسی طرح حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے ان کا یہ قول بھی خوش طبعی کی قبیل سے تھا۔ رہا روافض کا یہ دعویٰ کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ وہ علی رضی اللہ عنہ کو سب و شتم کیا کریں تو ان سے اس جیسی بات کا صدور ہرگز نہیں ہو سکتا۔

(الانتصار للصحب و الآل: صفحہ 375)

اس کے مانع کئی امور ہیں:

1۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نہ تو خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سب و شتم کرتے تھے اور نہ انہوں نے اس کا کسی اور کو حکم دیا، بلکہ وہ ان کی تعظیم کیا کرتے اور ان کی فضیلت اور سابق الاسلام ہونے کا اعتراف کیا کرتے تھے جس طرح کہ ان کے اقوال سے ثابت ہوتا ہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابو مسلم خولانیؒ اور اس کے ساتھ کچھ اور لوگ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے پوچھا: کیا آپ علی رضی اللہ عنہ سے تنازع کرتے ہیں یا آپ ان جیسے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے بخوبی علم ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ مجھ سے بہت بہتر اور افضل ہیں اور مجھ سے زیادہ حکومت کے حق دار ہیں۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 8 صفحہ 133)

حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر ملی تو وہ رونے لگے، ان کی بیوی کہنے لگی: آپ انہیں رو رہے ہیں جن سے قتال کرتے رہے؟ انہوں نے جواب دیا: تو نہیں جانتی کہ لوگ کس قدر فضل و شرف، علم اور فقہ سے محروم ہو گئے۔

(ایضاً: جلد 8 صفحہ 133)

کیا عقل و دین کے حوالے سے اس امر کا کوئی جواز پیدا ہو سکتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سب و شتم کر سکتے ہیں یا انہیں سب و شتم کرنے کا کسی دوسرے کو حکم دے سکتے ہیں جبکہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں اس قسم کا اعتقاد بھی رکھتے ہوں۔

(الانتصار للصحب و الآل: صفحہ 376)

2۔ کسی صحیح دلیل سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کے دوران بھی انہیں کبھی سب و شتم کیا ہو تو کیا یہ بات معقول ہے کہ وہ ان کے ساتھ جنگ کے اختتام اور ان کی وفات کے بعد انہیں گالی دیں گے۔ یہ بات اہل عقل و دانش کی سمجھ میں آنے والی نہیں ہے۔ جب وہ خود ایسا نہیں کر سکتے تو دوسروں کو اس کے لیے کیسے پابند کر سکتے ہیں؟

3۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بڑے دانا شخص تھے اور وہ عقل و فکر میں بڑی شہرت کے حامل تھے۔ اگر وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دینے کے لیے لوگوں کو اُکسانا چاہتے تو کیا وہ اس کام کے لیے سیدنا سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ جیسے انسان سے مطالبہ کرتے جبکہ ان کی شجاعت و دلیری، فضیلت و پرہیز گاری کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی اور پھر وہ فتنہ میں سرے سے داخل ہی نہیں ہوئے تھے۔ ایسا کام تو کوئی احمق شخص بھی نہیں کر سکتا چہ جائیکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ جیسا انسان یہ کچھ کرنے لگے۔

4۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی خلافت سے دست برداری کے بعد خلافت کے ساتھ منفرد تھے۔ سب لوگوں نے ان پر اتفاق کر لیا تھا اور تمام شہر ان کے ماتحت تھے۔ ایسے حالات میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سب و شتم کرنا انہیں کیا فائدہ دے سکتا تھا؟ بلکہ حکمت و دانائی اور حسن سیاست تو اس کے برعکس کی متقاضی تھی تاکہ انسانی نفوس کو اطمینان ملتا اور امور مملکت میں ٹھہراؤ آتا۔ یہ باتیں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مخفی رہنے والی نہیں تھیں۔

5۔ استقلال خلافت کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بیٹوں کے درمیان قربت و الفت پیدا ہو چکی تھی جیسا کہ سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں مشہور ہے۔

(الانتصار للصحب و الآل: صفحہ 375)

مثلاً سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ عنہما وفد کی صورت میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے دو لاکھ درہم ہدیہ کی صورت میں ان کے حوالے کیے اور پھر فرمایا: اتنا گراں قدر ہدیہ مجھ سے پہلے آپ کی خدمت میں کسی نے پیش نہیں کیا۔ اس پر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے ہم سے افضل کسی شخص کو بھی تو کبھی عطیہ نہیں دیا۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 8 صفحہ 139) 

ایک دفعہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش آمدید کہتے ہیں، پھر انہیں تین لاکھ درہم عطیہ دینے کا حکم جاری فرمایا۔

(ایضاً: جلد 8 صفحہ 140)

اس سے اس جھوٹ کی جڑ کٹ جاتی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سب و شتم کرنے کے لیے لوگوں کو اُکسایا کرتے تھے۔ آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور اولاد علی رضی اللہ عنہ کے درمیان اس طرح کی الفت و مودت بھی ہو اور وہ ایک دوسرے کی تعظیم و توقیر بھی کریں اور پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان کے والد گرامی کو سب و شتم بھی کریں۔ اس سے اس مسئلہ کے بارے میں حق عیاں ہو جاتا ہے اور اصل حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔

(الانتصار للصحب و الآل: صفحہ 377)

مزید برآں چونکہ وہ معاشرہ عمومی طور سے احکام شریعت کا پابند اور نفاذ شریعت کے لیے بڑا حریص تھا، لہٰذا وہ لوگ لعن طعن اور فحش گوئی سے کوسوں دور تھے۔

(صحیح ابن حبان: رقم: 47، شیخ البانی نے الصحیحہ میں اسے صحیح کہا ہے، رقم: 320)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو مشرک مردوں کو سب و شتم کرنے سے منع فرمایا ہے اور اولیاء اللہ کو گالی گلوچ کرنے کی کس طرح اجازت دے سکتے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعاً مروی ہے کہ: ’’مردوں کو گالیاں مت دو اس لیے کہ انہوں نے جو کچھ آگے بھیجا اس تک پہنچ چکے ہیں۔‘‘

(بخاری: رقم: 6516)