کیا معاویہ رضی اللہ عنہ نے منبروں پر امیر المومنین علی رضی…

کیا معاویہ رضی اللہ عنہ نے منبروں پر امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ پر سب و شتم کی کھلی اجازت دے رکھی تھی

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

ایک دفعہ جب ضرار ہمدانی نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تعریف و توصیف کی جسے سن کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ رونے لگے اور ضرار کی باتوں کی تصدیق کی تو ابوالعباس قرطبی نے اس کی تعلیق میں لکھا: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور ان کے مقام و مرتبہ سے بخوبی آگاہ تھے۔ جب صورت حال یہ ہے تو پھر ان کی طرف سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو صراحتاً سبّ و شتم کرنے کے حوالے سے ان کے بارے میں جو کچھ مروی ہے اس کا زیادہ تر حصہ جھوٹ اور غیر صحیح ہے۔ اس میں سے سب سے زیادہ صحیح ان کا سعد بن ابی وقاصؓ سے ان کا مذکورہ بالا ارشاد ہے۔ مگر وہ سب و شتم کے لیے صریح نہیں ہے۔ وہ اس بارے میں محض ایک سوال تھا کہ ان کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سب و شتم دینے سے کون سی چیز مانع ہے؟ پھر جب معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کا جواب سنا تو پرسکون ہو کر اپنا سر جھکا لیا اور سمجھ گئے کہ حق حق دار کو ملا ہے۔

(المفہم للقرطبی: جلد 6 صفحہ 278)

ڈاکٹر الزحیلی اپنی کتاب ’’الصحب و الآل‘‘ میں رقمطراز ہیں: اس سے جو کچھ میں سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے یہ بات خوش طبعی کے انداز میں کی تھی جس سے مقصود سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعض فضائل سے آگاہی حاصل کرنا تھا۔ اس لیے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بڑے ذہین و فطین شخص تھے آپ لوگوں سے ان کے اندر کی باتیں معلوم کرنے کو پسند کرتے تھے، جب انہوں نے سعد رضی اللہ عنہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ان کا موقف معلوم کرنا چاہا تو ان سے اس انداز میں سوال کرنا مناسب سمجھا۔ ان کا یہ سوال ان کے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس سوال جیسا ہے کہ کیا آپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ملت پر ہیں؟ اس کے جواب میں انہوں نے فرمایا: میں نہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ملت پر ہوں اور نہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی ملت پر۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملت پر ہوں۔

(الإبانۃ: جلد 1 صفحہ 355)

ظاہر ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ سوال خوش طبعی کے انداز میں تھا، اسی طرح حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے ان کا یہ قول بھی خوش طبعی کی قبیل سے تھا۔ رہا روافض کا یہ دعویٰ کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ وہ علی رضی اللہ عنہ کو سب و شتم کیا کریں تو ان سے اس جیسی بات کا صدور ہرگز نہیں ہو سکتا۔

(الانتصار للصحب و الآل: صفحہ 375)

اس کے مانع کئی امور ہیں:

1۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نہ تو خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سب و شتم کرتے تھے اور نہ انہوں نے اس کا کسی اور کو حکم دیا، بلکہ وہ ان کی تعظیم کیا کرتے اور ان کی فضیلت اور سابق الاسلام ہونے کا اعتراف کیا کرتے تھے جس طرح کہ ان کے اقوال سے ثابت ہوتا ہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابو مسلم خولانیؒ اور اس کے ساتھ کچھ اور لوگ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے پوچھا: کیا آپ علی رضی اللہ عنہ سے تنازع کرتے ہیں یا آپ ان جیسے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے بخوبی علم ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ مجھ سے بہت بہتر اور افضل ہیں اور مجھ سے زیادہ حکومت کے حق دار ہیں۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 8 صفحہ 133)

حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر ملی تو وہ رونے لگے، ان کی بیوی کہنے لگی: آپ انہیں رو رہے ہیں جن سے قتال کرتے رہے؟ انہوں نے جواب دیا: تو نہیں جانتی کہ لوگ کس قدر فضل و شرف، علم اور فقہ سے محروم ہو گئے۔

(ایضاً: جلد 8 صفحہ 133)

کیا عقل و دین کے حوالے سے اس امر کا کوئی جواز پیدا ہو سکتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سب و شتم کر سکتے ہیں یا انہیں سب و شتم کرنے کا کسی دوسرے کو حکم دے سکتے ہیں جبکہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں اس قسم کا اعتقاد بھی رکھتے ہوں۔

(الانتصار للصحب و الآل: صفحہ 376)

2۔ کسی صحیح دلیل سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کے دوران بھی انہیں کبھی سب و شتم کیا ہو تو کیا یہ بات معقول ہے کہ وہ ان کے ساتھ جنگ کے اختتام اور ان کی وفات کے بعد انہیں گالی دیں گے۔ یہ بات اہل عقل و دانش کی سمجھ میں آنے والی نہیں ہے۔ جب وہ خود ایسا نہیں کر سکتے تو دوسروں کو اس کے لیے کیسے پابند کر سکتے ہیں؟

3۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بڑے دانا شخص تھے اور وہ عقل و فکر میں بڑی شہرت کے حامل تھے۔ اگر وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دینے کے لیے لوگوں کو اُکسانا چاہتے تو کیا وہ اس کام کے لیے سیدنا سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ جیسے انسان سے مطالبہ کرتے جبکہ ان کی شجاعت و دلیری، فضیلت و پرہیز گاری کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی اور پھر وہ فتنہ میں سرے سے داخل ہی نہیں ہوئے تھے۔ ایسا کام تو کوئی احمق شخص بھی نہیں کر سکتا چہ جائیکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ جیسا انسان یہ کچھ کرنے لگے۔

4۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی خلافت سے دست برداری کے بعد خلافت کے ساتھ منفرد تھے۔ سب لوگوں نے ان پر اتفاق کر لیا تھا اور تمام شہر ان کے ماتحت تھے۔ ایسے حالات میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سب و شتم کرنا انہیں کیا فائدہ دے سکتا تھا؟ بلکہ حکمت و دانائی اور حسن سیاست تو اس کے برعکس کی متقاضی تھی تاکہ انسانی نفوس کو اطمینان ملتا اور امور مملکت میں ٹھہراؤ آتا۔ یہ باتیں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مخفی رہنے والی نہیں تھیں۔

5۔ استقلال خلافت کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بیٹوں کے درمیان قربت و الفت پیدا ہو چکی تھی جیسا کہ سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں مشہور ہے۔

(الانتصار للصحب و الآل: صفحہ 375)

صفحہ 2 از 3