کیا معاویہ رضی اللہ عنہ نے منبروں پر امیر المومنین علی رضی…

کیا معاویہ رضی اللہ عنہ نے منبروں پر امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ پر سب و شتم کی کھلی اجازت دے رکھی تھی

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

مثلاً سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ عنہما وفد کی صورت میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے دو لاکھ درہم ہدیہ کی صورت میں ان کے حوالے کیے اور پھر فرمایا: اتنا گراں قدر ہدیہ مجھ سے پہلے آپ کی خدمت میں کسی نے پیش نہیں کیا۔ اس پر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے ہم سے افضل کسی شخص کو بھی تو کبھی عطیہ نہیں دیا۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 8 صفحہ 139) 

ایک دفعہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش آمدید کہتے ہیں، پھر انہیں تین لاکھ درہم عطیہ دینے کا حکم جاری فرمایا۔

(ایضاً: جلد 8 صفحہ 140)

اس سے اس جھوٹ کی جڑ کٹ جاتی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سب و شتم کرنے کے لیے لوگوں کو اُکسایا کرتے تھے۔ آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور اولاد علی رضی اللہ عنہ کے درمیان اس طرح کی الفت و مودت بھی ہو اور وہ ایک دوسرے کی تعظیم و توقیر بھی کریں اور پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان کے والد گرامی کو سب و شتم بھی کریں۔ اس سے اس مسئلہ کے بارے میں حق عیاں ہو جاتا ہے اور اصل حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔

(الانتصار للصحب و الآل: صفحہ 377)

مزید برآں چونکہ وہ معاشرہ عمومی طور سے احکام شریعت کا پابند اور نفاذ شریعت کے لیے بڑا حریص تھا، لہٰذا وہ لوگ لعن طعن اور فحش گوئی سے کوسوں دور تھے۔

(صحیح ابن حبان: رقم: 47، شیخ البانی نے الصحیحہ میں اسے صحیح کہا ہے، رقم: 320)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو مشرک مردوں کو سب و شتم کرنے سے منع فرمایا ہے اور اولیاء اللہ کو گالی گلوچ کرنے کی کس طرح اجازت دے سکتے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعاً مروی ہے کہ: ’’مردوں کو گالیاں مت دو اس لیے کہ انہوں نے جو کچھ آگے بھیجا اس تک پہنچ چکے ہیں۔‘‘

(بخاری: رقم: 6516)


صفحہ 3 از 3