Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو زہر دیا جانا

  علی محمد الصلابی

خامساً

بعض روایات میں آتا ہے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو زہر دے کر ہلاک کیا گیا تھا اور اس کا الزام ان کی بیوی جعدہ بنت اشعث بن قیس پر عائد کیا گیا، اس زہر کی وجہ سے حسن رضی اللہ عنہ شدید بیمار ہو گئے۔ جس کی وجہ سے سیدنا حسنؓ کے نیچے ایک تھال رکھا جاتا اور دوسرا اٹھا لیا جاتا اور یہ سلسلہ چالیس روز تک جاری رہا۔

( الطبقات: تحقیق السلمی: جلد 1 صفحہ 338۔ اس کی سند ضعیف ہے)

مگر اس روایت کی سند صحیح نہیں ہے۔

(ایضاً: جلد 1 صفحہ 338)

بعض مؤرخین اور رواۃ نے سرتوڑ کوشش کی ہے کہ کسی نہ کسی طرح یزید کی بیعت اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت کے درمیان تعلق پیدا کیا جائے۔ ان کا خیال ہے کہ سیدنا یزید بن معاویہ نے جعدہ بنت قیس کی طرف پیغام بھیجا کہ اگر تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دے دے تو میں تجھ سے شادی کر لوں گا، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ ان کی وفات کے بعد جعدہ نے یزید سے ایفاء عہد کی درخواست کی تو اس نے کہا: ہم نے تجھے حسن رضی اللہ عنہ کے لیے پسند نہیں کیا تھا تو کیا اب اپنے لیے کر لیں؟

(تہذیب الکمال: جلد 6 صفحہ 453)

اس روایت کی سند میں ایک راوی یزید بن عیاض بن جعدیہ ہے جسے مالک وغیرہ نے کذاب بتایا ہے۔

(تقریب التہذیب: صفحہ 604)

اس قسم کی روایات بلاتحقیق اہل سنت کی کتابوں میں داخل ہو گئیں۔ جبکہ ان روایات کی اسانید ضعیف ہیں۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 393)

1۔ ابن العربیؒ رقمطراز ہیں: ’’یزید کی طرف سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دینے کی سازش تیار کرنا دو طرح سے محال ہے، پہلی وجہ تو یہ ہے کہ یزید کو ان کی طرف سے کوئی خطرہ نہیں تھا اس لیے کہ وہ خلافت سے دست بردار ہو چکے تھے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ ایک غیبی امر ہے جسے اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، تم بغیر کسی معتبر دلیل کے یہ الزام کسی معین شخص پر کس طرح عائد کر سکتے ہو جبکہ اس پر ایک طویل عرصہ بھی بیت چکا ہو اور ہم کسی نقل کی توثیق بھی نہ کر سکتے ہوں، پھر وہ دور بھی خواہش پرستی کا ہو، حالات فتنہ و عصبیت کے ہوں اور ہر کوئی دوسرے کی طرف ناروا باتیں منسوب کر رہا ہو، ایسے حالات میں تو صرف صاف بات ہی تسلیم کی جا سکتی ہے اور صرف عدل و انصاف پر مبنی بات ہی سنی جا سکتی ہے۔‘‘

(العواصم من القواصم: صفحہ 220، 221)

2۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بعض لوگ ذکر کرتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دیا تھا۔ مگر یہ الزام کسی شرعی دلیل معتبر قول یا قابل اعتماد نقل سے ثابت نہیں ہوتا اور یہ ایسی صورت حال ہے کہ جس سے علم کا حصول ممکن نہیں ہوتا، اس بنا پر یہ بات کرنا بدون علم بات کرنا ہے۔

(منہاج السنۃ النبویۃ: جلد 4 صفحہ 469)

بعض لوگوں کی طرف سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دینے کی تہمت لگائی جاتی ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اشعث بن قیسؓ کو یہ مجرمانہ فعل سر انجام دینے کا حکم دیا تھا اور یہ وہ شخص ہے جس کی بیٹی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی۔ اس اتہام کی تردید کرتے ہوئے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر یہ کہا جائے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کے باپ کو ایسا کرنے کا حکم دیا تھا تو یہ محض گمان ہے اور گمان کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: گمان سے بچو اس لیے کہ بعض گمان سب سے بڑا جھوٹ ہوتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ جعدہ کا باپ اشعث بن قیس 40 ھ یا 41 ھ کو فوت ہو گیا تھا یہی وجہ ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے درمیان ہونے والی صلح میں اس کا کہیں نام نہیں آتا، اگر وہ موجود ہوتا تو اس کا ذکر ضرور ہوتا، جب وہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے دس سال قبل فوت ہو گیا تھا تو اس نے اپنی بیٹی کو ایسا کرنے کا حکم کس طرح دیا؟

(المنتقی من منہاج الاعتدال: صفحہ 266)

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا یہ تبصرہ تاریخی روایات پر ان کی ماہرانہ علمی تنقید پر قدرت کی دلیل ہے۔

3۔ امام ذہبیؒ فرماتے ہیں: ’’میرے نزدیک یہ بات صحیح نہیں ہے آخر اس کی اطلاع کیسے ہوئی؟‘‘

(تاریخ الاسلام: عہد معاویۃ: صفحہ 40 ۔ اتہامات لا تثبت، سلیمان بن صالح الخراشی: صفحہ 174)

4۔ حافظ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں: ’’بعض لوگ روایت کرتے ہیں کہ یزید بن معاویہ نے جعدہ بنت اشعث کی طرف پیغام بھیجا کہ اگر تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دے دے تو میں ان کے بعد تجھ سے شادی کر لوں گا، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا، پھر جب ان کی وفات ہو گئی تو اس نے یزید کو اس کا وعدہ یاد دلایا تو اس نے جواب دیا: اللہ کی قسم! ہم تو تجھے حسن رضی اللہ عنہ کے لیے پسند نہیں کرتے تھے کیا اب ہم تجھے اپنے لیے پسند کر لیں؟ جبکہ میرے نزدیک یہ بات صحیح نہیں ہے، اور اس کے باپ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے اس کی عدم صحت بطریق اولیٰ اور زیادہ موزوں ہے۔‘‘

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 8 صفحہ 43)

5۔ ابن خلدونؒ فرماتے ہیں: اور یہ جو نقل کیا جاتا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسنؓ کی بیوی جعدہ بنت اشعث کے ذریعے انہیں زہر دینے کی سازش کی، تو یہ روافض کی اختراع ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا اس سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہے۔

(تاریخ ابن خلدون: جلد 2 صفحہ 527)

6۔ ڈاکٹر جمیل مصری اس قضیہ پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ یا یزید کی طرف سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دینے کے قضیہ کے بارے میں بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اسے اس وقت شہرت حاصل نہیں ہوئی تھی، اس لیے کہ اس کا نہ تو کوئی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے نوٹس لیا اور نہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے ہی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر کوئی عتاب کیا۔

(أثر اہل الکتاب فی الفتن و الحروب الاہلیۃ: صفحہ 482۔ مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 395)

جہاں تک سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دئیے جانے کا تعلق ہے تو ہم اس سے انکار نہیں کرتے، اگر یہ ثابت ہو جائے کہ وہ زہر کی وجہ سے فوت ہوئے تھے تو یہ ان کے لیے شہادت اور باعث عزت و کرامت ہے۔

(منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 42)

مگر اس کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ یا ان کے بیٹے یزید پر تہمت لگانا نہ تو سند کے اعتبار سے ثابت ہے اور نہ متن کے اعتبار سے۔ جیسا کہ روایات میں وارد ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی بیوی جعدہ بنت اشعثؓ کو عز و شرف یا مال و زر کی کوئی ضرورت تھی تاکہ وہ یہ سب کچھ یزید سے حاصل کر سکے اور پھر اس کی بیوی بن جائے۔ کیا جعدہ کے لیے یہ بات کافی نہیں تھی کہ اس کا باپ اشعث بن قیسؓ کندہ قبیلے کا سردار ہے؟ پھر کیا حسن بن علی رضی اللہ عنہما عزت و شرف اور مقام و مرتبہ میں سب لوگوں سے بڑھ کر نہیں تھے؟ ان کی ماں فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھیں جبکہ نانا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے جس سے بڑھ کر کوئی بھی چیز قابل فخر نہیں ہے۔ ان کے باپ علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ تھے جو کہ عشرہ مبشرہ میں سے ایک اور چوتھے خلیفہ راشد تھے۔ آخر وہ کون سی چیز تھی جس کے حصول کے لیے جعدہ نے اس قدر سنگین واردات کا ارتکاب کر ڈالا؟

(مواقف المعارضۃ فی خلافۃ یزید بن معاویۃ: صفحہ 123)

میں کہتا ہوں کہ اس وقت بکثرت ایسے لوگ موجود تھے جو وحدت اسلامیہ کے دشمن تھے اور جن کے غیظ و غضب میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی دست برداری کی وجہ سے کئی گنا اضافہ ہو گیا تھا اور جو شدت کے ساتھ اس بات کو محسوس کر رہے تھے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا وجود مسعود امت اسلامیہ کے امن و استقرار کی ضمانت ہے اور یہ کہ وہ غیر متنازعہ طور سے اس کی الفت و یگانگت کے امام اور اس کی وحدت کے زعیم و قائد ہیں، لہٰذا امت کو دوبارہ اضطرابی کیفیت سے دوچار کرنے اور اس میں دوبارہ فتنہ برپا کرنے کے لیے انہیں راستے سے ہٹانا اور ان کا صفایا کرنا ضروری ہے۔ میری نظر میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دینے کا الزام سب سے پہلے ابن سبا کے پیروکاروں پر عائد ہوتا ہے جن کے تمام مذموم مقاصد کو معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں ان کی دست برداری سے شدید نقصان پہنچا تھا اور پھر اس کی تہمت ان خوارج کے سر آتی ہے جنہوں نے امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ کو قتل کیا اورحسن رضی اللہ عنہ کی ران میں نیزہ مارا، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انہوں نے جنگ نہروان اور دوسرے معرکوں میں اپنے مقتولین کا انتقام لینے کے لیے اس گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا ہو۔

( ایضاً: صفحہ 124)