قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا مؤقف
علی محمد الصلابیسادساً: قاتلین عثمان کے بارے میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا مؤقف
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ وہ اہل مدینہ، اہل حجاز اور اہل عراق سے کسی بھی شخص سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کریں گے،
(التبیین فی انساب القرشیین: صفحہ 127)
لہٰذا انہوں نے اسی وقت سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا مطالبہ ترک کر دیا۔
(الخلفاء الراشدون: نجار: صفحہ 482)
اسی طرح اس بات پر بھی اتفاق ہوا تھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ایام خلافت میں جو کچھ بھی ہوا اس کا کسی سے کوئی مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ اصول بڑی اہمیت کا حامل تھا جس کا مقصد ماضی کو بھلا کر تاریخ کا نیا باب رقم کرتے ہوئے حاضر اور مستقبل پر ارتکاز کرنا تھا۔
(الدور السیاسی للصفوۃ فی صدر الاسلام: صفحہ 341)
اس کا مطلب یہ ہوا کہ صلح کا یہ معاہدہ فریقین کے تمام لوگوں کے لیے عام معافی کی بنیاد پر ہوا، اور پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کی مکمل پاس داری کی اور عملاً کسی کو بھی اس کے کسی گزشتہ گناہ کی سزا نہ دی۔ بڑی حد تک ان کے دور حکومت میں ہر طرف امن کا دور دورہ رہا اور خون محفوظ رہے۔
(خامس الخلفاء راشدین الحسن بن علی رضی اللہ عنہ: صفحہ 349)
ابن قتیبہ کی عیون الاخبار میں وارد ہے کہ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ صلح و اتفاق کے سال مدینہ منورہ آئے تو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے جنہیں دیکھ کر عائشہ بنت عثمان رضی اللہ عنہ اپنے والد کو آوازیں دیتے ہوئے رونے لگی۔ اس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میری بھتیجی! لوگوں نے ہماری اطاعت قبول کر لی ہے اور ہم نے انہیں امان دے دی ہے۔ ہم نے ان کے سامنے حلم و برد باری کا اظہار کیا جس کے نیچے قہر و غضب ہے اور انہوں نے ہمارے سامنے تابعداری کا اظہار کیا۔ جس کے نیچے کینہ و بغض ہے۔ ہر انسان کے پاس تلوار ہے اور وہ اپنے ساتھیوں کی جگہ دیکھ رہا ہے۔ اگر ہم ان سے عہد شکنی کریں گے تو یقیناً وہ بھی ایسا ہی کریں گے اور ہم نہیں جانتے کہ ایسا کرنا ہمارے خلاف جائے گا یا ہمارے حق میں رہے گا۔ تیرے لیے امیر المؤمنین کے چچا کی بیٹی بننا عام عورت بننے سے بہتر ہے۔
(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الامویین: صفحہ 69 السلطان لابن قتیبۃ: صفحہ 58)
ابن قتیبہ کے اس کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے درمیان ہونے والی اس صلح کے نتیجے میں جنگ ختم اور خون ریزی بند ہو گئی تھی۔ لوگ پرامن اور پرسکون ماحول میں زندگی گزارنے لگے۔ علاوہ ازیں جنگ جمل، صفین، نہروان اور مصر کی جنگوں نے ان لوگوں کو ختم کر دیا تھا جن کے نام قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کی فہرست میں آتے تھے مگر یہ بات یاد رہے کہ قتل عثمان رضی اللہ عنہ کا مسئلہ اغلباً بنو امیہ کے خلفاء اور ان کے نائبین کے ذہنوں میں موجود رہا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے طرف دار رہے۔
(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الامویین: صفحہ 70)