Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کا قتل

  علی محمد الصلابی

سابعاً

زیادہ تر مصادر حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کے قتل کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں، ان میں سے مندرجہ ذیل مصادر سرفہرست ہیں:

ابن سعد (الطبقات: جلد 6 صفحہ 217۔ تحقیق احسان عباس)

خلیفہ بن خیاط (تاریخ خلیفہ بن خیاط: صفحہ 213)

بلاذری (انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 242)

یعقوبی (تاریخ الیعقوبی: جلد 2 صفحہ 230)

مسعودی ( مروج الذہب: جلد 3 صفحہ 12)

ابو الفرج الاصفہانی (الدغانی: جلد 13 صفحہ 133)

 ابن جوزی ( المنتظم: جلد 5 صفحہ 241)

ابن الاثیر (الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 488)

الذہبی( سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 462)

اور ابن کثیر (البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 227)

حجر بن عدی رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب کی خبر میں طبر مشہور رافضی مورخ ابو مخنف پر اعتماد کرتے ہیں، جو کہ اہل سنت علماء کے نزدیک غیر ثقہ اور ناقابل اعتماد ہے۔ طبری نے اس سے سولہ روایات نقل کی ہیں۔ عمومی طور سے حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کے قتل کی خبر متعدد مصادر میں وارد ہوئی ہے اور اس پر شیعی روایات کی اجارہ داری نہیں ہے۔ لیکن علماء جرح و تعدیل کے نزدیک ساقط الاعتبار ابو مخنف کی روایت اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مذمت کرنے اور انہیں سب و شتم کرنے کی وصیت کی، ان کی اس وصیت پر عمل کرتے ہوئے مغیرہ رضی اللہ عنہ کوفہ پر اپنی ولایت کے سارے عرصہ میں خطبہ کے دوران سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مذمت کرتے رہے۔ ان کے جس خطبہ نے حجر بن عدی کو غضب ناک کر دیا وہ ابو مخنف کی وارد کردہ روایت کی رو سے حسب ذیل ہے:

یا اللہ! عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ پر رحم فرما، ان سے درگزر فرما اور ان کے اچھے اعمال کا انہیں صلہ عطا فرما۔ وہ تیری کتاب پر عمل کرتے رہے، تیرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع کرتے رہے، انہوں نے ہمیں متحد کیا اور ہمارے خون کو محفوظ بنایا اور انہیں مظلوم قتل کیا گیا۔ یا اللہ! ان کے انصار و معاونین، ان کے دوستوں اور ان سے محبت کرنے والوں اور ان کے خون کا مطالبہ کرنے والوں پر رحم فرما۔ اس دوران وہ ان کے قاتلوں کے لیے بددعا کیا کرتے تھے۔

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 168، 169)

جس طرح کہ خطبہ کی نص سے واضح ہے اس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مذمت میں ایک لفظ بھی وارد نہیں ہے، الا یہ کہ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ پر لعنت کی یہ تاویل کی جائے کہ یہ ان کی مذمت سے عبارت ہے۔

(اثر التشییع علی الروایات: صفحہ 368، 370)

جبکہ قریب و بعید کا ہر شخص اس امر سے بخوبی آگاہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون سے کوئی تعلق نہیں ہے، جس کا میں نے عثمان و علی اور حسن رضی اللہ عنہم پر مشتمل اپنی کتابوں میں اثبات کیا ہے۔ صورت حال جو بھی ہو حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کے قتل کی تحقیق کرنے والا اس بات کو ملاحظہ کرے گا کہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کا موقف دو مراحل سے گزرا۔