قومی معارضہ 41، 50ھ
علی محمد الصلابیپہلا مرحلہ: قومی معارضہ 41-50ھ
ابو عبدالرحمٰن، حجر بن عدیؓ کندی شرف صحابیت سے مشرف ہیں، آپ اپنے بھائی ہانی بن ادبر کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی روایت نہیں کی۔ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے سماعت کی۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 462)
آپ شریف اور اپنی قوم کے مطاع امیر تھے۔ ان کا شمار شیعان علی رضی اللہ عنہ میں ہوتا ہے۔ امیر لشکر کی صورت میں جنگ صفین میں شامل ہوئے۔ آپ بڑے نیک اور عبادت گزار تھے۔
(ایضاً: جلد 3 صفحہ 463)
عدی بن حجر رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی صلح کے مخالف تھے۔ یہ مخالف ضرور تھے، مگر یہ مخالفت صرف اقوال تک محدود رہی اور اس دوران عملاً کوئی کارروائی نظر نہیں آتی۔
(مرویات خلافت معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 422)
اس بارے میں بلاذری رقمطراز ہیں:
حجر بن عدی رضی اللہ عنہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح پر معترض رہے، وہ اس بارے میں انہیں ملامت کرتے ہوئے کہا کرتے تھے: تم نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ترک قتال کیا حالانکہ تمہارے ساتھ تمہارے دشمن سے جنگ کرنے کے لیے چالیس ہزار مخلص اور تجربہ کار جنگجو موجود تھے، پھر وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراض کرتے ہوئے انہیں ظالم قرار دیا کرتے اور وہ ہمیشہ یہی کچھ کرتے رہے۔