مسلہ خلافت اور مسلہ تفضیل - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مسلہ خلافت اور مسلہ تفضیل

  علامہ عبداللہ ناصر رحمانی

صفحہ 2 از 2
چنانچہ شیخ رحمۃ اللہ نے واضح کیا ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ پر افضلیت دینے والے کی تضلیل درست نہیں کیونکہ اہلِ سنت والجماعت میں یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے اگرچہ راجح بات سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی افضلیت ہے۔
لیکن مسئلہ خلافت میں مخالفین کی تضلیل جائز ہے، یعنی جو لوگ مسئلہ خلافت میں اہلِ سنت والجماعت کی مخالفت کرتے ہیں اور ان کی یہ رائے ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلافت میں سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم پر مقدم ہیں یا یہ کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما پر افضلیت ہے کے گمراہ ہونے کا حکم لگایا جا سکتا ہے۔
اہلِ سنت والجماعت اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ رسول اللہﷺ‏ کے بعد خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں کیونکہ انہیں پوری امت پر افضلیت حاصل ہے، سبقت الی الاسلام کا شرف حاصل ہے، آپﷺ‏ نے امامت کے لیے انہیں جمیع صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر مقدم فرمایا ہے اور ان کی بیعتِ خلافت پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اجماع ہے۔
سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے بعد خلیفہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں کیونکہ انہیں باقی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر افضلیت حاصل ہے، سبقت الی الاسلام کا شرف حاصل ہے، حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنا ولی عہد مقرر فرمایا تھا اور امت نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد ان کی خلافت پر اتفاق کیا۔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بعد خلیفہ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ ہیں، کیونکہ مجلسِ شوریٰ نے خلافت کے لیے انہیں مقدم کیا تھا، اور امت نے ان کی خلافت پر اتفاق کیا ہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد خلیفہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہیں، کیونکہ انہیں باقی لوگوں پر افضلیت حاصل ہے اور ان کے معاصرین نے ان کی خلافت پر اجماع کیا ہے اور یہی وہ خلفاء اربعہ رضی اللہ عنہم ہیں جن کی طرف سیدنا عرباض بن ساریہؓ کی درج ذیل حدیث میں اشارہ کیا گیا ہے:
علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین المھدین من بعدی
ترجمہ: تم پر میری سنت اور میرے بعد آنے والے میرے خلفاء راشدین المہدیین رضی اللہ عنہم کی سنت کو لازم پکڑ لینا۔
شیخ رحمۃ اللہ نے مذکورہ خلفاء اربعہ رضی اللہ عنہم کی خلافت پر طعن کرنے والوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں اپنے گھریلوں گدھے سے بھی بڑھ کر گمراہ قرار دیا ہے، کیونکہ یہ لوگ بلاحجت و برہانِ نص اور اجماع کی مخالفت کرتے ہیں، یہ روافض ہیں جن کا گمان ہے کہ نبی اکرمﷺ‏ کے بعد خلافت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے لیے ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی دیگر تینوں خلفاء پر تقدیم کے حکم کا ماحصل یہ ہے:
1: جو انہیں خلافت میں مقدم سمجھتا ہے وہ بالاتفاق گمراہ ہے۔
2: جو انہیں سیدنا ابوبکر صدیق و سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما پر فضیلت میں مقدم سمجھتا ہے وہ بھی بالاتفاق گمراہ ہے۔
البتہ جو انہیں حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ پر فضیلت میں مقدم سمجھتا ہے اسے گمراہ قرار نہیں دیا جا سکتا اگرچہ یہ بات راجح قول کے خلاف ہے۔
کتاب کا نام: عقیدہ فرقہ ناجیہ (شیخ الاسلام ابنِ تیمیۃ رحمۃ اللہ کی کتاب العقیدۃ الواسطیۃ کی مختصر شرح)

صفحہ 2 از 2