Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فعلی معارضہ

  علی محمد الصلابی

دوسرا مرحلہ: فعلی معارضہ:

اس مرحلہ کا آغاز 51 ھ سے ہوا، اس سال ان کے اور والی عراق زیاد بن ابیہ کے تعلقات اچانک کشیدہ ہو گئے جس کے دو اسباب بتائے جاتے ہیں:

1۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تعریف و توصیف کرتے اور ان کے لیے رحمت ایزدی کی دعائیں کرتے جبکہ سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کی مذمت کیا کرتے، اس کے برعکس حجر بن عدی رضی اللہ عنہ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی مدح و ستائش کرتے اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی مذمت کرتے، جس پر مغیرہؓ، حجر بن عدیؓ کے بارے میں خاموشی اختیار کرتے، پھر جب مغیرہ فوت ہو گئے اور زیاد بن ابیہ نے ولایت سنبھالی تو وہ بھی سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر چل نکلے۔ ادھر سے جو حجر بن عدی رضی اللہ عنہ اٹھے اور انہوں نے بھی ان دونوں کے بارے میں مغیرہ رضی اللہ عنہ کی روش اپنائی جس سے حجر بن عدی رضی اللہ عنہ اور زیاد کے درمیان ٹکراؤ کا آغاز ہوا۔

(تاریخ طبری:  جلد 6 صفحہ 169)

2۔ زیاد بن ابیہ طویل خطبہ دیتا اور نماز تاخیر سے پڑھاتا جبکہ حجر اس لیے زیاد کو ہدف تنقید بناتے، جس کی وجہ سے بھی ان دونوں میں ٹکراؤ کا آغاز ہوا۔

(ایضاً: جلد 5 صفحہ 169)

مگر ان اسباب کو مندرجہ ذیل امور مکدر کرتے ہیں:

اہل کوفہ کے ساتھ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی سیاست عفو و کرم اور درگزر پر مبنی تھی نہ کہ دشمنی اور کینہ ابھارنے پر، اس کی دلیل بخاری میں مروی جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا یہ قول ہے کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اپنی وفات کے دن کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: ’’اللہ وحدہ لا شریک لہ سے تقویٰ اختیار کرو۔ وقار اور سکینت اپنائے رکھو یہاں تک کہ امیر یہاں پہنچ جائے جو کہ ابھی آنے ہی والے ہیں۔‘‘ پھر فرمایا: اپنے موجودہ امیر کے لیے بخشش کی دعا کرو، وہ عفو و درگزر کو پسند کیا کرتے تھے۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 424)

پھر فرمایا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: میں اسلام پر آپ سے بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر یہ شرط عائد کی کہ میں ہر مسلمان کی خیر خواہی کروں گا۔ میں نے اس شرط پر آپﷺ سے بیعت کر لی۔ اس مسجد کے رب کی قسم! یقیناً میں تمہارا خیر خواہ ہوں، پھر انہوں نے استغفار کیا اور منبر سے نیچے اتر آئے۔

 (صحیح بخاری مع فتح الباری: جلد 1 صفحہ 168)

کوفہ کو 49 ھ میں زیاد کی فرمانروائی میں دیا گیا، اس بارے میں فیل مولیٰ زیاد کہتا ہے: زیاد نے عراق پر پانچ سال تک حکومت کی پھر 53ھ میں اس کی موت واقع ہو گئی۔ یہ اس باب میں وارد صحیح ترین روایت ہے۔ 53ھ میں عراق پر حکومت کے حصول کے بعد والی کوفی زیاد اور حجر بن عدی رضی اللہ عنہ اور ان کے حامیوں کے درمیان ٹکراؤ نہ ہوا، اس لیے کہ اس وقت سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما بقید حیات تھے اور ان کا وجود مسعود صلح کے مخالف ان کے اعوان و انصار کی طرف سے چلائی جانے والی تحریکوں کا سر کچلنے کی ضمانت تھا۔ اس لیے کہ انہوں نے ان پر یہ شرط عائد کی تھی کہ تم ان سے جنگ کرو گے جن سے میں جنگ کروں گا اور ان سے صلح کرو گے جن سے میں صلح کروں گا۔ مگر 51 ھ میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد بعض عراقی قائدین کا مؤقف تبدیل ہو گیا۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 425)

جن میں حجر بن عدی رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے جن کا قولی معارضہ فعلی معارضہ میں تبدیل ہو گیا تھا۔ بلاذری شعبی وغیرہ تک اپنی سند سے روایت کرتے ہیں کہ جب 49 ھ میں زیاد کوفہ آیا تو اس نے حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کو خبردار کرتے ہوئے انہیں اپنی روش تبدیل کرنے کو کہا اور بصورت دیگر ان کے خلاف سخت کارروائی کی دھمکی دی۔ جب وہ اپنے گھر پہنچے تو روافض ان کے پاس جمع ہو کر کہنے لگے: تم ہمارے شیخ ہو اور سب لوگوں سے بڑھ کر اس امر کا انکار کرنے کا حق رکھتے ہو۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ: ص: 428۔ انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 246)

پھر جب زیاد کو کسی کام سے بصرہ جانے کی ضرورت پیش آئی تو اس نے نماز اور جنگ کے لیے عمرو بن حریث اور خراج کے لیے اپنے مولیٰ مہران کو اپنا قائم مقام بنایا اور عمال کو عمرو بن حریث کے ساتھ خط و کتابت کرنے کی تلقین کی۔۔۔ عمرو نے زیاد کو خط لکھا کہ اگر تمہیں کوفہ میں کوئی دلچسپی ہے تو جلدی واپس آئیں اس لیے کہ میں حجر رضی اللہ عنہ کے معاملہ میں کچھ کرنے سے قاصر ہوں، وہ فوراً کوفہ واپس آیا اور عدی بن حاتم طائی اور جریر بن عبداللہ بجلیؓ وغیرہم سے کہا کہ اس شیخ کو سمجھائیں مجھے ڈر ہے کہ وہ ہمیں کوئی ایسا کام کرنے کے لیے مجبور کرے گا جو ہم کیا نہیں کرتے۔ وہ لوگ اس کے پاس گئے اور اس سے بات کرنا چاہی مگر انہوں نے اس وفد کے کسی فرد سے کوئی بات نہ کی۔ وہ لوگ زیاد کے پاس واپس آئے تو اس نے مذاکرات کے بارے میں ان سے آگاہی چاہی۔ اس پر عدی رضی اللہ عنہ گویا ہوئے: امیر محترم! وہ ایک بوڑھا آدمی ہے آپ اس کے بارے میں اپنا عہد و پیمان نبھائیں۔ اس پر زیاد نے جواب دیا: پھر تو میں ابوسفیان کا نہ ہوا۔ پھر اس نے ان کے پاس پولیس کی نفری بھیجی تو اس کی بھی مزاحمت کی گئی۔

(انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 246، 247)

دوسری روایت میں آتا ہے کہ جب 49ھ میں زیاد امیر بن کر کوفہ آیا تو اس نے حجر رضی اللہ عنہ کا بڑا اکرام کیا اور انہیں اپنے سے قریب کیا، پھر جب اس نے بصرہ جانے کا ارادہ کیا تو انہیں اپنے پاس بلا کر کہنے لگا: حجر! میں نے تمہارے ساتھ جو سلوک کیا وہ تمہارے سامنے ہے۔ میرا بصرہ جانے کا ارادہ ہے میں چاہتا ہوں کہ آپ بھی میرے ساتھ چلیں، میری عدم موجودگی میں تمہارے یہاں رہنے کی صورت میں ہو سکتا ہے کہ مجھے تمہاری طرف سے کوئی ایسی خبر ملے جس سے مجھے دلی طور سے ٹھیس پہنچے اگر تم میرے ساتھ رہو گے تو پھر اس کا کوئی امکان نہیں ہو گا۔ میں سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں تمہاری رائے سے بخوبی آگاہ ہوں، ان کے بارے میں پہلے میری بھی یہی رائے تھی، مگر جب میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے خلافت کا معاملہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا ہے تو میں نے اس کے فیصلے پر کوئی تہمت نہ لگائی اور اسے خوشی سے تسلیم کر لیا۔ اب سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب کے معاملات کس رُخ پر ہیں، میں یہ بھی دیکھ رہا ہوں۔ میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ کہیں تمہارا بھی وہی انجام نہ ہو جو تمہارے سرکردہ لوگوں کا ہوا۔ زیاد بتانا یہ چاہتا تھا کہ میرا شمار علی رضی اللہ عنہ کے حلقہ خواص میں ہوتا تھا، پھر جب میں نے دیکھا کہ حسن رضی اللہ عنہ ان کے حق میں خلافت سے دست بردار ہو گئے ہیں اور ان پر امت کا اجماع ہو گیا ہے تو میں بھی جماعت میں شامل ہو گیا۔ تاکہ امت کی وحدت قائم رہے اور فتنوں سے بچا جا سکے۔ مگر حجر کہنے لگے: میں بیمار ہوں، لہٰذا آپ کے ساتھ جانے سے قاصر ہوں، یہ سن کر زیاد کہنے لگا: تم سچ کہتے ہو۔ تم دین، دل اور عقل کے مریض ہو۔ اللہ کی قسم! اگر مجھے تمہاری طرف سے کوئی ناگوار اطلاع ملی تو پھر میرے ہاتھوں تمہیں زندگی سے ہاتھ دھونے پڑیں گے۔ اب اگلا فیصلہ آپ خود ہی کر لیں۔ جب زیاد بصرہ پہنچ گیا تو اہل کوفہ کے قراء حجر رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہو گئے اور انہوں نے زیاد کے عامل کو مفلوج کر کے رکھ دیا وہ کوئی بھی حکم جاری کرنے اور اسے نافذ کرنے سے بے بس ہو کر رہ گیا۔ اس کی اطلاع ملنے پر زیاد کوفہ واپس آ گیا مگر اس کی کوفہ آمد کے ساتھ ہی حجر رضی اللہ عنہ روپوش ہو گئے اور زیاد تلاش بسیار کے باوجود ان تک رسائی حاصل نہ کر سکا۔

(انساب الاشراف:  جلد 4 صفحہ 270، 271)

جہاں تک زیاد کی پولیس اور حجر بن عدی رضی اللہ عنہ اور ان کے انصار کے درمیان ٹکراؤ پر مبنی تفصیلی روایت کا تعلق ہے تو ان کے ساتھ میری معلومات کی حد تک ابومخنف منفرد ہے۔

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 177، 183)

اسی طرح وہ حجر رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب کے خلاف اہل کوفہ کی گواہی کی تفصیلات سے آگاہ کرنے میں بھی ابو مخنف منفرد ہے۔

.(ایضاً:جلد 4 صفحہ 184 ، 186)