Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حجر بن عدی رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء کے بارے میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا فیصلہ

  علی محمد الصلابی

جب حجر اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کر کے زیاد بن ابیہ کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کا قضیہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیا جائے تاکہ وہ اس بارے میں خود فیصلہ کریں اور ان کا یہ مطالبہ تسلیم کر لیا گیا۔

(ایضاً: جلد 6 صفحہ 187، 188)

حجر بن عدی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فیصلہ کا ذکر کرنے سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان پر عائد کردہ الزامات کا ذکر کر دیا جائے۔ ان الزامات کی تفصیل ابو مخنف کی روایت میں اس طرح وارد ہے: حجر رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف کئی گروہوں کو منظم کیا، امیر المؤمنین کے خلاف جنگ کرنے کے لیے لوگوں کو اکسایا اور خلیفہ کو سرعام سب و شتم کیا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ منصب خلافت کے لیے صرف آل ابو طالب ہی موزوں ہیں۔ مصر پر حملہ آور ہو کر امیر المؤمنین کے عامل کو شہر سے نکال دیا، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کا عذر ظاہر کیا، ان کے لیے رحمت ایزدی کی دعا کی، اپنے دشمنوں اور اپنے اہل حرب سے لاتعلقی اظہار کیا، لوگوں کو بتایا کہ جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ ان کے ساتھیوں کے سرکردہ لوگ ہیں، وہ میرے جیسی رائے کے حامل اور میرے حکم کے پابند ہیں۔

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 188)

جب ان لوگوں کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے انہیں فوراً قتل نہیں کروایا تھا اور نہ ہی ان سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ لاتعلقی اختیار کرنے کا مطالبہ کیا تھا جیسا کہ بعض روایات کا دعویٰ ہے۔

(مرویات خلافت معاویۃ: صفحہ 430)

بلکہ اس کے لیے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے استخارہ کیا۔ اپنے اہلِ مشورہ سے مشاورت کی اور پھر ان کے بارے میں یہ فیصلہ کیا کہ ان میں سے بعض کو قتل کر دیا جائے جبکہ بعض دوسروں کو زندہ چھوڑ دیا جائے۔ اس کی دلیل شرحبیل بن مسلمؒ کی یہ روایت ہے کہ جب حجر بن عدی رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء کو عراق سے لا کر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے انہیں قتل کرنے کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کیا، اس پر بعض لوگوں نے تو اپنی رائے کا اظہار کیا جبکہ کچھ خاموش رہے، جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز ادا کر لی تو خطبہ دینے کے لیے لوگوں میں کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد منبر پر بیٹھے تو اعلان کرنے والے نے اعلان کیا: عمرو بن اسود عنسی کہاں ہیں؟

(مخضرم، ثقہ، عابد، کبار تابعین میں سے ہیں، معاویہ کی خلافت کے ایام میں فوت ہوئے.)

وہ اٹھے اور حمد و ثنا کے بعد فرمایا: ہم اللہ کی طرف سے جس مضبوط قلعہ میں محفوظ ہیں ہمیں اسے ترک کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ اہل عراق کے بارے میں آپؓ کا فیصلہ ہی معتبر ہو گا، اس لیے کہ آپؓ راعی ہیں اور ہم رعیت، ان کی بیماری کے بارے میں آپؓ ہم سے زیادہ آگاہ ہیں اور آپؓ ہی ان کا بہتر علاج کر سکتے ہیں، ہم تو صرف یہی کہنے کے پابند ہیں: 

سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا‌ غُفۡرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيۡكَ الۡمَصِيۡرُ ۞ (سورۃ البقرة آیت 285)

ترجمہ: ہم نے (اللہ اور رسول کے احکام کو توجہ سے) سن لیا ہے، اور ہم خوشی سے (ان کی) تعمیل کرتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ہم آپ کی مغفرت کے طلبگار ہیں، اور آپ ہی کی طرف ہمیں لوٹ کرجانا ہے۔

پھر اعلان کیا گیا کہ ابو مسلم خولانیؒ کہاں ہیں؟ وہ اٹھے اور حمد و ثنا کے بعد کہنے لگے: امیر المؤمنین! جب سے ہم نے تم سے پیار کیا ہے تم سے بغض نہیں رکھا، نہ تمہاری اطاعت قبول کرنے کے بعد تمہاری نافرمانی کی ہے۔ تمہارے ساتھ اکٹھے ہونے کے بعد تم سے جدا نہیں ہوئے اور تم سے بیعت کرنے کے بعد اسے توڑا نہیں۔ اگر تم حکم دو گے تو ہم تمہاری اطاعت کریں گے، اگر ہمیں بلاؤ گے تو تمہاری دعوت پر لبیک کہیں گے۔ پھر عبداللہ بن مخمر شرعبی اٹھے اور اللہ کی حمد و ثنا کرنے کے بعد فرمانے لگے: امیر المؤمنین! اگر تم اس عراقی گروہ کو سزا دو گے تو درست کرو گے اور اگر معاف کر دو گے تو احسان کرو گے، اس کے بعد عبداللہ بن اسد قسری کو آواز دی گئی تو انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا کرنے کے بعد فرمایا: امیر المؤمنین! ہم تمہاری رعیت اور تمہارے اطاعت گزار ہیں۔ اگر آپ انہیں سزا دیں گے تو یہ اس کے سزا وار ہیں اور اگر معاف کر دیں گے تو معاف کرنا تقویٰ سے قریب تر ہے۔ ہمارے بارے میں کسی ایسے ظالم کی بات نہ ماننا جو رات بھر سویا رہتا ہے اور آخرت کے علم سے اکتایا رہتا ہے۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 434، نقلاً عن تاریخ دمشق: جلد 4 صفحہ 271)

میں نے شرحبیل سے پوچھا: 

(اس کے قائل اسماعیل بن عیاش ہیں)

ان لوگوں کے ساتھ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کیا سلوک کیا؟ اس نے کہا: بعض کو قتل کر دیا اور بعض کو زندہ رکھا۔ مقتولین میں حجر بن عدی رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔

(احمد بن حنبل: المسائل، ان کے بیٹے صالح کی روایت: جلد 2 صفحہ 328، 331)

حجر رضی اللہ عنہ نے قتل ہونے سے قبل دو رکعت نماز ادا کرنے کی درخواست کی تو انہیں چھوڑ دیا گیا۔ انہوں نے وضو کیا پھر دو رکعت نماز ادا کی اور اسے لمبا کیا۔ ان سے پوچھا گیا: بڑی لمبی نماز پڑھی ہے کیا پریشان ہو گئے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے اس سے ہلکی نماز کبھی نہیں پڑھی اور اگر میں گھیرا بھی گیا ہوں تو اپنی آنکھوں سے سونتی ہوئی تلوار، کھلا کفن اور کھودی گئی قبر دیکھ رہا ہوں۔ مقتولین کے ورثاء ان کے لیے کفن لے کر آئے، ان کی قبریں تیار کیں اور انہیں دفنا دیا۔

ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب حجر رضی اللہ عنہ کو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو انہوں نے امیر المؤمنین کہہ کر انہیں سلام کہا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: کیا میں امیر المؤمنین ہوں؟ ان کی گردن اڑا دو، انہوں نے دو رکعت نماز پڑھی اور اپنے گھر والوں سے فرمایا: میری بیڑیاں نہ کھولنا، میرے جسم سے خون صاف نہ کرنا اس لیے کہ میں معاویہ کو راستے پر ملنے والا ہوں۔

( سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 465)

ابن العربیؒ حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کے قتل کے ضمن میں رقمطراز ہیں:  انہوں نے فتنہ کھڑا کرنے کے لیے لوگوں کو اکسایا جس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں ان لوگوں میں شمار کیا جو زمین میں فساد برپا کرنے کے لیے کوشاں ہوتے ہیں۔

(العواصم من القواصم: صفحہ 220)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حجر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ فیصلہ کرتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پر اعتماد کیا: ’’جب تم لوگ کسی ایک آدمی پر متفق ہو اور اس دوران تمہاری جمعیت کو پارہ پارہ کرنے کے لیے کوئی شخص تمہارے پاس آئے تو اسے قتل کر دو۔‘‘

(صحیح مسلم بمع شرح نووی:  جلد 12 صفحہ 242)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا ارشاد ہے: ’’کچھ سنگین قسم کے واقعات سامنے آئیں گے، جو شخص میری امت کی وحدت کو پارہ پارہ کرنا چاہے وہ جو کوئی بھی ہو اس کی تلوار سے گردن اڑا دو۔‘‘

(ایضاً: جلد 12 صفحہ 241 )

اس جگہ یہ امر پیش نظر رہے کہ اگر حجر بن عدی رضی اللہ عنہ قومی معارضہ تک محدود رہتے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان کے قتل کا فیصلہ نہ کرتے۔ اس پر مسور بن مخرمہ و دیگر کے گزشتہ واقعات دلالت کرتے ہیں۔

( مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 435)