Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کے قتل کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا مؤقف

  علی محمد الصلابی

حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کے قتل کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مؤقف کے بارے میں وارد روایات مبالغہ آمیزی پر مبنی ہیں۔ بعض روایات بتاتی ہیں کہ جب 51 ھ میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کے لیے گئے تو انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو سرزنش کی۔ اسی طرح ان کی طرف سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو جنگ کی دھمکی کی روایت بھی مبالغہ پر مبنی ہے۔

(ایضاً: صفحہ: 438)

ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ روایات صحیح نہیں ہیں۔ ان کے حقیقی مؤقف کی عکاسی ابن ابی ملیکہ کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی اجازت لینے کے لیے آئے تو انہوں نے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ ذکوان نامی سیدہ  عائشہ رضی اللہ عنہا کا غلام باہر آیا تو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مجھ سے ناراض ہیں مجھے ان کے پاس پہنچا۔ ذکوان نے اس کے لیے ان سے اصرار کیا تو انہوں نے اس کی اجازت دے دی۔ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو کہنے لگے: امی جان! اللہ تم پر رحم فرمائے، آپ مجھ سے ناراض کیوں ہیں؟ انہوں نے فرمایا: اس لیے کہ تم نے حجر اور ان کے ساتھیوں کو قتل کروا ڈالا۔ اس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: جہاں تک حجر اور ان کے ساتھیوں کا تعلق ہے تو مجھے ایک ایسے فتنہ کا خوف دامن گیر ہوا جس میں خون بہائے جاتے اور حرمتیں پامال کی جاتیں۔ آپ اس بات کو جانے دیں اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: و اللہ! میں نے تجھے چھوڑا۔ و اللہ! میں نے تجھے چھوڑا، و اللہ! میں نے تجھے چھوڑا۔

(تاریخ دمشق: جلد 4 صفحہ 273، 274)

دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا: کیا تم نے حجر کو قتل کر دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ام المؤمنین! میں نے لوگوں کی بہتری کے لیے ایک آدمی کے قتل کو ان میں فساد برپا کرنے کے لیے باقی چھوڑنے سے بہتر سمجھا۔

(ایضاً: جلد 4 صفحہ 273، نقلاً عن مرویات معاویۃ: صفحہ 440)