حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کے قتل پر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ندامت
علی محمد الصلابیمروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشامؓ کو حجر اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں بات کرنے کے لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا۔ جب عبدالرحمٰنؓ ان کے پاس پہنچے تو وہ انہیں قتل کر چکے تھے، اس پر عبدالرحمٰنؓ نے ان سے کہا: تم سے ابوسفیانؓ کا حلم و حوصلہ کہاں غائب ہو گیا؟ انہوں نے جواب دیا: وہ اس وقت سے غائب ہوا جب سے میری قوم میں سے تم جیسے حلیم الطبع لوگ غائب ہو گئے۔
(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 195)
اس روایت کے تحت امام ذہبیؒ فرماتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حجر رضی اللہ عنہ کے قتل پر نادم ہوئے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 465)
اگرچہ حجر اور ان کے ساتھیوں کو قتل کرنے کے کئی جواز بتائے جاتے اور اس کے لیے کئی عذر پیش کیے جاتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی غلطی تھی۔ انہیں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ایک صحابی کے لیے وسیع ظرفی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ اس غلطی کا انہیں بعد میں شدید احساس ہوا اور وہ اس پر زندگی بھر ندامت کا اظہار کرتے رہے۔
(العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 116)
مروی ہے کہ انہوں نے اپنی موت کے وقت کہا: ابن ادبر (حجر بن عدی رضی اللہ عنہ ) کے حوالے سے میرا دن بڑا طویل ہو گا۔
( تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 196)