Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مالک بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ کا مؤقف

  علی محمد الصلابی

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں مالک بن ہبیرہ سکونی رضی اللہ عنہ کی سفارش بھی قبول نہیں کی تھی۔ مالکؓ اپنی قوم کے لوگوں کو ساتھ لے کر انہیں اور ان کے ساتھیوں کو رہائی دلانے کے لیے روانہ ہوئے تو ان کی حجر رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے ملاقات ہو گئی۔ مالک رضی اللہ عنہ نے ان سے اس بارے میں پوچھا، تو انہوں نے بتایا کہ انہیں قتل کر دیا گیا ہے۔ پھر اس خبر کی ان کے باپ عدی سے بھی تصدیق ہو گئی۔ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان کی آمد سے مطلع کیا گیا تو انہوں نے کہا: یہ ایک تپش ہے جو وہ اپنے جی میں پاتے ہیں اور گویا کہ میں اسے ٹھنڈا کر چکا ہوں، پھر انہوں نے مالک کے پاس ایک لاکھ درہم بھجوائے اور ساتھ ہی یہ پیغام بھیجا کہ مجھے یہ خوف دامن گیر ہوا کہ حجر لوگوں کو دوبارہ جنگ میں جھونک دیں گے جس کی وجہ سے مسلمانوں پر ان کے قتل سے بھی بھاری مصیبت ٹوٹتی، جس سے وہ مطمئن ہو گئے۔

(تاریخ ابن خلدون: جلد 3 صفحہ 17)

مالک بن ہبیرہ سکونی رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی تھے جنہیں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حمص کا والی مقرر کیا تھا۔ سیدنا معاویہؓ مالکؓ کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ میں نے مالک بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کسی کو مسلمانوں کا خیر خواہ نہیں دیکھا۔

(اثر الحیاۃ السیاسیۃ فی الدولۃ االامویۃ: صفحہ 271۔ الطبقات الکبری: جلد 7 صفحہ 420)

حجر بن عدی اور ان کے رفقاء کے قضیہ کے علاوہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہمیشہ اپنی پرامن حکمت عملی کی نگہداشت کی جو کہ رعایا کے حوالے سے حلم و حوصلہ اور وسیع ظرفی پر مبنی تھی۔ وہ اپنی اس حکمت عملی کا چند جملوں میں اس طرح اظہار کرتے ہیں: جس جگہ کوڑا کافی ہو میں وہاں تلوار استعمال نہیں کرتا، اور جہاں میری زبان کام دے جائے میں وہاں کوڑا استعمال نہیں کرتا۔ اگر میرے اور لوگوں کے درمیان تعلقات کا ایک بال بھی باقی رہ جائے تو وہ ٹوٹ نہیں پائے گا، اگر وہ اسے کھینچیں گے تو میں اسے ڈھیلا کر دوں گا اور جب وہ اسے ڈھیلا کریں گے تو میں اسے کھینچ لوں گا۔

(السلطان لابن قتیبۃ: صفحہ 51)

یہ ایک حکیمانہ اور دانش مندانہ سیاست ہے جس میں حدود کے اندر رہ کر بات کرنے کی کھلی آزادی ہوتی ہے۔ جب زبان کی جگہ مال کفایت کرتا تو معاویہ رضی اللہ عنہ اس پر اعتماد کرتے۔ جس جگہ زبان سے کام نکلتا وہ اس جگہ کوڑا استعمال نہ کرتے اور جہاں کوڑا کام نکال سکتا وہاں تلوار استعمال نہ کرتے۔

(السّلطہ و المعارضۃ فی الاسلام، زہیر ہواری: صفحہ 262)

ایک دفعہ زیاد کا آزاد کردہ غلام سلیم سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں زیاد پر فخر کرنے لگا تو انہوں نے فرمایا: خاموش ہو جا تیرا مرحب (زیاد) تلوار سے بھی وہ چیز حاصل نہیں کر سکتا جس سے کہیں زیادہ میں زبان سے حاصل کر لیتا ہوں۔

( السلطان لابن قتیبۃ صفحہ 53)