Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

روزانہ مجلس

  علی محمد الصلابی

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہر روز پانچ دفعہ منظر عام پر آتے صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد قصہ گو لوگوں کے پاس بیٹھتے ان سے فارغ ہو کر اندر جاتے اور قرآن مجید کی تلاوت کرتے، پھر گھر جاتے، امر و نہی کا فریضہ سر انجام دیتے، پھر چار رکعت نماز ادا کرتے اور اس کے بعد اپنی مجلس میں تشریف لے آتے۔ اپنے مقربین کو اپنے پاس بلاتے اور ان سے ضروری بات چیت کرتے، اس دوران ان کے وزراء ان سے ملاقات کے لیے آتے اور دن بھر کے معاملات کے بارے میں ان سے گفتگو کرتے، پھر ناشتہ کرتے اور بعد ازاں دیر تک بات چیت کا سلسلہ جاری رکھتے، پھر جب چاہتے گھر جاتے اور جب باہر آتے تو اپنے غلام کو کرسی لانے کا حکم دیتے اور مقصورہ کی طرف کمر کر کے بیٹھ جاتے ان کے پہرے دار اپنی اپنی جگہ پر کھڑے ہو جاتے، ضرورت مند عورتیں، بچے، بوڑھے اور اعرابی سیدنا امیر معاویہؓ کے سامنے پیش ہو کر اپنے اپنے مسائل اور مشکلات بیان کرتے اور آپؓ ان کی داد رسی کے لیے الگ الگ احکام جاری کرتے، جب تمام سائلین واپس چلے جاتے تو بااثر لوگوں کو ملاقات کے لیے بلاتے، وہ انہیں سلام کہتے ہوئے اندر آتے اور ان کے سلام کا جواب دیتے، پھر جب وہ مجلس میں بیٹھ جاتے تو سیدنا امیر معاویہؓ فرماتے: تمہیں شرفاء اس لیے کہا جاتا ہے کہ تم لوگوں کو دوسروں سے ہٹ کر اس مجلس میں شرکت کا شرف بخشا گیا ہے، جو لوگ ہم تک نہیں پہنچ سکتے ان کے مسائل سے ہمیں آگاہ کیا کرو، اس پر ایک آدمی اٹھ کر کہتا کہ فلاں شخص شہید ہو گیا ہے۔ سیدنا امیر معاویہؓ فرماتے کہ اس کے بچوں کا وظیفہ مقرر کر دو۔ دوسرا بتاتا کہ فلاں شخص اپنے اہل و عیال سے بہت دور ہے۔ سیدنا امیر معاویہؓ فرماتے ان کی ضروریات پوری کرو اور ان کی خدمت کرو، پھر کھانا لایا جاتا اور ادھر سے ان کا کاتب بھی آ جاتا، لوگ آتے جاتے، کھانا تناول کرتے اور امیر المؤمنین کے سامنے اپنی اپنی درخواستیں پیش کرتے، کاتب انہیں پڑھتا اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی دادرسی کے لیے موقع پر احکام جاری کرتے جاتے یہاں تک کہ وہ سب لوگوں سے فارغ ہو جاتے، اس دوران کئی کئی لوگ آپ کے دسترخوان سے سیرشکم ہو کر کھانا کھاتے اور پھر واپس لوٹ جاتے۔ پھر سیدنا امیر معاویہؓ گھر تشریف لے جاتے، ظہر کی اذان ہونے پر باہر آتے، نماز ادا کرتے اور پھر خاص الخاص لوگوں کو ملاقات کی اجازت دیتے اور موسم کے مطابق مأکولات و مشروبات سے ان کی تواضع کرتے، اس دوران وزراء بھی ملاقات کرتے اور باقی ماندہ دن کی ضروریات کے لیے ان سے مشاورت کرتے اور یہ سلسلہ نماز عصر تک جاری رہتا، عصر کی نماز کے بعد گھر تشریف لے جاتے، غروب آفتاب سے کچھ دیر پہلے باہر آتے، پھر اپنے تخت پر بیٹھ جاتے اور لوگوں کو ان کے مراتب کے مطابق ملاقات کی اجازت دیتے۔ پھر رات کا کھانا لایا جاتا جس سے نماز مغرب تک فارغ ہو جاتے۔ پھر نماز مغرب ادا کرنے کے بعد چار رکعت نوافل ادا کرتے جن میں سے ہر رکعت میں پچاس آیات کی تلاوت کرتے، پھر گھر تشریف لے جاتے یہاں تک کہ عشاء کی اذان دی جاتی۔ اذان کے بعد باہر آتے، نماز عشاء ادا کرتے اور پھر اپنے مقربین، وزراء اور حاشیہ برداروں سے ملاقات کی غرض سے بیٹھ جاتے۔ وزراء سیدنا امیر معاویہؓ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور آغاز شب کے ضروری امور کے لیے آپ سے مشورہ کرتے۔ سیدنا امیر معاویہؓ ایک تہائی رات تک عرب و عجم کے اخبار و ایام، ان کے حالات و واقعات، ان کے بادشاہوں، ان کی سیاست، مختلف اقوام کے عادات و اطوار، رعایا کے بارے میں ان کی سیاسی حکمت عملی اور ان کی جنگوں کے بارے گفتگو کرتے، پھر ان کے اہل خانہ کی طرف سے ان کے پاس حلوہ وغیرہ پر مشتمل ہلکے پھلکے کھانے بھجوائے جاتے اور پھر سونے کے لیے گھر تشریف لے جاتے۔ رات کے دوسرے ثلث تک نیند لیتے اور پھر رات کے آخری ثلث میں مختلف بادشاہورں کی سیرت و کردار، ان کی جنگوں اور ان کی قومی اور ملکی خدمات و سیاست پر مشتمل کتابیں انہیں پڑھ کر سنائی جاتیں۔ انہوں نے اس کے لیے کچھ غلاموں کا تقرر کر رکھا تھا جو اس قسم کا مواد پڑھتے، اسے یاد کرتے اور پھر انہیں سنایا کرتے تھے، اس طرح ہر رات انہیں اخبار و سیر اور آثار امم پر مشتمل مواد سننے کو ملتا۔ صبح کی نماز کا وقت ہوتا تو نماز ادا کرتے اور پھر گزشتہ دن کی طرح یہ دن بھی گزار دیتے۔ اگرچہ ان کے بعد عبدالملک بن مروانؒ وغیرہ نے ان کے اس طریقہ کار کی پیروی کی مگر وہ ان جیسے حلم و حوصلہ، اتقان سیاست اور معاملات تک رسائی جیسے اوصاف سے عاری تھے، وہ لوگوں کے حسب مراتب ان کی خاطر و مدارات کرنے اور شفقت و رحمت سے کام لینے کی خوبیوں سے بھی تہی دامن تھے۔

(اشہب اللامعۃ فی السیاسۃ النافعۃ: صفحہ 309، الشہب اللامعۃ: صفحہ 310، 311۔ مروج الذہب: جلد 3 صفحہ 220، 222)