Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ماتحت مرکزی دواوین

  علی محمد الصلابی

الف: دیوان رسائل: یہ ادارہ خلیفہ کے خطوط، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ماتحت مرکزی دواوین: احکام، عہود، وصایا اور دیگر سرکاری دستاویزات کی نگرانی کا فریضہ سر انجام دیتا تھا جو اقالیم اسلامیہ میں ان کے ملازمین اور عہدے داروں اور ان بیرونی شہروں سے متعلق ہوتے جن کا مملکت اسلامیہ کے ساتھ کوئی تعلق ہوتا۔

(ادارۃ بلاد الشام فی العہدین الراشدی و الاموی: صفحہ 124)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں دیوان رسائل کے مشہور نگرانوں اور کاتبوں میں عبداللہ بن اوس غسانی اور زمل بن عمرو عذری کے نام سرفہرست ہیں۔ یہ دونوں کاتب یزید اول کی حکومت کے دوران بھی کتابت کا فریضہ سر انجام دیتے رہے۔

(ایضاً، صفحہ 156)

یہ دیوان امراء، فوجی کمانڈروں، قاضیوں اور ان قبائل کے زعماء سے رابطہ کا موثر ذریعہ تھا جو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے تابع تھے اور ان کی براہ راست نگرانی میں مختلف امور سرانجام دیا کرتے تھے۔

ب: دیوان الخاتم: اس دیوان کے قیام کا مقصد سرکاری احکامات و خطوط کو خائن اور جعل ساز قسم کے لوگوں سے بچانا 

(الدولۃ الامویۃ المفتری علیہا: صفحہ 433)

اور محفوظ طریقہ سے متعلقہ لوگوں تک پہنچانا تھا، دار الخلافہ اور مملکت اسلامیہ کے صوبوں کے درمیان آمدن و اخراجات کے حسابات سے متعلق احکامات و مراسلات کی تحقیق کے لیے حکومت اس دیوان پر اعتماد کرتی تھی۔

(ادارۃ بلاد الشام: صفحہ 170)

مزید برآں دیوان دوسرے محکمہ جات اور ان کے جاری کردہ احکامات کی نگرانی کرتا اور ان میں پائی جانے والی غلطیوں کی نشاندہی کرنا بھی اس کے فرائض میں شامل تھا۔ یہ دیوان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدینؓ کی مہر سے یکسر مختلف تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر کا مطلب مہر کے ساتھ دستخط کرنا تھا، جبکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور اموی دور حکومت کا یہ دیوان دیگر دواوین کے جاری کردہ اعمال و احکام کی تحقیق و تفتیش کی مشینری کی حیثیت رکھتا تھا۔سیدنا امیر  معاویہ رضی اللہ عنہ کی سرکاری مہر کے انچارج عبداللہ بن محصن حمیری تھے اور یہ مہر بنوانے کا سبب یہ بنا کہ ایک دفعہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرو بن زبیر رضی اللہ عنہما کی مدد اور اس کے قرض کی ادائیگی کے لیے ایک لاکھ درہم دینے کا حکم جاری کیا اور اس کے لیے عراق کے گورنر زیاد بن ابیہ کے نام خط لکھا، مگر عمرو بن زبیر رضی اللہ عنہما نے جعل سازی کرتے ہوئے ایک لاکھ کو دو لاکھ میں تبدیل کر دیا۔ زیاد نے اس رقم کی ادائیگی کر دی مگر جب اس کا حساب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے اس پر اعتراض لگا دیا، جس پر زیاد نے اسے گرفتار کروا کر اس سے رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا جس کی ادائیگی اس کی طرف سے اس کے بھائی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کی۔ اس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دیوان الخاتم کا محکمہ قائم کیا اور خطوط کو سیل بند کیا جانے لگا جبکہ قبل ازیں یہ طریقہ مروج نہیں تھا۔

(الادارۃ فی العصر الاموی: صفحہ 287، مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 75)

درحقیقت دیوان خاتم قائم کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں دولت اسلامیہ کی جغرافیائی حدود میں بڑی وسعت ہو گئی تھی اور خلیفہ کو اپنے عمال، قائدین اور حکومتی اہلکاروں کے ساتھ پرامن انداز میں خفیہ روابط کی شدت سے ضرورت محسوس ہونے لگی تھی۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 76)

ج: دیوان البرید: مؤرخین کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ میں سب سے پہلے دیوان البرید (محکمہ ڈاک) قائم کرنے کا سہرا سیدنا معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہما کے سر ہے، ان کے حکم سے متعدد مقامات پر تیز رفتار گھوڑے ہر وقت تیار رہتے تھے جنہیں سرکاری اہل کار مختلف خبریں اور سرکاری احکامات و خطوط ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کے لیے استعمال کیا کرتے۔

(ادارۃ بلاد و شام: صفحہ 174)

بعض مصادر اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انہوں نے یہ چیز رومیوں سے اخذ کی۔

(ایضاً: صفحہ 174)

چونکہ ان کے زمانہ خلافت میں دولت اسلامیہ کا دائرہ وسیع ہو گیا تھا اور اس تناسب سے ان کے اعمال میں بھی وسعت اور تنوع آ گیا تھا، لہٰذا اس محکمہ کے قیام کی شدید ضرورت محسوس کی جانے لگی، پھر اموی خلفاء نے مواصلات کے راستوں کو بہتر بنایا، یہ راستے واضح بھی تھے اور سبھی کے علم میں بھی۔ ان راستوں کی عمدگی کی دلیل یہ ہے کہ مختلف علاقوں سے مختلف خبریں بڑی سرعت کے ساتھ شام میں قائم دار الخلافہ میں پہنچ جاتیں۔

(ایضاً: صفحہ 175)

محکمہ ڈاک صرف سرکاری خدمات ہی سرانجام نہیں دیتا تھا بلکہ بعض اوقات لوگوں کے خطوط بھی ایک شہر سے دوسرے شہر تک پہنچانے کی ذمہ داری نبھایا کرتا تھا۔

(ایضاً: صفحہ 175)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں حکومت امن اور جنگ دونوں طرح کے حالات میں اس محکمہ سے فائدہ اٹھاتی جس کے ملازم اعلیٰ کا ان کے اعوان و انصار میں شمار ہوتا تھا۔ نصر بن زبیان اور کمیت کا نام اس محکمہ کے ملازمین کے طور سے لیا جاتا ہے۔ یہ دونوں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ایام میں شام اور حجاز کے درمیان خبروں کی ترسیل کے ذمہ دار تھے۔

(ایضاً: صفحہ 176)

اس وقت حرکت و نقل کے اہم وسائل (ایضاً: صفحہ 176) خچر اور گھوڑے تھے۔

(العیون و الحدائق: جلد 3 صفحہ 82، ادارۃ بلاد الشام:  صفحہ 176)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو اسلام میں اس محکمہ کے بانی کی حیثیت حاصل ہے۔ قبل ازیں خلیفہ کے خطوط قاصد کے ذریعے بھیجے جاتے تھے جنہیں وہ خود ہی متعلقہ لوگوں تک پہنچایا کرتا اور پھر خود ہی انہیں پڑھ کر سنایا کرتا اور اس کے لیے ایک طویل عرصہ درکار ہوتا۔ جبکہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا بیزنطیوں سے اخذ کردہ نظام ہر اس امر کا متقاضی تھا کہ راستوں پر منزلیں مقرر کر دی جائیں ہر منزل پر تیز رفتار گھوڑے ہر وقت تیار کیے جائیں اور انہیں استعمال کرتے ہوئے سرکاری اہل کار خلیفہ کے خطوط مختصر مدت میں مختلف مقامات پر متعلقہ لوگوں تک پہنچائیں اور عملاً یہی کچھ کیا گیا۔ دو منزلوں کی درمیانی مسافت تقریبا بیس کلومیٹر ہوا کرتی تھی جسے برید کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا چونکہ سرکاری اہل کار منزل بمنزل تبدیل ہوتے رہتے تھے، لہٰذا اس مسافت کو بڑی آسانی کے ساتھ طے کر لیا جاتا۔

(الامویون بین الشرق و الغرب: جلد 1 صفحہ 100)

ابو ہلال عسکری رقم طراز ہیں: اسلام میں برید کا آرام دہ اور اہم نظام معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما نے وضع کیا جسے عبدالملکؒ نے مزید مستحکم کیا۔

(الاوائل: صفحہ 237)

س: نظام کاتبین: اس دور میں متعدد دیوان تھے اور ہر دیوان کا ایک کاتب (سیکرٹری) ہوا کرتا تھا۔ دیوان رسائل کا کاتب الگ تھا اور دیوان خراج کا الگ، صیغہ آرمی کا کاتب اپنا تھا اور صیغہ پولیس کا اپنا، اسی طرح دیوان قضاء کا بھی ایک کاتب تھا، خلیفہ جو حکم جاری کرتا اسے سیل بند کر کے دیوان خاتم کے سپرد کر دیا جاتا اور پھر اس پر صاحب دیوان کی مہر ثبت کر دی جاتی۔

(تاریخ الاسلام: جلد 1 صفحہ 458)

عہد معاویہ رضی اللہ عنہ سے لے کر عہد عباسی کے وسط تک دیوان خاتم سب سے بڑا اور اہم دیوان تھا۔

(ایضاً: جلد 1 صفحہ 459)

یہ مختلف دواوین وزارت مال، (دیوان الخراج) وزارت دفاع (وزارت الجند)، وزارت داخلہ (دیوان شرطہ) وزارت عدل (وزارۃ القضاء) کی ذمہ داریاں ادا کرتے، دیوان رسائل سیکرٹیریٹ اور دیوان خاتم نقول تیار کرنے اور انہیں سنبھال کر رکھنے کا ذمہ دار تھا اور ہر دیوان کے ملازمین بڑے بڑے ماہر کاتبین ہوا کرتے تھے۔ دیوان خراج عراق میں فارسی زبان میں کام کرتا جبکہ شام اور مصر میں رومی زبان میں، یہ معاملہ اسی طرح ہی چلتا رہا یہاں تک کہ عبدالملک بن مروانؒ نے ان کی زبان عربی کر دی۔

 (الامویون بین الشرق و الغرب: جلد 1 صفحہ 102)